خواتینفیشن و لباس

کیل مہاسوں سے نجات پائے

کیل مہاسے عام طور پر نوجوانی کے زمانے میں چہرے پر نمودار ہوتے ہیں،جن میں کبھی کبھار خارش بھی محسوس ہوتی ہے۔یہ چہرے کے علاوہ گردن،سینے،کمر اور بازوؤں پر بھی نمودار ہو سکتے ہیں۔دراصل ہماری جلد کے اندر بالوں کے ساتھ چکنائی پیدا کرنے والے کچھ غدود (Sebaceous Glands) بھی پائے جاتے ہیں۔اگر یہ غدود متورم ہو جائیں تو چکنائی زیادہ مقدار میں پیدا ہو کر کیل مہاسوں کا سبب بن جاتی ہے۔
پودینہ
پودینہ چہرے کے مساموں پر اکھٹا ہوجانے والے تیل کو ہٹانے میں مدد دیتا ہے اور کیل مہاسوں کو بننے ہی نہیں دیتا۔ دو چائے کے چمچ باریک کٹے تازہ پودینے کو دو چائے کے چمچ دہی اور جو کے دلیے (جسے پیس کر سفوف کی شکل دے دیں) میں ملالیں۔ اس مکسچر کو چہرے پر دس منٹ تک لگا رہنے دیں اور پھر پانی سے دھولیں۔
لیموں
لیموں نئے کیل مہاسوں کو ابھرنے کی روک تھام کرنے کے ساتھ ساتھ جلد کی شفافیت کے لیے بہترین ہے۔ لیموں کے عرق میں روئی کو ڈبوئیں اور کیل مہاسوں پر دبا کر رکھ لیں اور کچھ دیر بعد اسے ٹھنڈے پانی سے دھولیں۔
مالٹے یا سرکہ
ترش پھل یا سرکہ بھی اس حوالے سے فائدہ مند ہے۔ ترش پھلوں کے عرق یا سرکے کی کچھ مقدار کو روئی پر ڈالیں اور نرمی سے متاثرہ جگہ کی صفائی کریں۔
شہد
شہد کی جراثیم کش خوبیاں بھی کیل مہاسوں سے نجات میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔ ایک چائے کے چمچ شہد کو متاثرہ جگہوں پر لگائیں یا آدھے کپ شہد کو ایک کپ دلیے میں مکس کرکے ماسک بنائیں اور آدھے گھنٹے تک چہرہ پر لگا رہنے دیں۔ اور پھر دھو لیں۔
لیموں
لیموں نئے کیل مہاسوں کو ابھرنے کی روک تھام کرنے کے ساتھ ساتھ جلد کی شفافیت کے لیے آزمودہ ہے۔ لیموں کے عرق میں روئی کو ڈبوئیں اور کیل مہاسوں پر دبا کر رکھ لیں اور کچھ دیر بعد اسے ٹھنڈے پانی سے دھولیں.
سیب کا سرکہ
سیب کا سرکہ بھی کیل مہاسوں کابہترین علاج ہے۔ اس کے لیے سیب کے سرکے اور پانی کی یکساں مقدار کو ملائیں اور اسے روئی کے ذریعے جلد پر لگائیں، تاہم ہر بار استعمال سے قبل اسے اچھی طرح ضرور ہلالیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button