کالم

ڈالر کا بحران اور اسلامی جمہوریہ پاکستان

لالا مرتضیٰ

پیارے پاکستانیو! جب حکمران اپنی قوم کی غیرت کو پس پشت ڈال کر وقتی مفاد یا طاقتور کے خوف سے فیصلے کرتے ہیں تو ایسے فیصلے ملک و قوم کے لیے بدترین ثابت ہوتے ہیں۔ ایسے حکمران انسانی حقوق سلب کرنے سے بھی باز نہیں آتے ان کے فیصلے طاقتور کو مزید طاقتور اور اپنی قوم کو کمزور کر دیتے ہیں ۔عوام غیر جمہوری حکومتوں کو طاقتور اور منتخب حکومتوں کو کمزور حکومتیں سمجھتے ہیں کیونکہ ان کے دماغوں میں میڈیا کے ذریعے یہی بٹھایا گیا ہے۔جنرل ضیاء الحق کی غیر جمہوری حکومت نے روس کے خلاف امریکی جنگ لڑی تو پاکستان آج تک لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ اٹھانے پر مجبور ہے جنرل مشرف کی غیر جمہوری حکومت نے نائین الیون کے بعد امریکی جنگ لڑی تو پاکستان کی معیشت ابھی تک ہچکولے کھا رہی ہے۔امریکہ پر نائین الیون حملے کرنے والے دہشت گردوں میں سے ایک بھی دہشت گرد کا تعلق پاکستان سے نہیں تھا۔ اسامہ بن لادن سعودی عرب کا شہری تھا اس کو پناہ دینے والا افغانستان تھا لیکن اس جنگ میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھا یا۔ ایک اندازے کے مطابق 80 ہزار سے زائد پاکستانی خودکش حملوں اور دہشتگردی کی وجہ سے شہید ہوئے پاکستانی معیشت کو تقریباً 250 ارب ڈالرز کا نقصان ہوا ۔سابق امریکی وزیر خارجہ کولن پاوول اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: 11 ستمبر 2001 نائن الیون حملے کے فوراً بعد امریکہ نے حملے کی ذمے داری اسامہ بن لادن اور القاعدہ پر ڈالی تو 14 ستمبر 2001 کو امریکی نائب وزیرخارجہ رچرڈ آرمٹیج نے پاکستان سفیر کو بلایا اور اسے ایک لسٹ تھمائی جس میں مندرجہ ذیل مطالبات تھے ۔ 1۔ نائن الیون کے حوالے سے پاکستان کے پاس کسی قسم کی کوئی معلومات ہیں تو وہ امریکہ سے شئیر کرے۔2۔ پاکستان فوری طور پر افغانستان کے ساتھ اپنے بارڈر بند کردے۔3۔ پاکستان اپنی سرزمین پر امریکی جنگی جہازوں کو آپریٹ کرنے کی اجازت دے۔4۔ افغانستان کے خلاف جنگ میں پاکستان لاجسٹک مدد فراہم کرے۔لسٹ تھماتے وقت پاکستانی سفیر کو دھمکی دی گئی کہ اگر یہ مطالبات منظور نہ کیے تو پاکستان کو نتائج بھگتنا پڑیں گے دھمکی کے الفاظ تقریباً وہی تھے جو عمران خان کی حکومت گرانے کے لیے امریکی سائیفر میں درج ہیں ۔
امریکی حکومت کا خیال تھا کہ اس لسٹ کے ذریعے بارگیننگ کرکے پاکستان کو ایک یا دو مطالبات پرراضی کرلینگے اگلی رات امریکی وزیرخارجہ کولن پاول نے پاکستان کے غیر جمہوری حکمران آرمی چیف جنرل مشرف کو کال ملائی اور قبل اس کے کہ وہ پاکستان کے سامنے وہ مطالبات رکھتا جنرل مشرف نے اس کے بولنے سے پہلے ہی کہہ دیا کہ میں تو انتظار کررہا تھا کہ امریکہ ہمیں ٹاسک لسٹ دے تاکہ ہم اس پر عملدرآمد شروع کرسکیں یہ سن کر کولن پاوول کو جھٹکا لگا اس نے کنفرم کرنے کیلئے پوچھا کہ کیا آپ ان تمام مطالبات کو تسلیم کرنے کو تیار ہیں؟جنرل مشرف نے جواب دیا: جی بالکل یہ جنگ صرف آپ کی نہیں بلکہ ہماری جنگ ہے آپ ہمیں پہلی صف میں کھڑا پائیں گے۔امریکی وزیرخارجہ نے کال منقطع کی تو اس کی خوشی کا یہ عالم تھا کہ اس نے صبح ہونے کا انتظار بھی نہ کیا اور امریکی صدر بش کو رات بارہ بجے ایمرجنسی پروسیجر کے تحت سوتے ہوئے اٹھایا اور خوشی سے کپکپاتی آواز میں اطلاع دی کہ پاکستان سب کچھ ماننے کو تیار ہے۔اگلے دن جنرل مشرف نے پاکستانی قوم سے خطاب میں فیصلہ سنایا کہ اگر پاکستان نے اس جنگ میں امریکہ کا ساتھ نہیں دیا تو امریکہ پاکستان کو بھی تورا بورا بنا دے گا پاکستانی قوم کو امریکہ کی طاقت سے ڈرایا جیسے پچھلے دنوں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا تھا کہ عمران خان کی امریکہ جیسی سپر پاور کو ایبسلوٹلی ناٹ کہنے کی کیا ضرورت تھی نائین الیون کے بعد میڈیا کے ذریعے بڑے بڑے اینکرز نے پروگرامز کیے سینئیر صحافیوں سےکالمز لکھوائے گئے پاکستانی عوام کو امریکی ڈالرز کی ریل پیل کے خواب دکھائے گئے جنرل مشرف سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر امریکی جنگ کی پہلی صف میں شامل ہوگیا۔
امریکی حکم ماننے کے بعد جنرل مشرف کی غیر جمہوری حکومت تو مستحکم ہوگئی لیکن پاکستان کی حالت غیر ہوگئی اگلے دس سال میں دہشت گردی اور امریکی ڈرون طیاروں کی بمباری سے صوبہ خیبرپختونخوا کھنڈرات میں تبدیل ہوگیا لاکھوں پاکستانیوں کو اپنے کاروبار گھر بار چھوڑنے پڑے وہ مہاجرین کی طرح خیموں میں رہنے پر مجبور تھے پاکستان کے حساس ترین مقامات جن میں ہماری ائیر بیسز ،جی ایچ کیو ، میریٹ ہوٹل اسلام آباد ،آرمی پبلک سکول پشاور جیسے فول پروف سکیورٹی مقامات پر بھی دہشت گردوں نے حملے کیے دہشت گردوں سے پاکستان کی مساجد دربار امام بارگاہیں بھی محفوظ نہ تھیں ۔آٹھ ماہ پہلے تک عمران خان کی حکومت میں پاکستان کی پھلتی پھولتی معیشت کا اب بھٹہ بیٹھ چکا ہے عام آدمی سے لیکر کاشتکار اور صنعت کار بھی رو رہے ہیں زرعی ملک پاکستان میں آٹا نایاب ہوچکاہے دہشت گردوں کے حملے پھر شروع ہو چکے ہیں وزیراعظم شہباز شریف اپنی کابینہ کے ساتھ سیلابی پانی نکالنے کے لیے امریکی ڈالر مانگنے دنیا کے مہنگے ترین ملک سوئٹزرلینڈ گئے ہوئے ہیں میڈیا کے ذریعے عوام کو ایک بار پھر مہنگائی اور بھوک کا خوف پیدا کرکے امریکہ کو ایبسلوٹلی یس کہنے کا راستہ ہموار کیا جا رہا ہے ۔چین ایران روس ہندوستان اور شمالی کوریا کو دیکھ لیں وہ امریکی احکامات نہ ماننے کے باوجود ترقی کررہے ہیں ایران روس اور شمالی کوریا پر امریکہ نے ہرقسم کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں لیکن وہاں کبھی بھی آٹا اور چینی خریدنے کے لیے عوام لائنوں میں لگی نظر نہیں آئی وہاں پر کبھی خود کش دھماکے اور دہشتگردی بھی نہیںہوئی۔پاکستان پر حکومت کرنے والے جمہوری اور غیر جمہوری حکمرانوں کے ساتھ ساتھ بیوروکریٹس کے خاندان اپنے پاؤں پر کھڑے ہوکر اپنی اگلی نسلیں بھی سنوار چکے ہیں لیکن پاکستان ہر سال دیوالیہ ہونے سے بچنے کے لیے ڈالروں کی بھیک مانگتا نظر آتا ہےپیارے پاکستانیو! آخر کب تک ہمارے تجربہ کار حکمران بھکاریوں کی طرح زلزلہ زدگان،سیلاب زدگان اور دہشتگردی کے متاثرین کی تصاویر دکھا دکھا کر دنیا سے ڈالرز کی بھیک مانگتے رہینگے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button