کالم

اصلاح معاشرہ میں تعلیم کی اہمیت

حاجی عتیق الرحمن

معاشرہ افراد کے باہمی مل جل کر رہنے اور باہمی اتفاق و اتحاد کو کہتے ہیں۔ہمارا معاشرہ چونکہ اسلامی ہے۔اس لیے اس کی اہمیت زیادہ ہے۔معاشرے کی خوب صورتی اور حسن وجمال میں تعلیم سے ہی نکھار پیدا ہوتا ہے۔تعلیم سیکھنے اور سکھانے کے عمل کا نام ہے۔یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ تعلیم افراد کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ نہ صرف مسائل کا مناسب حل تلاش کر سکیں بلکہ معاشرتی تعمیر وترقی میں قابل قدر کردار بھی ادا کر سکیں۔تعلیم سے افراد کے اخلاق وکردار میں نمایاں تبدیلی پیدا ہوتی ہے۔حسن معاشرت کا شعور بیدار کرتی ہے۔وطن سے محبت اور الفت کے جذبات سے آشنا کرتی ہے۔ احساسات ،جذبات، ہمدردی،نیکی،دیانتداری جیسے اوصاف کی تربیت تعلیم سے ہوتی ہے۔معاشرے میں چونکہ مختلف قسم اور مزاج کے لوگ بستے ہیں۔ان کے درمیان ہم آہنگی اور تعاون کی فضا پیدا کرنے کے لیے بھر پور کردار ادا کرنے کی ضرورت رہتی ہے۔تہذیب وثقافت کی ترویج سے عاری معاشرے شکست وریخت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ تہذیب وثقافت کی ترویج میں بھی اسی وقت بہتری پیدا ہو۔افراد اپنی تہذیب و ثقافت، روایات کو زندہ اور قائم رکھنے کے لیے اقدار کو فروغ دیتے ہیں۔ جسمانی ،ذہنی،اخلاقی تربیت سے صحت مند ماحول پیدا ہوتا ہے۔معاشرتی رویے بہت زیادہ اثر انداز ہوتے ہیں۔ان کی اہمیت کے پیش نظر اقدامات بھی ناگزیر ہوتے ہیں۔قوموں کا وجود اسی صورت قائم رہ پاتا ہے جب ان میں سنجیدگی سے عمل درآمد کا شعور پیدا کیا جائے۔فکر شعور کو اگر کوئی چیز بیدار کرتی ہے تو وہ تعلیم ہے۔تعلیم کی تعریف مختلف ماہرین تعلیم نے اپنےاپنے انداز سے کی۔۔۔علامہ اقبال نے خوبصورت انداز سے تعلیم کی تعریف میں فرمایا۔۔۔عرفان نفس اور تکمیل خودی کا نام تعلیم ہے۔ اچھی خوبیاں، سچائی، ہمدردی، مساوات، دیانتداری تعلیم کے زیور سے ہی پیدا ہوتی ہیں۔اخلاق حسنہ کی اہمیت،معاشرتی رویے،رسم ورواج بہتر بنانے میں تعلیم کا کردار مسلمہ ہوتا ہے۔معاشرتی اصلاح سے زندگی بہترروپ میں داخل ہوتی ہے۔قوموں کا وجود تعلیمی بنیادوں کے استحکام سے ہی مستحکم ہوتا ہے۔ معاشرتی بقاء بھی تعلیم سے ہے۔معاشرتی برائیوں کاخاتمہ اور ماحول کی بہتری بھی تعلیم سے ہوتی ہے۔رہن سہن،رسم ورواج،تہذیب وتمدن اور اخلاقی اقدار میں بہتری تعلیم سے ہوتی ہے۔معاشرتی برائیوں کے خاتمہ سے معاشرتی اساس مضبوط ہوتی ہے۔بقول شاعر۔۔۔۔فرد قائم ربط ملت سے ہے۔۔۔۔۔۔یہ بات انتہائی قابل غور ہے کہ افراد کے مابین بہتر تعلقات سماج کی بہتری کے لیے ناگزیر ہیں۔نفرت اور حقارت کے جذبات سے عدم توازن کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کا بجا لانا بھی ناگزیر ہے۔پڑوسیوں،ضرورت مندوں کا خیال رکھنا،مصیبت میں دوسروں کے کام آنا۔بقول شاعر۔۔۔ہیں لوگ وہی جہاں میں اچھے۔۔۔ دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونا،دوسروں کا احترام کرنا،معاشرتی آداب کا خیال رکھنا،یہ سب تعلیم ہی سے ممکن ہوپاتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button