کالم

سیاسی لڑائی میں معاشی تباہی

عمرفاروق

پاکستان کومشرقی سرحدکے ساتھ مغربی سرحدسے بھی چیلنجزدرپیش ہیں اس کے ساتھ ساتھ سفارتی، سیاسی،تجارتی اور معاشی حوالوں سے بھی پاکستان کوشدید مشکلات کا سامنا ہے۔اوردوسری طرف دہشت گردی کاعفریت پھرپھن پھیلائے کھڑاہے۔ اس صورتحال میںنقصان ہماری معیشت کاہورہاہے ،ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام نے معیشت کے حوالے سے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ سرمایہ کاروں نے اپنے ہاتھ کھینچ لیے ہیں اور ملک میں نئی سرمایہ کاری نہیں ہورہی ۔کاروباری اعتماد کے حوالے سے اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے حالیہ سروے میں کہا گیا ہے کہ ریٹیل اور پیداواری شعبے میں کاروباری اعتماد بری طرح مجروح ہوا ہے اور پاکستان میں کام کرنے والی غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے اپنی تشویش کا اظہار کردیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سیاسی سطح پر معیشت کے حوالے سے کی جانے والی بیان بازی اور ملک کے دیوالیہ ہونے سے متعلق بیانات ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مجروح کررہے ہیں۔عالمی مالیاتی ادارے اورممالک باربارہمیں متنبہ کررہے ہیں کہ معاشی اصلاحات میں بہتری لائی جائے ۔دوست ممالک معاشی صورتحال سے بچانے کے لیے تعاون کرنے کوتیارہیں مگروہ سیاسی خلفشا رسے پریشان ہیں۔ سعودی سفیر نواف سعید المالکی نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ’ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں سیاسی استحکام کی بہت ضرورت ہے۔ ہم معاشی استحکام کے لیے پاکستان کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کریں گے۔‘
ملک کی معاشی صورتحال کی بہتری کے حوالے سے جوں ہی کوئی پیش رفت ہوتی ہے توسیاسی دہشت گردی میں اضافہ ہوجاتاہے ،جس کے بعد معاشی سرگرمیاں رک جاتی ہیں اورسرمایہ کارملک سے بھاگ جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اتحادی حکومت مسلسل کوششوں کے باوجود ملکی برآمدات میں اضافہ کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ۔ پاکستان بیورو برائے شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق گزشتہ ماہ نومبر کے دوران سالانہ بنیاد پر برآمدات میں 18.34 فیصد کمی ہوئی ہے جبکہ ماہانہ بنیادوں پر برآمدات میں 63 فیصد کمی ہوئی۔ اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے نومبر کے دوران برآمدات میں 3.48 فیصد کمی ہوئی تھی اور گزشتہ ماہ نومبر کے دوران برآمدات 2 ارب 36 کروڑ 90 لاکھ ڈالرز رہیں جبکہ جولائی سے نومبر کے دوران برآمدات کا حجم 11 ارب 93 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز رہا۔ گزشتہ برس کی اسی مدت کے دوران ملکی برآمدات 12 ارب 36 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز رہیں۔
دوسری طرف ملکی تجارتی خسارہ میں رواں مالی سال کے پہلے 5 مہینوں میں سالانہ بنیادوں پر 30 فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ ملکی برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 3 فیصد اور درآمدات میں 32.98 فیصد کمی ہوئی ہے۔ جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے نومبر کے دوران تجارتی خسارے کا حجم 14.41 ارب ڈالر ریکارڈ ہوا تھا جو پچھلے مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 30 فیصد کم رہا تھا۔ گزشتہ برس کے اسی عرصے کے دوران تجارتی خسارے کا حجم20.62 ارب ڈالر ریکارڈ ہوا تھا۔ اعدادوشمارکے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 5 مہینوں میں ملکی درآمدات میں سالانہ بنیادوں پر20 فیصدکی کمی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ جولائی تا نومبر2022 تک کے عرصے میں ملکی درآمدات کا حجم 26.34 ارب ڈالر رہا تھا جو پچھلے برس کی اسی مدت میں 32.98 ارب ڈالر رہا تھا جبکہ گزشتہ نومبر میں درآمدات پر 5.25 ارب ڈالر استعمال ہوئے تھے جو اکتوبر کے مقابلے 11 فیصد زیادہ جبکہ گزشتہ برس نومبر کے مقابلے میں 34 فیصد تھا۔
جب برآمدات اوردرآمدات میں توازن نہیں ہوتاتوتجارتی خسارہ بڑھ جاتاہے ادارہ شماریات کے جاری کردہ تجارتی اعدادوشمار کے مطابق امسال جولائی سے نومبرتک تجارتی خسارہ 20 ارب 59 کروڑ ڈالرزتک پہنچ گیاہے ، گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے تجارتی خسارہ 111.74 فیصد بڑھا ہے اور جولائی سے نومبر تک برآمدات 12 ارب 34 کروڑ ڈالرز رہیں۔ادارہ شماریات کا بتانا ہے کہ اسی دوران درآمدات کا حجم 32 ارب 93 کروڑ ڈالرز رہا جب کہ 5 ماہ میں گزشتہ برس کے مقابلے برآمدات میں 26.68 فیصد اضافہ ہوا، جولائی تا نومبرگزشتہ برس کے مقابلے میں درآمدات 69.17 فیصد بڑھیں۔نومبر 2021 میں برآمدات 2 ارب 88 کروڑ ڈالرز رہیں اور نومبر2021 میں 7 ارب 84 کروڑ ڈالرز کی درآمدات کی گئیں جب کہ نومبر2021 میں تجارتی خسارہ 4 ارب 96 کروڑ ڈالرز رہا۔
ماہرین معاشیات کے مطابق پاکستان کو درآمدات کی مد میں رقم کی ادائیگی ڈالر میں کرنا ہوتی ہے مگر اسمگلنگ اورذخیرہ اندوزی کی وجہ سے ڈالرزمارکیٹ سے غائب ہورہا ہے ڈالروں کی افغانستان اسمگلنگ کا معاملہ اس قدر گمبھیر شکل اختیارکرگیا ہے کہ پاکستانی کرنسی کی قدر مسلسل گھٹ رہی ہے اور ڈالر کی شرح تبادلہ سنبھلنے میں نہیں آرہی۔ معاملہ صرف یہیں تک محدود رہتا تو الگ بات تھی۔زرعی اجناس جیسا کہ چاول اور گندم کوغیر قانونی طریقے سے سرحد پار لے جایا جارہا ہے۔یوں پاکستان کو زرعی ملک ہونے کے باوجود مہنگی گندم درآمد کرنا پڑ رہی ہے اور اس سے امپورٹ بل میں اضافہ ہورہا ہے۔
تجزیہ نگاروں کاخیال ہے کہ پاکستان معاشی و سیاسی حوالے سے بظاہر ایک طویل بحران میں داخل ہو گیا ہے، ملک میں انتخابات ہوبھی جائیں تو معاشی و سیاسی بحران ٹلنے والا نہیں، مخدوش حالات برقرار رہے تو صورتحال بے قابو ہونے کا خطرہ ہے صورتحال پر اگر فوری قابو نہ پایا گیا اور مخدوش حالات اسی طرح پنپتے اور بڑھتے رہے تو صورتحال قابو سے باہر ہو سکتی ہے اور دشمن قوتیں صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button