کالم

پھر ’’کوچہء لعنت‘‘ میں۔۔۔!

راناشفیق خان

پرانی کتابیں پڑھیں خواہ وہ فسانہ و ناول ہی کیوں نہ ہوں، وہاں دکھائی دیتا تھا کہ فلاں کام اور فلاں پیشہ پر ’’چار حرف‘‘۔۔۔ ہم نے، شروع میں جب ’’چار حرف‘‘ کی ترکیب پڑھی تو ہماری سمجھ میں نہ آیا، کیا مطلب ہے؟ سیاق و سباق سے اتنا تو جان گئے تھے کہ ’’چار حرف‘‘ کی ’’اصطلاح‘‘، اظہارِ نفرت کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ مگر صحیح صحیح مراد نہ سمجھ پائے، والد گرامی سے پوچھا تو کہنے لگے، بیٹا! ’’چار حرف‘‘ سے مراد لفظِ لعنت ہے، لکھنے والا اپنے قلم سے یہ لفظ ادا کرتے ہوئے گھبراتا ہے، مہذب اور مسلمان لفظِ لعنت کو اپنی زبان و قلم سے ادا کرتے ہوئے گھبراتے اور ڈرتے ہیں کہ کہیں اس کے استعمال سے وہ اس وعید کی گرفت میں نہ آ جائیں کہ جو پیارے رسولؐ نے فرمائی تھی۔ رسولؐ رحمت نے سختی سے ’’لعنت بھیجنے سے منع فرمایا ہے اور بتایا ہے کہ جو کسی کو لعنت کرتا ہے، اگر وہ اس کا مستحق نہ ہو تو کرنے والے پر ہی لعنت آ پڑتی ہے‘‘ اور لعنت کا مطلب ہوتا ہے، مولائے رحمان و رحیم کی رحمت سے خالی اور دور ہو جانا۔‘‘بعد میں جب خود کچھ مطالعہ کا شوق بڑھا تو احادیث مبارکہ میں، اس حوالے سے، کئی احکامات سامنے آتے گئے۔
ترمذی میں ایک باب ہے ’’لعنت کے بارے میں‘‘۔ اس میں عبداللہ بن مسعودؓ، نبوی ارشاد سے آگاہ کرتے ہیں، کہ آپؐ کا واضح فرمان ہے، ‘‘مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، بے حیا اور بدزبان نہیں ہوتا۔‘‘ قرآنی الفاظ ’’ویل لکل ھمزۃ لمزۃ‘‘ میں بھی لعن طعن کرنے اور عیب جوئی میں مصروف رہنے والوں کے لئے ہلاکت اور ’’ویل‘‘ جیسی بھیانک جہنم کا اعلان ہے، ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے، ’’ویل‘‘ وہ خطرناک ترین گڑھا ہے کہ جس سے خود جہنم، دن میں کئی بار پناہ مانگتی ہے۔ہم مسلمان ہیں، خود کو دوسروں سے بہتر مسلمان سمجھتے ہیں، لیکن مسلمانی کے تقاضوں سے کوسوں دور ہیں، وہ اسلامی، اخلاق و اوصاف جو دوسروں سے کہیں بڑھ کر انسان بناتے اور تہذیب و تمدن کا مجسم کامل ٹھہراتے ہیں، کو نظرانداز کئے ہوئے ہیں۔۔۔ دوسروں کو تنقید کے آرے میں چیرنے پھاڑنے کو ہر وقت مستعد ہوتے ہیں مگر اپنے آپ کو سنوارنے کے لئے تیار نہیں ہو پاتے، دوسروں کی آنکھ کا تنکا نظر آ جاتا ہے، اپنی آنکھ کا شہتیر دکھائی نہیں دیتا۔ دوسروں کے پلنگ پر پڑی چادر کی شکنوں پر تو تبصرے کرتے رہتے ہیں مگر اپنی پیڑھی تلے ڈانگ نہیں پھیرتے۔۔۔
یہ ہمارا عام معاشرتی چلن ٹھہرا ہے کہ ہم دوسروں پر انگلی اٹھانے میں تیزی دکھاتے ہیں، یہ نہیں دیکھ پاتے کہ تین انگلیاں خود ہماری طرف اشارہ کر رہی ہیں، مخالفین پر گرجتے برستے ہیں، خوب تیر و نشتر چلاتے ہیں، بولتے ہیں تو بھول جاتے ہیں کون سا فقرہ تہذیب کے دائرے سے باہر ہے اور کون سا کلمہ شریعت کے منافی ہے۔۔۔تول تول کر بولنے اور بول بول پر تولنے والے، لوگ دکھائی دینا بند ہو گئے ہیں، شاید کال پڑ گیا ہے، قحط الرجال کا رونا تو ہر دور ہی میں رہا ہے، مگر تحریر و تقریر کی اخلاقیات کے خاتمے اور فقدان کا ماتم تو اب زوروں پر آ گیا ہے، عامیوں کا کیا رونا، خواص و راہ نما کہلانے والے بھی لفظ کی حرمت کو سرعام پامال کرتے چلے جا رہے ہیں۔ وہ نہیں سوچتے کہ ذرائع ابلاغ، ان کی ایک ایک حرکت اور ایک ایک لفظ کو دنیا کی گواہی کے کھاتے میں ڈال رہے ہیں۔ ان کی زبانوں کی تیزی اور تندی، صرف ان کی ’’بدزبانی‘‘ کی دلیل نہیں بنتی، ان کی قوم و معاشرہ کی بدتہذیبی کو بھی شہرت و ثبوت فراہم کر دیتی ہے۔۔۔کُھلے ڈُلّے انداز میں، بدزبانی کرنے والوں کو کیا ’’حکیمانہ باتیں‘‘ سنانا۔ جو رسولِؐ رحمت کے واضح فرامین کی لاج نہ رکھیں اور جلسہ و جلوس میں، جان بوجھ کر، عمداً گالی گلوچ اور ’’لعنت لعنت‘‘ کی گردان کرنے سے نہ ہچکچائیں، ان کو ’’تہذیب و تمدن‘‘ کے واسطے دینا، فضول ہے۔لاہور کے ایک ’’مشترکہ ناکام جلسے‘‘ میں، دو ’’مہا لیڈروں‘‘ نے پارلیمینٹ پر لعنت بھیجی تھی، سمجھا جا رہا تھا، کھسیانی بلّی کھمبا نوچے کے مصداق، جلسہ کی ناکامی نے مایوسی کو چہروں سے دل پر ڈال دیا تھا اور یوں زبان تلخ تر ہو گئی تھی، مگر بعد میں، اس ’’لعنت‘‘ پر تکرار اور ’’ثابت قدمی‘‘ نے بتایا کہ جو کچھ کہا تھا۔ وہ اپنی عادات و اخلاق کے عین مطابق اور سوچ سمجھ کر کہا تھا۔ ان دونوں ’’لعنت کرنے والوں‘‘ کی اس تند مزاجی اور تیز زبانی پر، مختلف طبقات نے مختلف ردعمل کا اظہار کیا تھا۔ دین داروں نے اس پر پیارے رسولؐ کی تعلیمات کا واسطہ ہی دیا تھا اور بتایا تھا کہ ’’اسلام اور پاک رسولؐ ’’لعنت لعنت‘‘ کرنے کو پسند نہیں کرتے۔ صحیح بخاری، کتاب الادب میں، آپؐ کے بارے میں حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ آپؐ فحش گوئی اور لعنت کرنے والے نہ تھے، نہ ہی گالی گلوچ کرنے والے تھے، جب کبھی (بہت) ناراض ہوتے تو فرماتے ’’اس کو کیا ہو گیا ہے، اس کی پیشانی خاک آلود ہو۔‘‘وہ لیڈر اور ان کے متوسلین کے لئے، ایک حدیثِ پاک (جو بخاری کتاب الحدود میں ہے) کہ ’’ایک شخص، جو شراب پیتا تھا، اور بار بار پکڑ کر، آپؐ کے حضور حاضر کیا جاتا تھا۔ جب کئی پھیرے ہو گئے تو ایک آدمی نے (اس کے بارے میں) کہا اس پر لعنت ہو، بار بار، دربار رسالت میں لایا جاتا ہے (اس کو شرم نہیں آتی)۔رسولؐ رحمت نے یہ فقرہ سنا تو، فرمایا:’’اس پر لعنت نہ کرو، اللہ کی قسم، تم نہیں جانتے کہ (لعنت کرنا) اللہ اور اس کے رسولؐ کو پسند نہیں۔‘‘رسولؐ رحمت نے ایک عادی شرابی کے لئے بھی، لعنت کو پسند نہیں کیا، اور یہاں اس پارلیمینٹ پر لعنت کی گئی ہے جہاں ملک و قوم کے مفاد میں قانون سازی ہوتی ہے اور غالب ترین باتیں عوام کی فلاح اور مملکتِ خداداد کی اصلاح و استحکام اور ترقی و بقا کے لئے ہی ہوتی ہیں۔
