کالم

ریزرویشن کی بنیاد صرف غریبی

ڈاکٹرویدپرتاپ ویدک

بھوپال میں’’کرنی سینا‘‘ نے ایک بے مثال مظاہرہ کیا اور مانگ کی کہ سرکاری ملازمتوں، انتخابات اور تعلیمی اداروں سمیت جہاں بھی کوٹے (ریزرویشن) کا نظام ہے‘ وہاں صرف غربت کی بنیاد پر ریزرویشن دیا جائے۔ کرنی سینا راجپوتوں کی ایک تنظیم ہے۔ اس نے ذات پات کے ریزرویشن کے خلاف براہِ راست آواز نہیں اٹھائی ہے، کیونکہ یہ خود بھی ذات پات کی بنیاد پربنی ایک تنظیم ہے، لیکن اس وقت بھارت بھر میں جہاں بھی ریزرویشن دیا جا رہا ہے‘ وہ زیادہ تر ذات پات کی بنیاد پر ہی دیا جا رہا ہے۔ اگر صرف غریبی کی بنیاد پر ریزرویشن کا نظام بن جائے تو ذات پات کی تفریق کے بغیر بھی بھارت کے تمام کمزور لوگوں کو ریزرویشن مل سکتا ہے۔ یہ مطالبہ تو بھارت کے کمیونسٹوں کو سب سے زیادہ کرنا چاہئے کیونکہ کارل مارکس نے ’’کمیونسٹ مینی فیسٹو‘‘ میں اسی غریب طبقے کی سب سے زیادہ حمایت کی ہے۔ انہوں نے اسے سروہارا (پرولیٹیریٹ) کہا ہے۔ کمیونسٹوں کی نسبت کیا کہیں‘ بھارت کی تمام پارٹیاں تھوک ووٹوں کی غلام ہیں۔ تھوک ووٹوں کا سب سے بڑا ذریعہ ذات پات کا نظام ہی ہے۔ اسی لیے بھارت کے کسی نیتا یا پارٹی میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ جاتیہ ریزرویشن کی مخالفت کرے بلکہ کئی دیگر جاتیوں کے نیتا آج کل اپنے لیے ریزرویشن کی تحریک چلا رہے ہیں۔ اگر کرنی سینا کے راجپوت لوگ اپنے اس مطالبے کی تحریک میں سبھی جاتیوں کو جوڑ لیں (انوسوچت جاتیوں کو بھی) تو وہ سچ مچ عظیم قومی تحریک بن سکتی ہے۔ متعدد غریب و پسماندہ لوگ‘ جو عزتِ نفس رکھتے ہیں اور دوسروں کے رحم و کرم پر انحصار کرنا غلط سمجھتے ہیں‘ وہ بھی کرنی سینا کے ساتھ آجائیں گے۔ کرنی سینا کا یہ مطالبہ بھی درست ہے کہ کسی بھی خاندان کی صرف ایک نسل کو ریزرویشن دیا جائے تاکہ ان کی اگلی نسلیں خود انحصار بنیں۔ کرنی سینا کا یہ مطالبہ بھی مناسب لگتا ہے کہ اس قانون کو واپس لیا جائے جس کے مطابق کسی بھی پسماندہ طبقے کے شخص کی شکایت کی بنیاد پر کسی کو بھی جانچ کیے بغیر ہی گرفتار کر لیا جاتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ بھارت کے پسماندہ طبقات نے صدیوں سے بہت ظلم سہے ہیں اور ان کے ساتھ انصاف ہونا بے حد ضروری ہے، لیکن ہم بھارت میں ایسا سماج بنانے کی غلطی نہ کریں، جو ذات پات کی بنیاد پر ہزاروں ٹکروں میں تقسیم ہوتا چلا جائے۔ بھارت میں آئینی طور پر پہلے صرف انہی نچلی ذاتوں کو ریزرویشن ملا ہوا تھا، جو اپنے آپ کو ہندو مانتے تھے لیکن 1956ء میں سکھوں اور 1990ء میں بودھ مت کے پیروکاروں کو بھی اس مراعات یافتہ طبقے میں جوڑ لیا گیا حالانکہ گوتم بدھ اور گورو نانک‘ دونوں ہی اپنے پیروکاروں کو ذات پات کی تفریق سے دور رہنے کی تلقین کرتے رہے لیکن تھوک ووٹوں کے لالچ میں پھنس کر نیتاؤں نے اپنے دھرم کی تعلیمات کو بھی ذات پات کے پاؤں تلے روند دیا اور ان غیر ہندو مذہبی لوگوں نے اپنے مذہب کے مخالفت کرنے والے اس عمل کو بخوشی قبول کر لیا۔ اب انہی کی دیکھا دیکھی بھارت کے عیسائی، یہودی اور مسلم طبقات بھی مانگ کر رہے ہیں کہ ان میں جو پسماندہ طبقات ہیں، انہیں بھی ہندوئوں‘ سکھوں اور بودھ مت کے لوگوں کی طرح سرکاری نوکریوں اور تعلیم میں ریزرویشن دیا جائے۔ مودی سرکار نے ایک کمیشن کا
اعلان کیا تھا جو پورے نظام کا جائزہ لینے کے بعد یہ طے کرے گا کہ انہیں ریزرویشن دیا جائے یا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ذات پات کے ریزرویشن نے بھارت میں نااہلی اور ناانصافی کو بڑھاوا دیا ہے۔ جو ایک آدھ فیصد ملائی دار لوگ ہیں‘ وہی ساری نوکریوں پر قبضہ کر لیتے ہیں اور اصلی غریب لوگ تکتے رہ جاتے ہیں۔اگر اس میں نئے طبقات کو بھی جوڑ لیا گیا تو پیچھے صرف جین مت کے پیروکار اور ناستک (لادین) ہی رہ جاتے ہیں‘ انہوں نے کون سا جرم کیا ہے؟ مجھے ایسا لگتا ہے کہ 1947ء میں مذہب کی بنیاد پر ہندوستان کے دو ٹکڑے ہوئے تھے‘ اب اگر ذات پرستی بھارتیہ سیاست کی بنیاد بن گئی تو بھارت کے زمینی ٹکڑے ہوں یا نہ ہوں‘ یہ ملک ہزار ٹکڑوں میں ضرور تقسیم ہو جائے گا۔ زمین تو شاید نہ ٹوٹے لیکن لوگوں کے دلوں کے ٹکڑے لازمی ہو جائیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ پیدائش کی بنیاد پر تمام ریزرویشنز ختم کیے جائیں؛ البتہ ضرورت کی بنیاد پر ضرور کوٹہ دیا جائے لیکن ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر بالکل نہیں۔ بھارت اور پڑوسی ممالک کے نام نہاد انوسوچت اور پسماندہ لوگوں کو آگے بڑھانے کا طریقہ جاتیہ ریزرویشن نہیں ہے۔ انہیں اور نام نہاد اعلیٰ جاتیوں کے لوگوں کو بھی پیدائش کی بنیاد پر نہیں‘ ضرورت کی بنیاد پر ریزرویشن دیا جائے۔ اگر ہم ریزرویشن کی بنیاد ٹھیک کر لیں تو پورے بھارت میں برابری اور خوش حالی کی عمارت خود بخود ہی کھڑی ہو جائے گی۔
بھارتیہ جمہوریت کیسے سدھرے ؟
بھارت دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ کئی دیشوں میں جمہوریت ختم ہوئی اور آمرانہ نظام آ گیا لیکن بھارت کی جمہوریت جوں کی توں بنی ہوئی ہے، لیکن کیا اس حقیقت سے ہمیں مطمئن ہوکر بیٹھ جانا چاہئے؟ نہیں‘ بالکل نہیں! بھارتیہ جمہوریت برطانوی جمہوریت کی نقل پر گھڑی گئی ہے۔ برطانیہ کا بادشاہ تو برائے نام ہوتا ہے لیکن بھارت میں پارٹی نیتا سب سے زیادہ طاقتور بن جاتے ہیں۔ سبھی پارٹیاں پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیوں کی طرح یا تو کچھ لوگوں یا کچھ خاندانوں کی ذاتی جائیدادیں بن جاتی ہیں۔ ان میں اندرونی جمہوریت صفر ہو کر رہ گئی ہے۔ چناؤ کے ذریعے جو سرکاریں بنتی ہیں‘ وہ اکثریت کی نمائندگی کیا کریں گی‘ جیتنے والی پارٹیوں کو کل ووٹروں کے 20 سے 30 فیصد ووٹ بھی نہیں ملتے لیکن پھر بھی وہ سرکاریں بنا لیتی ہیں۔ بھارت کی پارلیمنٹ اور قانون ساز ایوانوں کو برسر اقتدار جماعت اور اپوزیشن کی پارٹیاں ایک اکھاڑے میں تبدیل کر ڈالتی ہیں۔ چناؤ میں خرچ ہونے والے اربوں‘ کھربوں روپے نیتاؤں کو ناانصافی پر آمادہ کرتے ہیں۔ ایسے میں کیا کیا جائے؟ پچھلے دنوں میں نے ان مسائل پر ”آچاریہ کرپلانی میموریل‘‘ میں ایک لیکچر دیا تھا۔ اس کے کچھ نکات مختصراً میں دیش کی توجہ کے لیے پیش کر رہا ہوں۔ سب سے پہلے تو بھارت میں چناؤ سسٹم ہی بند کر دیں۔ اس کی جگہ ہر پارٹی کو اس کے ممبران کی تعداد کے تناسب میں اسمبلی اور قانون ساز ایوان میں بھیجنے کا حق ملے۔ اس کے کئی فائدے ہوں گے۔ چناؤ خرچ بند ہو جائے گا۔ کرپشن مٹے گی۔ کروڑوں لوگ سیاسی طور پر سرگرم ہو جائیں گے۔ اس وقت بھارت کی سبھی پارٹیوں کی رکنیت 15 سے 16 کروڑ کے آس پاس ہے‘ وہ 60 سے 70 کروڑ تک ہو سکتی ہے۔ اس نئے نظام کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ جو بھی سرکار بنے گی‘ اس میں سبھی پارٹیوں کو مناسب نمائندگی مل جائے گی۔ وہ سرکار قومی سرکار کی طرح ہو گی‘ پارٹی کی طرح نہیں، جیسا کہ آزادی کے فوراً بعد بنی تھی۔ اس انقلابی نظام کی کئی خامیاں بھی ہوں گی‘ ان کو کیسے دور کیا جا سکے گا‘ یہ موضوع بھی قابلِ غور ہے۔ جب تک یہ نیا نظام شروع نہیں ہوتا ہے‘ موجودہ نظام میں بھی کئی سدھار کیے جا سکتے ہیں۔ سب سے پہلا سدھار تو یہی ہے کہ جب تک کسی امیدوار کو 50 فیصد سے زیادہ ووٹ نہ ملیں‘ اسے چُنا نہ جائے۔ اسی طرح چنے ہوئے ممبران کی سرکار سچ مچ اکثریت کی سرکار ہو گی۔
امیدواروں کی عمر 25 سال سے بڑھا کر 40 سال کی جائے اور 50 سال کے ہونے پر ہی انہیں وزیر بنایا جائے۔ بھارتیہ پارلیمنٹ کے ممبروں کی تعداد 1000 سے 1500 تک بڑھائی جائے۔ سبھی عوامی نمائندوں کی آمدن اور ذاتی جائیدادوں کا گوشوارہ ہر سال منظر عام پر لایا جائے۔ بھارت میں ‘ریفرنڈم‘ اور ‘ریکال‘ کی روایت بھی لاگو کی جانی چاہئے۔ سارے قانون سرکاری زبان میں بنیں اور سبھی عدالتیں اپنے فیصلے اپنی مقامی زبانوں میں دیں۔ ممبرانِ اسمبلی اور قانون سازوں کی پنشن ختم کی جائے۔ وزارتوں کے افسران اور وزیروں کے خرچوں پر روک لگایا جائے۔ باقی سجھاؤ کبھی پھر!

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button