پاکستانسیاست

IMFچاہتا پاکستان سری لنکا بنے پھر مذاکرات کریں،عالمی مالیاتی ادارہ بلیک میل کررہا:وزیر خزانہ

پاکستان کا بیرونی خسارے کا گیپ صرف 3 ارب ڈالر ہے، آئی ایم ایف 6 ارب ڈالر پر رکا ہوا جو غلط ہے،مالیاتی ادارہ اگر پاکستان کے بقایا 2 ارب ڈالر کھا گیا تو یہ افسوس ناک ہوگا آئی ایم ایف چاہتا ہے ہم کسی شعبے میں بالکل ٹیکس استثنیٰ نہ دیں،ہمیں بیرونی اخراجات اپنی چادر کے اندر رہ کر کرنے چاہئیں ، ہم نے کرنسی کی اسمگلنگ کو ہر صورت روکنا ہے :قائمہ کمیٹی میں گفتگو

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر،نیوزایجنسیاں)وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ جیو پولیٹکس ہورہی ہے، پاکستان کو اس سطح پر لایا جارہا ہے کہ ہم سری لنکا بنیں، ڈیفالٹ کریں اور پھر مذاکرات کریں لیکن ہم سری لنکا نہیں ہیں۔سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں اراکین کمیٹی کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا ہمارے خلاف جیو پولیٹکس ہو رہی ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ کر جائے اور پھر مذاکرات کیے جائیں مگر پاکستان سری لنکا نہیں ہے، آئی ایم ایف ہو یا نہ پاکستان کو کچھ نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی ہربات نہیں مان سکتے، پاکستان خود مختار ملک ہے ہمیں ملکی مفادات کو دیکھنا ہے، آئی ایم ایف کے کہنے پر نوجوانوں کو آئی ٹی میں رعایت دینے پر پابندی عائد نہیں کرسکتے، اگر آئی ٹی میں روزگار نہ بڑھائیں گے تو کیا 0.29 فیصد شرح نمو پر رہیں؟اسحاق ڈار نے کہا کہ آئی ٹی کی ترقی سے نوجوانوں کو روزگار دینا چاہتے ہیں، اس سال آئی ٹی برآمدات 2.5 ارب ڈالر رہیں گی، آئندہ سال آئی ٹی کی برآمدات 4اعشاریہ 5 ارب ڈالر تک پہنچانا چاہتے ہیں، آئی ٹی کی برآمدات کو اگلے 5 سال میں 15 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف ہے۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے آئی ایم ایف کی حالیہ بیان بازی پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف چاہتا ہے ہم کسی شعبے میں بالکل ٹیکس استثنیٰ نہ دیں، بطور خودمختار ملک ہمیں اتنا حق تو ہونا چاہیے کہ کچھ ٹیکس چھوٹ دیں، ہمیں پتا ہے کہاں سے کتنا ٹیکس اکٹھا کرنا ہے، 7200 ارب سے ٹیکس ہدف بڑھاکر 9200 ارب روپے رکھا ہے، یہ ہدف ٹیکس چھوٹ کے علاوہ ہے، ٹیکس چھوٹ والے شعبوں سے کوئی بجٹ نہیں آ رہا، آئی ایم ایف کو اس پر اعتماد میں لیں گے۔انہوں نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ایکٹ میں ترامیم کی گئیں وہ ناقابل برداشت ہیں، اسٹیٹ بینک ایکٹ میں ترامیم کی ہیں لیکن ابھی مکمل نہیں ہوئی ان کا کہنا تھا اسٹیٹ بینک پاکستان کا بینک ہے کسی عالمی ادارے کا نہیں ہے، اسٹیٹ بینک ایکٹ میں ایسی ترامیم ہوئیں جو ریاست کے اندر ریاست کوظاہر کرتی ہیں، یہ ترامیم اسٹیٹ کے اندر اسٹیٹ کی طرف لے گئیں۔اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ آج اخبارات میں چھپا ہے کہ آئم ایف نے بجٹ میں دی گئی چھوٹ پر اعتراض کیا ہے، ہم نے ان شعبوں کو سہولیات دی ہیں جو گروتھ کا باعث بنتے ہیں، گروتھ ہوگی تو معیشت کا پہیہ چلے گا، ہمیں ایک خودمختار ملک ہونے کے ناطے اتنی اپنی مرضی کرنے کی اجازت تو ہونی چاہیے، ہم بطور ملک بہت آہستہ چل رہے ہیں۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ فری لانسر کیلئے ایک صفحہ کی ٹیکس ریٹرن متعارف کروائی گئی ، اس کے علاوہ فری لانسر کو بہت سی سہولیات دی گئی ہیں۔اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ آئی ٹی سیکٹر کیلئے پیکج سامنے رکھ لیں اگر مزید گنجائش موجود ہے تو کریں گے، فری لانسر کیلئے کچھ مزید تجاویز کا جائزہ لینے کیلئے تیار ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمیں بیرونی اخراجات اپنی چادر کے اندر رہ کر کرنے چاہئیں ، بیرونی اکاؤنٹس کو مدنظر رکھتے ہوئے اخراجات کرتے تو ستر ارب سے بڑھ کر ایک سو ارب ڈالر تک نہ جاتے، میں کئی سال سے مالی ڈسپلن کی بات کررہا ہوں، لیکیوڈیٹی کرنچ ہماری پرابلم ہے اس کو حل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، اب ایم ڈی آئی ایم ایف نے ایک دو ہفتے پہلے بیان دیدیا ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں ہورہا۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم نے کرنسی کی اسمگلنگ کو ہر صورت روکنا ہے، اس کیلئے کریک ڈاؤن کرنا ہے، صرف کسٹمز یہ اسمگلنگ نہیں روک سکتا، اسکی اسمگلنگ روکنے کیلئے تمام ایجنسیوں کو مل کر کوشش کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ روس پر جو پابندی لگی ہے تو صرف چین اور انڈیا اس سے آئل لے رہے تھے، جب میں عالمی بینک کے اجلاس میں گیا تو اس وقت امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے نمائندوں سے بات کی کہ اگر چین و انڈیا لے سکتا ہے تو پاکستان کیوں روس سے تیل نہیں لے سکتا، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے نمائندوں نے کہا کہ ہم جی سیون کمیٹی بنارہے ہیں اس کمیٹی کی تجویز کردہ قیمت سے کم پر لینا ہوگا، اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے کہ کمیٹی کی تجویز سے بے شک ایک سینٹ سستا لیں لیکن اگر اس سے زیادہ قیمت پر لیا تو پابندیاں لگ جائیں گے۔اسحاق ڈار نے بتایا کہ اب روس سے پہلا کارگو آگیا ہے اسکی پیمنٹ چائنیز کرنسی میں کرنا ہے، روسی تیل کی ادائیگیاں کوئی ایشوز نہیں ہے، روس سے منگوایا گیا تیل سنگار پور ریٹ سے بہت کم ہے۔وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ نویں اقتصادی جائزہ پر میں نے آئی ایم ایف کو مدعو کیا، لیکن تین ماہ وہ پاکستان نہیں آئے جنوری کو پاکستان آئے، میری کوشش تھی کہ دوسری مرتبہ بھی آئی ایم ایف پروگرام مکمل کرتے، آئی ایم ایف ہو یا نہ ہو پاکستان کو کچھ نہیں ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex