کالم

FIAکی ناں ،اینٹی کرپشن کی ہاں

ریحان مرزا

چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
گزشتہ شب سابق ڈپٹی وزیر اعظم ،سا بق وزیر اعلیٰ پنجاب اور پاکستان تحریک انصاف کے صدر چوہدری پرویز الہٰی کے گھر لاہو ر واقع ظہور الہٰی روڈ ،جو کہ اس سیاسی گھرانے کی نسبت سے کافی مشہور روڈ ہے ،پاکستانی سیاست میں کئی دہائیوں سے متحرک اس سیاسی گھرانے نے سیاسی طور پر کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں ۔مگر ایسا دور اس سیاسی گھرانے پر آج تک کسی مارشل لادور میں بھی دیکھنے کو نہیں ملا جو گزشتہ شب چوہدری پرویز الہٰی کے گھر پر اینٹی کرپشن پنجاب کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل وقاص احمد اور ڈی آئی جی آپریشن لاہور کی سر پرستی میں پنجاب پولیس نے سر انجام دیا ہے ۔چوہدری پرویز الٰہی کے گھر کے افراد اور ان کے کاروباری رفقا کے خلاف گزشتہ سال اپریل سے تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد آنے والے پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت نے بذریعہ ایف آئی اے کے ہر ونگ کو بروئے کار لاتے ہوئے بہت کوششیں کی کہ
پرویز الہٰی اور مونس الہٰی فیملی پرکرپشن ،منی لانڈرنگ سمیت دیگرکئ قسم کے جائز ناجائز کیس بنائے جائیں جس کی وجہ سے ایف آئی اے کےافسران و اہلکاروں پر بہت زیادہ دبائو تھا کہ اس گھر کے افراد اور ان کے قریبی دوستوں پر بھی کیس بنائے جائیں اور گرفتاری عمل میں لائی جائے۔ مگر ایف آئی اے کے اعلیٰ افسران کئی ماہ سے ذہنی دبائو میں مبتلا تھے کہ ہم کس طرح شواہد کے بغیر ان کے خلاف کیس بنائیں ،مگر انہوں نے ہر قسم کے دبائو کے باوجود اس طرح کی کارروائی عمل میں نہ لا کر حکومتی عہدیداروں کا ٹارگٹ پورا نہ کیا ۔مگر یہ ٹارگٹ اینٹی کرپشن پنجاب کو سونپا گیا تو انہوں نے حسب روائت اس کام کو میڈیا کی موجودگی میں ہزاروں اہلکاروں اور ایک بکتر بند گاڑی کی مدد سے صرف ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں سر انجام دے کر اپنی ساکھ کو داغ دار ہونے سے بچا لیا اور اعلیٰ ایوانوں میں بیٹھے ہوئے حکمرانوں کو میڈیا کی بڑی بڑی سکرینوں کے ذریعے دلی تسکین مہیا کرنے کا سامان پیدا کر دیا ۔پاکستان کی سیاست آج اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ گھر کا ہر فرد کسی نہ کسی پارٹی کا ہمدرد ہے جس کو وہ اپنے مطابق درست سمجھتا ہے ،پاکستانی سیاست پر دہایوں سے راج کرنے والے چوہدری برادران ،چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الہٰی کا آپسی اتفاق اور وضع داری کی کوئی مثال نہ ملتی تھی ،بچوں کی وجہ سے پیدا ہونے والی نا اتفاقی نے بڑوںکو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس کی بنا پر دونوں بھائیوں میں سیاسی اختلافات واضح طور پر سامنے آگئے تھے ۔عوامی سطح پر کل والے واقعہ کی دو رائے ہیں جس میں سے ایک رائے یہ ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی کے گھر پر ہونے والے واقعہ میں پی ڈی ایم میں شامل مسلم لیگ ق کے راہنما چوہدر ی سالک اور چوہدری شافع کی ذاتی خواہش بھی سمجھا جا رہا ہے تاکہ وہ مونس الہٰی کو سیاسی طور پر گھٹنوں کے بل گرا کر دلی تسکین حاصل کر سکیں ۔دوسری جانب یہ رائے بھی ہے کہ چوہدری پرویز الہٰی جو ہمیشہ مقتدر حلقوں کے صلاح مشورے سے سیاسی سمت کا تعین کیا کرتے تھے مگر پی ڈی ایم کی حکومت آنے کے بعد انہوں نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب حکومت کو مقتدر حلقوں کی خواہش کے برعکس توڑ کر ان سے ناراضگی مول لے لی ہے جس کی وہ اتنی بڑی قیمت ادا کر رہے ہیں جبکہ راقم اس عوامی رائے سے اتفاق نہیں کرتا ،یادر رہے کہ مقتدر حلقوں کی جانب سے آج بھی گزشتہ کی طرح یہ بیان آنا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ عوام اور افواج کو دشمن آپس میں لڑانے کی سازش کر رہا ہے جبکہ مقتدر حلقوں کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔گزشتہ شب میڈیا کی بڑی سکرینوں پر دیکھے جانے والے مناظر کسی ایکشن فلم کے تو ہو سکتے ہیں مگر پاکستانی جمہوری سیاست کے لیےخطرے کی علامت ہیں ۔جس سے ملک آگے کی بجائے پیچھے جائے گا۔:
اس دیس میں لگتا ہے عدالت نہیں ہوتی
جس دیس میں انسان کی حفاظت نہیں ہوتی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Diyarbakır koltuk yıkama hindi sex