کالم

10 لاکھ قومی رضا کاروں کی تیاری

مصطفیٰ کمال پاشا

جماعت اِسلامی نے اعلان کیا ہے کہ وہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لئے 10لاکھ تربیت یافتہ قومی رضا کار تیار کرے گی کیونکہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے تمام ادارے، دیگر قومی اداروں اور محکموں کی طرح اپنے فرائض ادا کرنے میں کامیاب نہیں ہو پا رہے۔ زلزلہ، سیلاب اور کورونا وباء کے وقت ایسے اداروں کی مایوس کن کارکردگی نے اِس بات کی اہمیت میں اضافہ کر دیا ہے کہ کوئی تو ایسا غیر حکومتی ادارہ ہونا چاہئے جو مصیبت کے وقت قوم کے ساتھ شریک غم ہو سکے، مصیبت کے وقت اُن کی داد رسی کر سکے۔جماعت اِسلامی قومی سیاست میں نام اور مقام بنانے کی سنجیدہ کاوشوں میں مصروف ہے، نظری و فکری محاذ پر سکہ بند تنظیم کے طور پر جماعت کے ایک معتبر اور مقبول نام ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیمی، سماجی اور فلاحی کام کرنے کے حوالے ایک روشن ہی نہیں بلکہ تابناک تاریخ کی رکھتی ہے مگر اِس محاذ پر جماعت اپنا مقام اور مرتبہ برقرار نہیں رکھ سکی۔ایک وقت تھا کھالیں اَکٹھی کرنے، سماجی خدمات سرانجام دینے، قدرتی آفات میں عوام الناس کی داد رسی کرنے اور ایسے ہی دیگر فلاحی کاموں کے حوالے سے جماعت صف ِ اول میں نظر آتی تھی۔جماعت کے نوجوان اور بزرگ اعانت/چندہ دینی فریضہ سمجھ کر اکٹھا کرتے تھے اور جماعت کی طرف سے دراز کیا گیا دست ِ سوال خالی نہیں رہتا تھا۔جماعت کے نظریاتی مخالف بھی جماعت کو امین گردانتے اور مانتے تھے۔جماعت کی دیانت ہی نہیں بلکہ صلاحیت اور کارکردگی بھی کسی شک و شبہے سے بالاتر تصور کی جاتی تھی۔
ویسے ہماری دینی جماعتیں فلاحی کاموں میں صف ِ اول میں نظر آتی تھیں، ہمارے بڑے بڑے ادارے، ٹرسٹ اور اُن کے زیر انتظام چلنے والے تعلیمی ادارے، یتیم خانے اور شفا خانے اپنی مثال آپ تھے۔ معاشرے میں خدمات سرانجام دینے والے یہ ادارے بغیر کسی سرکاری درباری معاونت کے عامتہ الناس کی مالی معاونت کے لئے کام کرتے تھے،اجتماعی دانش اور اجتماعی کاوش معاشرے پر غالب تھی، معاشرے میں استحکام تھا پھر معاشرہ زوال پذیر ہونے لگا اور ایسے ادارے بھی ختم ہونے لگے۔ جماعت اسلامی کا حالیہ اعلان اِسی دورِ زرین کی بحالی کی طرف ایک قدم ہو سکتا ہے۔
مولانا مودودیؒ عالمِ اسلام کی ایک ایسی شخصیت ہیں جو شرقاً، غرباً اور شمالاً جنوباً پوری دنیا میں احترام کی نظر سے دیکھی اور پڑھی جاتی ہے۔ آپ کی تحریروں نے عرب و عجم کو یکساں طور پر متاثر کیا ہے،اُن کی تفسیر ”ترجمان القرآن“ دنیا کی کئی زبانوں میں شائع ہو کر نسلوں کی رہنمائی کا فریضہ سرانجام دے رہی،اُن کی درجنوں دیگر تصانیف شائع ہو کر مسلمانوں کی فکری و عملی رہنمائی کا کام کر رہی ہیں، لاریب وہ اپنے دور کی منفرد شخصیت اور داعی الی الخیر ہیں، اللہ رب العزت اُنہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے، آمین۔ ثم آمین۔۔۔اُن کی تخلیق کردہ جماعت اسلامی ایک مثبت فکر و عمل کو فروغ دینے والی معروف تنظیم کے طور پر پاکستان میں ہی نہیں بلکہ بنگلا دیش اور ہندوستان میں بھی برسر پیکار ہے، اُس کی تنظیمی شاخوں کا سلسلہ دنیا کے طول و عرض میں پھیلا ہوا ہے۔ مولانا مودودیؒ کے تخلیق کردہ لٹریچر سے استفادہ کرنے والے دنیا کے کسی بھی گوشے میں ہوں وہ خیر کی قوتوں کے موئید ہوتے ہیں۔
