بین الاقوامیتازہ ترین

کرسمس ایسٹر کے بعد مسیحی برادری کا سب سے اہم تہوار

کِرِسْمَس ایسٹر کے بعد سب سے اہم تہوار سمجھا جاتا ہے، اس تہوار کے موقع پرحضرت عیسی علیہ السلام کی کی لادت کی سالگرہ منائی جاتی ہے۔
اہل کلیسا اس دن کو سال کی ’دوسری عید‘کے طور پر مناتے ہیں۔ اس روز مقامی تعطیل ہوتی ہے
اس دن کی تیاریاں عیسائی مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد د سمبر کےآغازسے ہی شروع کردیتے ہیں جبکہ رشتہ داروں میں کرسمس کارڈ بھیجنے کا سلسلہ نومبرکے آخری دوہفتوں سے ہی شروع کردیا جاتا ہے۔

کرسمس سیلیبریشن کی بات کی جائے تو دنیا کے تمام ملکوں میں یہ تہوار مختلف طریقوں سے منایا جاتا ہے۔ تاہم عبادات کرنا، کیک کاٹنا، کرسمس ٹری سجانا، چرنی کی تیاری، کرسمس کینڈل روشن کرنا، نت نئے اور میٹھے پکوان بنانا، دعوتوں کا انعقاد کرنا، سانتا کلاز اورتحفے تحائف کی تقسیم کرسمس کے حوالے سے خاص اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔

چوبیس دسمبر کی رات مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد چرچ کا رُخ کرتے ہیں،جہاں رات10بجے عبادت شروع ہوجاتی ہے، جو کہ 12:30تک جاری رہتی ہے۔ اس دوران یہ لوگ ایک دوسرے کو کرسمس کی مبارکباد دیتے ہیں اور چرچ سے واپسی کے بعد مسیحی خواتین ہاتھوں میں مہندی لگانے اور دیگر تیاریوںکا سلسلہ شروع کردیتی ہیں۔ اس رات رت جگا کرکے تمام تیاریاں مکمل کی جاتی ہیں،
ان تیاریوں میں کرسمس ٹری کی سجاوٹ خاص اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ یہ سجے ہوئے درخت کرسمس کے دن کیلئے گھر کے اندر یا باہر کسی بھی جگہ لگا دیے جاتے ہیں۔ بچے اور بوڑھے سب ملکر جوش وجذبے کے ساتھ کرسمس ٹری کی سجاوٹ میں حصہ لیتے ہیں۔ سجاوٹ کے لیے مصنوعی یا پھر قدرتی دونوں قسم کے درختوں کا انتخاب کیاجاتا ہے۔ قدرتی درختوں میںکرسمس ٹری کی سجاوٹ کے لیےصنوبر، ایروکیریا یاپھردوسرے صدا بہار درختوں کا انتخاب کیا جاتا ہے بچوں اور مہمانوں کو دیے جانے والے تحائف ایک دن قبل ہی اس درخت کے نیچے رکھ دیتے ہیں،جسے کرسمس ڈے یا پھر باکسنگ ڈے (26دسمبر)کے دن کھولا جاتا ہے۔

کرسمس ڈے پر مہمانوں کے استقبال کے لیے کرسمس پلانٹ پر غورکیا جاتا ہے، اس سلسلے میں داخلی حصے کو کام میں لاتے ہوئےدروازے کے دونوں اطراف پودوں کا اضافہ کیا جاسکتا ہے۔ پودوں کی کٹائی یا تراش خراش کے ساتھ ان میں روشنیوں کا اضافہ کرتے ہوئے داخلی حصے کی زینت بنادیں اور مہمانوں کو شاندار انداز میں خوش آمدید کہیں۔

سجاوٹ کے لیے گھر کی سیڑھیوں اور گھر کے پلرز کو بھی کام میں لایا جاسکتا ہے۔ اس سلسلے میں لال اور سبز رنگ کے پھول پودوں سے ریلنگ کو سجایا جاتا ہے۔

کرسمس کے موقع پرگھروں اور گرجا گھروں میں چرنی کی سجاوٹ بھی ا س تہورارکا حصہ ہوتی ہے۔ چرنی کی سجاوٹ عام طور پر حضرت عیسٰیؑکی پیدائش سے قبل کے مناظر کی عکاسی کرتی ہے۔ بچے کی شبیہ، بھیڑ بکریوں کی موجودگی میں حضرت عیسٰیؑ کی پیدائش اور کسی اہم واقع کی جانب اشارہ کرتی ہوئی چرنی بنائی جاتی ہے۔

کرسمس کا دن: مسیحی برادری کرسمس کے دن کا آغاز گرجا گھروں میں عبادت سے کرتی ہے۔ عبادتوں کا سلسلہ گرجا گھروں میں صبح8بجے سے شروع ہوکر 11بجے تک جاری رہتا ہے۔
گرجا گھروں میں سانتا کلاز کی آمد ہوتی ہے وہ کرسمس کے موقع پر اچھے اور نیک بچوں کے لیے مختلف تحفے لے کر آتا ہے۔کہا جاتا ہے موجودہ سانتا کلاز قطب شمالی میں رہتا ہے جہاں کا پتا دنیا میں کسی شخص کو نہیں۔ سانتا کلاز کے پاس ایلفز یعنی بونوں کی فوج ہوتی ہے، جو تمام سال قطب شمالی میں موجود سینٹا کے گاؤں میں کھلونے تیار کرتے ہیں۔ سانتا کلاز کے پاس اُڑنے والے آٹھ ہرن ہیں جو اس کی بگھی کو کرسمس کی رات اُڑاتے ہیں۔ سانتا کلاز سارا سال قطب شمالی میں موجود اپنے گاؤں میں اچھے اور برے بچوں کی فہرست تیار کرتا ہے جس میں بونے (ایلفز) اس کی مدد کرتے ہیں، اس فہرست کی مدد سے سانتا کلاز اچھے بچوں میں تحفے بانٹتا ہے نیز برے اور شریر بچوں کو سزا دینے کے لیے سانتا کلاز کا ایک ساتھی بھی ہے جس کا نام کرمپس ہے۔موجودہ سانتا کلاز سرخ لباس پہنتا ہے اور اس کی سفید رنگ کی داڑھی ہوتی ہے اور یہ ہر وقت ہو! ہو! ہوا! کرتا ہے.
عبادت کے بعد گھروں میں نت نئے اور لذیذ پکوانوں کی تیاری (مثلاً پلمپ کیک، کوکیز، مٹھائیاں اور دیگر پکوان) اور دعوتوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔
مہمانوں کی تواضع سویٹ ڈشز ، ڈرائی فروٹس اور لذیذ کھانوں سے کی جاتی ہے۔ اس دن مسیحی برادری رشتہ داروں اور دوست احباب کے علاوہ غریب اور مستحق افراد میں بھی تحفے تحائف اور نقد رقم تقسیم کرتی ہے،

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button