کالم

نوید مرزا کی شاعری کا مجموعہ’ روبرو محبت ہے‘

ہمایوںجاوید

نوید مرزا منجھے ہوئے شاعر اور ادیب ہیں غزل، نظم، قطعات اور ادب کی دیگر اصناف میں اُن کی دلچسپی ہے وہ جو بھی لکھیں خُوب لکھتے ہیں اُردو غزل کہنے میں اُن کو ملکہ حاصل ہے حال ہی میں چھپا اُن کا ایک اُردو شعری مجموعہ ’’رُوبرو محبت ہے‘‘ پڑھنے کا موقع ملا جو اُردو غزلوں پر مشتمل ہے اس میں انہوں نے آغاز حمد، نعت اور سلام سے کیا ہے پھر غزلوں کی باری آتی ہے اس خُوبصورت شعری مجموعے پر نامور شعراء اظہار شاہین، مقصود عامر اور محمد نعیم مرتضیٰ کی مضامین کی شکل میں آراء موجود ہیں اظہار شاہین لکھتے ہیں ’’نوید مرزا کی غزل میں کُچھ یُوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی جادُو نگری ہے ۔ کوئی پردیسی ہے جو راستوں کو اپنے قدموں کی آواز سُنارہا ہے۔ جہاں کھڑکیوں سے موسموں کا پتہ چل رہا ہے اس طرح نوید مرزا اپنے ہم عصروں کے ساتھ بھی ہے اور علیحدہ بھی۔ نوید مرزا کی غزل میں شکستگی کا احساس ہے مگر توانائی کے ساتھ وہ احباب کی مدد پر کم اور اپنے بازوئوں پر زیادہ بھروسہ کرتا ہے‘‘ نوید مرزا کایہ شعر دیکھئے :
ہم ٹُوٹ کے یُوں جسم کے آزار سے نکلے
جیسے کوئی رستہ کسی دِیوار سے نکلے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button