پاکستان میں جماعت اِسلامی فکری و نظریاتی سیاست میں اپنا ایک نام اور مقام رکھتی ہے۔مولانا مودودیؒ کے لٹریچر سے متاثرین اور موافقین کی ایک بڑی تعداد ہمارے ہاں پائی جاتی ہے۔قومی اتحادی تحاریک میں جان ڈالنے اور قربانیاں دینے کے حوالے سے جماعتی بھائیوں کا جواب نہیں ہے،اجتماعیت کے لئے ایثار و قربانی دینے کے حوالے سے بھی جماعتی نیک نامی کے حامل ہیں۔ مولانا مودودیؒ کے دورِ امارات کے بعد میاں طفیل محمد بھی جماعت کو انہی خطوط پر لے کر آگے بڑھتے رہے جو مولانا نے ترتیب دیئے تھے پھر قاضی حسین احمد کی امارت میں جماعت نے انقلابی بننے کی کاوشیں کیں۔جماعت کی عوامی پذیرائی میں اضافہ تو دیکھنے میں آیا لیکن انتخابی سیاست میں وہ مطلوبہ مقام حاصل نہ کر سکی۔ سید منور حسن کا دور آیا تو معاملات کسی اور ہی سمت میں چلے گئے۔سراج الحق نے جماعت کو عوامی شکل دینے کی کاوشیں شروع کر رکھی ہیں، وہ فکری و نظری میدان میں بلند آہنگ میں بات کرتے ہیں۔10لاکھ رضا کاروں کی تیاری کا اعلان بھی اِسی سلسلے کی کڑی نظر آتی ہے۔
معاشرے کی تہذیب کے لئے نوجوانوں کی فکری و نظری تربیت کے ساتھ ساتھ اُن کی معاشرتی تنظیم و تہذیب بھی ضروری ہے ہماری مذہبی جماعتیں یہ فریضہ سرانجام دیتی رہتی ہیں لیکن مولانا مودودیؒ نے اِس حوالے سے منفرد کام کیا، ایک تو اُنہوں نے دورِ جدید کے مسائل کے حوالے سے معاملات کی دینی تشریح کی،دورِ جدید کے مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے اسلامی نقطہ نظر پیش کیا، دوسرا اُنہوں نے تعلیم یافتہ نوجوانوں کو مخاطب کیا۔ پوری ایک نسل افکارِ مودودیؒ کی روشنی اور رہنمائی میں پل بڑھ کر تیار ہوئی اور اُس نے کمیونزم اور سیکولر ازم کے خلاف بڑھ چڑھ کر فکری و عملی جدوجہد کی۔ اَفکار مودودی نے مشرق وسطیٰ میں اخوان المسلمین کو بھی متاثر کیا۔افغانستان میں سوویت افواج کے خلاف برسرِ پیکار پروفیسر برہان الدین ربانی اور حزبِ اسلامی افغانستان کے گلبدین حکمت یار تو باقاعدگی سے منصورہ کی زیارت کے لئے لاہور آیا کرتے تھے۔ پاکستان میں اسلامی جمعیت طلبہ کے ہر اول دستے کے طور پر تعلیمی اداروں میں دین اسلام کا دفاع کرنے کے حوالے سے معروف ہے۔ جاوید ہاشمی، لیاقت بلوچ،امیر العظیم، فرید احمد پراچہ، خرم مراد، پروفیسر خورشید احمد اور ایسی ہی دیگر قد آور شخصیات اِسی دورِ عظمت کی روشن مثالیں ہیں۔
پھر جماعت فکری و عملی میدان میں کمزور پڑنا شروع ہو گئی۔ قاضی حسین احمد کے دورِ امارت میں جماعت کو عوامی بنانے کا تجربہ کیا گیا جس سے اُس کی پذیرائی میں اضافہ تو ضرور ہوا لیکن اُس کی دینی و نظریاتی شناخت کمزور ہو گئی پھر سید منور حسن کے دورِ امارت میں جماعت کے نظریاتی و دعوتی تشخص پر کام کیا گیا۔ جماعت کا تحریک انصاف کے ساتھ مل کر صوبہ سرحد میں حکمرانی کا تجربہ اچھا رہا،اِس کے سیاسی تشخص میں بہتری ہوئی۔جماعت کی موجودہ قیادت جماعت کو فکری و نظری میدان میں آگے بڑھانے کی شعوری کاوشیں کر رہی ہے،10لاکھ رضا کاروں کی تیاری ایک اہم پیش رفت ہے۔ یہ بھی کرنے کے کام ہیں جن سے ہمارے پالیسی سازوں اور حکمت کاروں نے نظریں چُرا لی ہیں۔ جماعت اسلامی نے اِس اہم کام کو کرنے کا ذمہ لے کر ایک ذمہ دار جماعت ہونے کا ثبوت دیا ہے جس کے لئے جماعت کی قیادت حقیقتاً شاباش کی مستحق ہے۔۔۔”ویل ڈن، جماعت اسلامی“۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button