کالم

سیاسی انااور ملکی حالات

اورنگزیب اعوان

پاکستان کا شمار قدرتی وسائل سے مالا مال ممالک کی فہرست میں ہوتا ہے. اس کی نصف سے زائد آبادی نوجوان طبقہ پر مشتمل ہے۔ بحیثیت قوم یہ بات ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ان نعمتوں کے باوجود ہم ترقی کی منازل کیوں نہیں طے کر پا رہے۔۔ جس دن ہم نے اس نقطہ پر سنجیدگی سے سوچنا شروع کر دیا اسی دن حالات تبدیل ہونا شروع ہو جائیں گے۔ پچھلے 75 سالوں سے ہمارے سیاسی رہنماؤں نے قوم کو دلفریب نعروں میں الجھایا ہوا ہے . مذہب، معاشی، لسانی، طبقاتی اور نسلی تعصبات کو ہوا دے کر قوم کو مختلف طبقات میں تقسیم در تقسیم کیا جاتا ہے۔ ہر ایک کے اپنے اپنے نظریات و مقاصداور مفادات ہیںاس کے پس پردہ ان کی اپنی سیاسی اناکو مضبوط بنانا ہوتاہے ۔خوش قسمتی سے اگر کسی دور میں کوئی مثبت پالیسی اختیار کی جاتی ہے جس کے دور رس نتائج برآمد ہونے کی امید جاگتی ہے تو بیرونی و اندرونی سازشی عناصر اس کے خلاف صف آراء ہو جاتے ہیں ۔ہماری بدبختی ہے کہ ہم آج تک ایک قوم نہیں بن پائے۔ ہم لوگ سیاسی شخصیت، مذہبی پیشوا کی ایسے پوجا کرتے ہیں کہ اس کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ ہمارے لیے حرف آخر ہوتے ہیں. اسعمل نے ہماری عقل پر پردہ ڈالا ہوا ہے۔
ہماری نوجوان نسل جو تعلیم کے زیور سے آراستہ ہے، وہ بھی ان فرسودہ روایات کی گرویدہ ہے۔آج وقت کی ضرورت ہےکہ تمام سیاسی رہنما یکجا ہوکر ملک و قوم کی بہتری کے لیے ایک جامع پالیسی تشکیل دیںجسپر عمل پیرا ہوکر ملک ترقی کی منازل طے کر پائے۔جب تمام سیاسی جماعتیں اور رہنما مشترکہ طور پر ایک پالیسی تشکیل دیں گے . اس پر عمل پیرا ہونا سب پر فرض ہو جائے گا ۔ کوئی اس کی خلاف ورزی نہیں کر سکے گا ۔ قومیں اسی وقت ترقی کرتی ہیں جب ذاتی مفادات سے مبرا ہو کر سوچنا شروع کر دیتی ہیں۔ ہمارے ہاں کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی ۔ سیاسی رہنما کرپشن اور بدعنوانی کو بطور ہتھیار ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ سبھی سیاست میں مال پانی بنانے آتے ہیں۔ یہ انا ہی ہے جس نے آج تک ہمیں یکجا نہیں ہونے دیا۔ اس نازک وقت میں جب پاکستان معاشی طور پر ڈیفالٹ ہونے کے قریب ہےضرورت اس بات کی ہےکہ سب کو اپنے آپسی جھگڑوں کو ختم کرکے ملک کی بہتری کی خاطر یکجا ہو کر اکٹھا ہونا ہو گا۔قوم دیکھ رہی ہے کہ اس مشکل وقت میں کونسیاسی دوکان چمکا رہا ہےکون سیاست کو داؤ پر لگا رہا ہے۔خدارا سب ہوش کے ناخن لیں. اور ملک و قوم کی بہتری میں اپنی اپنی انا کو پس پشت ڈال کر ملک کی خاطر سوچیں۔
ہم خاک نشینوں کو نہ حیرت سے یوں تکیو
ہم کرب سے گزرے ہیں، کرامات سے پہلے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button