لعنت کرنے والوں نے ایک لمحہ کے لئے نہیں سوچا کہ وہ خود نہ صرف اس پارلیمینٹ کا حصّہ ہیں بلکہ آئندہ پہلے سے بھی بڑھ کر، اہتمام سے اسی پارلیمینٹ میں جانا چاہتے ہیں۔ہم اگر، ان لیڈروں کی طرح کا ذہن رکھتے تو کہہ سکتے تھے کہ ’’لعنت کرنے والوں نے دوسروں کو نہیں خود کو اس زمرہ میں شمار کر لیا ہے، ہم کچھ کہنے کی بجائے، سوھنے مدینہ والے رسولِؐ رحمت کا ایک فرمان لکھ دیتے ہیں جو انہی دنوں اپنی صداقت کو بہت اچھی طرح ثابت کر چکا ہے۔ سنن ابو داؤد کی حدیث نمبر 4905 ہے کہ ’’رسولِ اکرمؐ نے فرمایا: بندہ جب کسی پر لعنت کرتا ہے تو یہ لعنت آسمان کی طرف چڑھتی ہے تو آسمان کے دروازے اس کے سامنے بند ہو جاتے ہیں پھر وہ اتر کر زمین پر آتی ہے تو زمین کے دروازے بھی اس پر بند ہو جاتے ہیں، پھر وہ دائیں بائیں گھومتی ہے، پھر جب اسے کوئی راستہ نہیں ملتا تو وہ اس کی طرف جاتی ہے جس پر بھیجی گئی ہو، اگر وہ مستحق ہوتا ہے تو ٹھیک ورنہ وہ کہنے والے کی طرف پلٹ جاتی ہے۔‘‘ لعنت جاتی آہستہ آہستہ ہے، مگر واپس تیزی سے آتی ہے، اس کا مشاہدہ پوری قوم نے کیا، لعنت کرنے والوں نے تو جو کی سو کی، مگر جواب میں جس کثرت، تواتر اور بلند آھنگ سے سننا پڑی، وہ بھی ایک تاریخ رقم کر گئی ہے۔
اس معاملے میں ہر طبقہِ فکر اور ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے خواص و عوام شامل ہیں،دینی جماعتوں کے لوگ ہوں یا سیاسی پارٹیوں کے افرادلعنت کا بے دریغ استعمال کرتے نظر آتے ہیں ۔ایک دوسرے کو بلاوجہ رگیدتے بھی ہیں،طعن و تشنیع کا نشانہ بھی بناتے ہیں،الزام و اتہامات بھی لگاتے ہیں،بہتان بھی باندھتے ہیں،گالیاں بھی دیتے ہیں اور جی بھر کر ,بے شمار لعنت بھی کرتے ہیں۔اللہ معاف کرے !ہمیں یاد ہے،ایک جلسہ میں شیخ رشید نے مال روڈ پر، گرجتے ہوئےاسمبلی میں جانے پر ’’ایک ہزار بار لعنت بھیجی تھی، ہم یہ سمجھتے تھے کہ شیخ رشید، کہہ مکرنیوں کے لاکھ ماہر ہیں، اب اپنی لعنت گاہ کی طرف رخ نہیں کریں گے۔۔سمجھنے کو تو ہم عمران خان کے بارے میں بھی یہی سمجھتے تھے کہ ’’وہ جس پارلیمینٹ پر لعنت بھیجتے ہیں، وہاں سے فوراً، استعفے دے کر باہر نکل آئیں گے، مگر انہوں نے اس کے بعد نہ صرف استعفے دینے کا اعلان ہی نہ کیا بلکہ 2018ء کے عام الیکشن کے ذریعے، زیادہ اہتمام سے اسی پارلیمینٹ میں پہنچنے کی منصوبہ بندیاں اور زور و شور سے تیاریاں کرکے حکومت بھی حاصل کرلی۔اس کے بعد ,اب پھرنئے انتخابات کا مطالبہ اور تیاریاں کرچکے ہیں۔موجودہ پارلیمانی دور میں کئی لیڈر ہیں جو کہتے نہیں تھکتے تھے کہ اس جعلی اسمبلی میں نہیں جائیں گے،جو جائے اس پر لعنت وہ باہر رہ کر، بیان کردہ ’’لعنت گاہ‘‘ کے سائے سے بچ سکتے تھے مگرچشمِ کائنات نے دیکھا وہ وھاں نہ صرف گئے بلکہ نعرے لگاتے اور نعرے لگواتے ہوئے گئے۔۔ پتہ نہیں کیوں، ظفر اقبال کا شعر، ذہن میں در آیا ہے :
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو، اس پر ظفرؔ
آدمی کو صاحبِ کردار ہونا چاہئے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button