کالم

اتحاد امت کے داعی

منشا قاضی

اتحاد امت پر کام کرنے والے علمائے کرام مولانا عبدالرؤف ملک کے دل کے گلستان کا نمایاں پھول ہیں ۔ وہ ایسے علماء کی تلاش میں رہتے ہیں جن کے وعظ و نصیحت سے دینی ماحول خوشگوار رہے اور اتفاق اور احترام کی فضا معطر رہے ۔ پاکستان میں ہر مکتبہ ء فکر کا ذکر احترام سے کرنے والے پروفیسر شبیر احمد کا کردار جتنا سریع الحرکت ہے اتنا ہی سریع الاثر بھی ہے ۔ مولانا عبدالرؤف ملک کے مزاج آشنا بھی ہیں اور خود بھی رواداری کے پیکر متحرک ہیں ۔ آپ نے ہفتہ وار مجلس ذکر و فکر میں جس ہستی کو مدعو کیا وہ دنیائے علم و فن میں یکتائے روزگار اور اتحاد امت کے داعی ۔ مضبوط خیال اور دلائل و براھین سے آراستہ شخصیت علامہ مفتی غلام اصغر صدیقی مہمان خصوصی کی حیثیت سے اظہار خیال کر رہے تھے ۔ آپ نے اختلاف کو رحمت خدا وندی قرار دیا اور اختلاف کو جھگڑا نہیں بلکہ حسن سے تعبیر کیا ۔ علامہ مفتی غلام اصغر صدیقی کی گفتگو میں دل آویزی اور دلوں میں سیدھی اترنے والی گفتگو کی جستجو میں ہم
سب کی آرزو جاگ رہی تھی ۔ ھمدردانہ رویے اور روادارانہ احساسات و جذبات کی شدت نے دلوں میں گرمئی عمل کی تحریک کو تیز تر کر دیا انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے سے خیر اور بھلائی کے دروازے وا ہوتے ہیں اور آج اس دشت جگر تاب کی خاموش فضا میں کسی ایسے ہی نعرہ ء قم باذن اللہ کی ضرورت ہے جو ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑنے کا گر مولانا عبدالرؤف ملک اور پروفیسر شبیر احمد کی طرح جانتا ہو ۔ ایسے جلیل القدر لوگوں کا وجود کسی بھی معاشرے میں ایک روشن چراغ کی حیثیت رکھتا ہے ۔ میں نے تنگ نظر واعظوں کے وعظ اور سوشل میڈیا پر اینکر پرسنز کو بحث و تکرار میں لڑائی اور ھاتھا پائی تک دیکھا ہے ۔ واعظ تیرے وعظ بھول بھی جائیں ہر بحث میں الجھانے کا فن یاد رہے گا اینکر پرسنز کا یہ حال ہے کہ وہ افسوسناک واقعہ کی خبر دیتے وقت مسکرا رہے ہوتے ہیں اور منظر لاشوں کے گرنے کا دکھا رہے ہوتے ہیں ۔ علامہ مفتی غلام اصغر صدیقی نے آبشار کی مانند بلندی سے اتر کر تشنگان علم کی کشت ویراں کو سیراب کیا ہے ۔ باتوں باتوں میں وہ بڑی کام کی باتیں کر گئے ۔ نہ تو آپ نے فلسفہ و منطق کا سہارا لیا اور نہ ہی اپنی علمی وجاھت سے مستقبل کے قومی معماروں کو مرعوب کیا ۔ واقعی وضاحتیں جتنی کم ہوں گی خیال اتنا ہی مضبوط ہو گا اور یہی وجہ ھے سامعین میں سے کسی نے بھی کوئی وضاحتی بحث نہیں چھیڑی ۔ کیونکہ فاضل مقرر زمانے کی راہ سے نہیں وہ سیدھا دل کے راستے سے دلوں میں اترتا چلا گیا ۔ مولانا زائد ملک ۔ محمد ریاض ۔ محمد افضل اور پروفیسر شبیر احمد نے بھی اظہار خیال کیا ۔ مولانا عبدالرؤف ملک کو اچھے وقتوں کی حسین و جمیل نشانی قرار دیا ۔ پروفیسر شبیر احمد نے کہا کہ اس وقت جتنی ضرورت اتحاد امت کی ہے شاید اس سے پہلے نہ ہو ۔ اس گئے گزرے دور میں مولانا عبدالرؤف ملک کا وجود غنیمت ہے ۔جو ہر مسلک کے عالم کو سینے سے لگاتے ہیں اور یہی درس دیتے ہیں کہ اپنا مسلک نہ چھوڑو اور نہ ہی دوسروں کے مسالک کو چھیڑو ۔ دکھی انسانیت کے درد کا درماں بن جاؤ ۔ اس وقت پاکستان مسائل و مصائب کے بحر اوقیانوس میں ڈوبا ہوا ہے ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم محراب و منبر سے لوگوں کی فلاح و بہبود کا بھی کام کریں آخر میں علامہ مفتی غلام اصغر صدیقی مرکزی صدر منہاج القرآن علما کونسل نے دعائیہ کلمات میں ملک و ملت کی تعمیر و رقی کے لیئے دعا کی اور تفرقہ بازی اور تعصب و بغض کی مرض سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے بیماروں اور مرض میں مبتلا مریضوں سے محبت کا اظہار کیا ۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے لہجوں میں نرمی اور الفاظ کی گرمی کی شدت کو کم کریں اور لوگوں سے حسین لہجے میں بات کریں تو فضا جو فرقہ پرستی کی دھوپ میں جل رہی ہے وہ باد صبح گاہی میں بدل جائے گی ۔مولانا عبدالرؤف ملک کی اشک بار پلکوں سے آنسو اور رندھی ہوئی آواز میں آمین نے ماحول کو روحانی ماحول میں ڈھال دیا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *