کالم

TikTokاور عورت کی حرمت

نوشابہ شہباز چیمہ

میں اکثر اوقات حلات حاضرہ دیکھنےکے لیے tiktok ویڈیوز دیکھتی ہوں وہ بھی اس لیےکہ آج کل کے معاشی و سیاسی، سماجی حالات کا پتا چلتا رہتا ہے کہ کیا چل رہاہے پوری 1 گھنٹے کے خبرنامہ کانچوڑ مل جاتاہے کچھ منٹوں میں ۔آج میں نے کچھ ویڈیوز دیکھیں tiktok پر جن کو دیکھنے کےبعد مجھے احساس ہوا کہ ہمارے معاشرےکو کیا سکھایا جا رہا ہے ہر گھر کی بیٹی ناچ رہی ہے کوئی اپنے کچے مکان میں تو کوئی 1.5 کروڑ کی گاڑی کے سامنے ۔یہ کس راستے پر چل پڑا ہمارا معاشرہ ۔ حکومت نے بازار حسن کو ختم کیا اور مختلف Apps نے 68 فیصد گھروں کی ردا اتروا دی ۔ہمیں بھول گیا کہ دوپٹہ محافظ ہے عزتوں کا۔ نجانے کیوں اس کو گلے کا پھندہ سمجھ کر اتار پھینکا ۔ہمارےمعاشرے کی فیشن میں ڈوبی ہوئی اور جہالت کے لبادہ میں لپٹی ہوئی عورتوں نے خود کو پڑھا لکھا طبقہ ثابت کرنے اس دلدل میں پھنس کر اپنی عزت بھول گئی۔ مجھے یاد ہے آج سے کچھ ماہ پہلے میں نے اپنے ہی دفتر میں دوپٹہ اوڑھنے کو اچھا کہا تو کچھ جہالت میں ڈوبی ہوئی
عو رتوں نے میرے برقعہ پہننےپر تنقید کی اور بھی بہت کچھ کہا گیا ۔مگر ہر اچھی عورت نے مجھے کہا کہ میں ٹھیک کہہ رہی ہوں۔ دوپٹے پر اعتراض بس ان کو تھا جو غفلت میں مبتلا تھی۔ بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کی غلط سمت چلنے والی عورتوں کو اصلاح کی بات برداشت نہیں ہوتی ۔ خود کو نہیں سمیٹتیں بعد میں سارا ملبہ انہوں نے مرد پر ڈال دینا ہوتا ہےکہ مرد نے چھیڑا ، جب قصور انکا اپنا ہوتا ہے۔ مردوں کی بات چل نکلی ہے تو آج ہمیں مردوں کے حق کے لیے آواز بلند کرنی چاہئے ۔ یہ ہرگھر کی کہانی ہے کہ بیوی اپنے شوہر کو کہتی ہے کہ تم نے میرے لیے کیا کیا ۔
میں ان خواتین سے پوچھنا چاہتی ہوں کیا آپ کھانا کھا کر نہیں سوتی ؟ ۔ ذرا سوچئے مرد حضرات پورا دن گھر سے باہر رہ کر سردی گرمی کی شدت کو بھول کر محنت کرتے ہیں کوئی مزدور ہے یا کسی عہدے پر فائز افسر ۔محنت سب کرتے ہیں گھر میں بیٹھے انٹرنیٹ استعمال کرنا ۔ پنکھے یا اے سی کی سہولت۔ اس نے تو خود گھر سے باہر رہنا ہوتا ہے، ضرورت زندگی کی ہر چیز مہیا کرتا ہے اور کام کرتا کرتا قبر تک چلا جاتا ہے ۔
آخری سانس تک ذمہ داریاں نہیں ختم ہوتی ۔
بچے جیسے ماں کو دیکھتے ہیں تو ان کے خیال کے مطابق ماں مظلوم اور باپ ظالم ہوتا ہے ۔ سب سے زیادہ معاشرے کو تباہ کرنے میں ہمارے ڈرامہ نگاروں کا ہاتھ ہے جنہوں نے عورت کو مظلوم اور مرد ظالم ثابت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔میاں بیوی کے رشتے کے تقدس کو پامال کر دیا گیا ۔
یہی وجہ ہے کہ طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے ۔
لوگ حالات سے تنگ آ کر خود کشی کر رہے ہیں ۔ اگر اسےنہ روکا گیا تو ہر گھر کے بزرگ old houses. میں گھر کی عزت کلبوں میں اور بیٹے نشے میں دھت سڑک پر ملیں گے ۔ہمیں خود کو خود بچانا ہے اپنے گھر کے لیے اپنے ملک کے لئے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو راہ راست پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے امین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex