کالم

عوام کا غم جانے کب ہو گا کم؟

ریحان مرزا

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں روزی
اس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو
ملک میں دہشت گردوں کو پکڑنے کے لئے تو ایجنسیاں موجود ہیں مگر ایسی کوئی ایجنسی نہیں جو ملک میں معاشی دہشت گردوں کو پکڑ کر عوامی عدالت میں پیش کر سکے جنہوں نے آٹا سمیت دیگر اجناس غائب کر دی ہیں۔ خون جما دینے والی شدید سردی میں لائنوں میں لگ کر آٹا لینا کسی جہاد سے کم نہیں ۔اگر آٹا ملنے کے بعد زندہ سلامت گھر پہنچ جائے تو غازی وگرنہ آٹے کے حصول کے لئے ہجوم کے پائوںتلے روند کر شہادت تو نصیب میں آ ہی جائے گی۔عوامی دکھ تکلیفوں سے بے غم ملک کے ایوانوں کی مسند پر براجمان اور حزب اختلاف میں ایک صوبے میں اعتماد کا ووٹ لینے کے لئے رسہ کشی جاری ہے ۔جبکہ دوسری طرف دونوں دھڑے عوامی اعتماد کھو چکے ہیں ۔IMFنے ملک میں مہنگائی کو بڑھانے کے لئے زور دے رکھا ہے۔ IMF کےدبائو میں آکر کی جانے والی مہنگائی نسلوںکی تباہی اور بے روز گاری کا سبب بنے گی ۔ ملک میں غیر یقینی مہنگائی کی اس فضا میں 57اسلامی برادر مما لک کی واحد آرگنائزیشن جس کا نامOICہے پاکستان کے ان تمام حالات میں اپنا کوئی رول ادا کرنے سے گریزاں ہے۔ یہاں تک کہ کچھ برادر اسلامی ممالک امداد کرنے سے قاصر ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے آپ IMFسے معاہدہ کریں بعد میں ہم آپ کی امداددیں گے۔ اور کچھ نے تو اپنا بطور زرمبادلہ کے طور پر رکھوائے جانے والی رقم بھی واپس لے لیہے جس کی وجہ سے پاکستان کے ذخائر کم ترین سطح پر آگئے ہیں۔ملک میں مہنگائی بے قابو ہو کر رہ گئی ہے۔لوگ خود کشیاں کر نے پر مجبورہیں۔یہاں حاکم وقت ایسے ہیں جن کو آٹا ،دال سمیت دیگر ضروریات زندگی عوام
تک پہنچانے کی فکر نہیں ، جتنی ان کو ہوائی جہازوں ، ریل گاڑیوں کی تزین و آرائش اور محلوں میں کھیل کے گرائونڈ بنانے کی فکر ہے ۔گزشتہ رو ز وفاقی وزیر ہوا بازی خواجہ سعد رفیق نے بذریعہ پریس کانفرنس عوام کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ آپ کے لئے آٹا سمیت دیگر ضروریات زندگی کی اتنی اہمیت نہیں جتنی عوام کے لئے جہازوں میں اربوں روپے کی لاگت سے بزنس کلاس کی سیٹوں کو تبدیل کرنا ضروری ہے جبکہ قومی ائیر لائن کی حالت یہ ہے کہ کراچی سے اسلام آباد تک کی فلائیٹ میں پینے کا پانی تک موجودنہہے اورمسافر پانی کے حصول کے لئے آپس میں لڑنے تک آگئے۔ فلائیٹس میں پانی کی فراہمی ضروری ہے یا بزنس کلاس کی سیٹوں کی تزین وآرائش ۔ اور ان کا مزید کہنا تھا کہ ریل گاڑیوں کی تزین و آرائش پر بھی بیرونی سرمائے کی مدد سے اربوں روپے لگانے ضروری ہیں۔ ریل کا ٹریک ٹھیک ہو نا ہو ریل اپنے مقررہ وقت پر چلے نا چلے مگر اس کی تزین وآرائش بہت ضروری ہے۔دوسری طرف پی ٹی آئی کے صوبائی وزیر میاں اسلم اقبال نے گزشتہ روز اعلان کیا ہے کہ وہ کروڑوں روپے کی لاگت سے بھوکی ننگی خود کشیوں پر مجبور عوام کے لئے کرکٹ اسٹیڈیم بنا رہے ہیں۔یہاں سب کو اپنی اپنی پڑی ہوئی ہے کسی کو غریب عوام کا احساس نہیں ۔سب پارٹیوں کے کرتا دھرتا اپنے آیندہ الیکشن کے لئے مال پانی بنا نے میں مصروف ہیں ۔ جبکہ عوام بے یارو مدد گار بے بسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ جس معاشرے میں خدا کی مخلوق کےساتھ بے انصافی ظلم و زیادتی کو کوئی گناہ نا سمجھا جائےوہاں پر قدرتی آفات زلزلہ،خشک سالی ، سردی ،گرمی میں شدت کا آجانا اللہ تعالی کےعذاب کی نشانیاں ہیں۔جب تک ہم سب ایک قوم بن کر ایک دوسرے کا احساس نہیں کریں گےاور اپنے سے کمزور کو سہارا نہیں دیں گے وہاں پر ایسےظالمحکمران ہی ہم پرمسلط رہیں گے ۔ ہمیں سب کو مل کر ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹنے کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے خود پرستی کو ترک کرنا ہو گا اور ایک دوسرے کا دستو بازوبننا ہو گا۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے کیا خوب کہا تھا۔
افراد کے ہاتھوں میںہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارا

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button