پاکستان

عدالت نے کیس کی سماعت شام 6 بجے تک ملتوی کرتے ہوئے آئی جی پنجاب اور آئی جی اسلام آباد کو طلب کر لیا

پی ٹی آئی رہنما فواد چودھری کو مقررہ وقت پر لاہور ہائی کورٹ میں پیش نہ کرنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری پیش کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے کیس کی سماعت شام 6 بجے تک ملتوی کرتے ہوئے آئی جی پنجاب اور آئی جی اسلام کو طلب کر لیا۔

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ ایک مقدمہ درج ہوا ہے جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو بعد میں سنو ں گا پہلے آرڈر پر عملدرآمد کریں۔ آئی جی کو بلوایا ؟

ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ آئی جی رحیم یار خان سے لاہور سفر کر رہے ہیں۔

عدالت نے حکم دیا کہ فواد چودھری جہاں بھی ہے فوری پیش کیا جائے جبکہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے فواد چودھری سے متعلق لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ میرے علم میں نہیں کہ فواد چودھری کہاں ہیں۔ جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی پنجاب کو طلب کر لیتے ہیں۔

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کے جواب پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ میں نے اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی موجودگی میں پیش کرنے کا حکم دیا۔

فواد چودھری کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ فواد چودھری کو اسلام آباد منتقل کیا جا رہا ہے اور متعلقہ حکام کو عدالتی احکامات کے بارے میں آگاہ کیا لیکن عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔ عدالت کے حکم پر فواد چودھری کو پیش نہ کیا گیا اور وہ کہتے ہیں کہ اسلام آباد پولیس کی تحویل میں ہیں۔ پولیس کا ایسا کہنا توہین عدالت ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل جواد یعقوب نے کہا کہ مجھے درست علم نہیں کہ وہ کہاں ہیں اور مجھے 30 منٹ دیئے جائیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button