کالم

ڈاکٹرسعادت سعید :شخصیت اور فن

پروفیسرعبد العزیز انجم

ڈاکٹر سعادت سعید اُردو شعر و نثر کا انتہائی معتبر حوالہ ہیں ۔انھوں نے اپنی تخلیقات کے ذریعے اُردو زبان و ادب کو سرفرازی و رفعت عطا کی۔ سعادت سعیدکا شمار لسانی تشکیلات کی تحریک کے بانی قلمکاروں میں ہوتا ہے ۔شاعری ، تراجم اورتحقیق و تنقید کے میدان میںوہ اپنی منفرد اور ممتاز حیثیت رکھتے ہیں ۔ وہ ایک عظیم استاد ،مفکر، دانشور ،کالم نگار اور بہترین منتظم ہیں ۔ سعادت سعید ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں ۔انھوں نے اردو کے ساتھ انگریزی اور پنجابی میں بھی لکھا ۔صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ترکی اور فارسی پر بھی عبور حاصل کیا ۔جد ید نظم میں نئے رجحانات متعارف کروانے کا سہرا بھی ان کے سر جاتا ہے ۔یہ تمام تر خصوصیات ان کی شخصیت کے گر د ایک ہالہ سا بنائے ہوئے ہیں سعادت سعید کی شخصیت اور ان کی ادبی خدمات کے پیش نظر جناب افتخار عارف فرماتے ہیں’’سعادت سعید بڑے سکالر ،بڑ ے نقاد ، ہر دل عزیز استاد ،مشرق و مغرب کے کلاسیکی اور جدید ادب کے عالم متبحر اور سب سے اہم بات میرے نزدیک یہ کہ وہ جدید ادب میں لسانی تشکیل کے دبستان شاعری کے بعد موجود میں سب سے اہم نمائندے ہیں ۔‘‘باصر سلطان کاظمی ان کے بارے اپنے تاثرات بیان کر تے ہوئے کہتے ہیں ’’نظم ہو یا نثر ،سعادت صاحب کی ایک نمایاں خصوصیت ان کی انفرادیت ہے ۔ یہ وہ سخن نہیںجو کسی نے کہا بھی ہو ۔ علم ، دانش ، تجربہ ، افکار و نظریات ، ان کی تحریروں میں ایک ایسا ماحول اور نظام تشکیل دیتے ہیں جو بہت متاثر کر تا ہے ۔‘‘ممتاز محقق اور نقاد ڈاکٹر محمد اشرف کمال ان کی شخصیت کے حوالے سے رقم طراز ہیں کہ’’ڈاکٹر سعادت سعید کی شخصیت من کو موہ لینے والی ہے ۔ وہ خوش وضع ، خوش اخلاق ، خوش لباس ،خوش گفتار اور خوبصور ت جذبوں کے حامل ہیں ۔ وہ ادبی ،تحقیقی اور تخلیقی حوالوں سے وسیع تناظر کے حامل ہیں ۔‘‘
سعادت سعید کا اصل نام سعادت حسن ہے ۔انھوں نے 15 مارچ 1949ء کو سعدی پارک لاہور میںاپنے ننھیال کے ہاں آنکھ کھولی ۔ ان کے والد ڈاکٹر الف ،د ، نسیم (اللہ دتہ نسیم )مشہور محقق ، ماہر لسانیات ،اقبال شناس اور مذہبی سکالرتھے ۔سعادت سعید کا بنیادی تعلق ساہیوال ( منٹگمری ) سے ہے ۔ ایم اے اردو کا امتحان انھوں نے 1969ء میں اورینٹئل کالج لاہور سے اول پوزیشن کے ساتھ پاس کیا اور گولڈ میڈل حاصل کیا ۔ دوران تعلیم انھوں نے اس عظیم دانش گاہ میں ڈاکٹر عبا دت بریلوی ، سید وقار عظیم ، ڈاکٹر وحید قریشی ،خو اجہ محمد زکریا اورتبسم کاشمیری جیسی نامور علمی شخصیات سے اکتساب علم کیا ۔سعادت سعید نے 1988ء میں ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کی نگرانی میں ‘‘اردو قصیدہ کا تہذیبی اور فنی مطالعہ ’’پراپنا تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ادب سے لگائو ان کے ہاں وراثتی طور پر چلا آرہا تھا ۔ اپنی ادبی زندگی میں انھوں نے اپنے والدڈاکٹر الف،د،نسیم کے ساتھ ساتھ مجید امجد ، ن۔ م ۔راشد ، افتخار جالب،منیر نیازی ،اسرار زیدی وغیرہ سے اکتساب فیض کیا ۔ڈاکٹر سعادت سعید نے اپنے تدریسی کیرئیر کا آغاز 1970ء میں بطور لیکچرار گورنمنٹ کالج راوی روڈ سے کیا۔ اسی سال وہ گورنمنