ادبشاعری

تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو

تم اپنے شکوے کی باتیں نہ کھود کھود کے پوچھو
حذر کرو مرے دل سے کہ اس میں آگ دبی ہے
دلا یہ درد و الم بھی تو مغتنم ہے کہ آخر
نہ گریۂ سحری ہے نہ آہ نیم شبی ہے
نظر بہ نقص گدایاں کمال بے ادبی ہے
کہ خار خشک کو بھی دعواۓ چمن نسبی ہے
ہوا وصال سے شوق دل حریص زیادہ
لب قدح پہ کف بادہ جوش تشنہ لبی ہے
خوشا وہ دل کہ سراپا طلسم بے خبری ہو
جنون و یاس و الم رزق مدعا طلبی ہے
چمن میں کس کے یہ برہم ہوئی ہے بزم تماشا
کہ برگ برگ سمن شیشہ ریزۂ حلبی ہے
امام ظاہر و باطن امیر صورت و معنی
علیؔ ولی اسداللہ جانشین نبی ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button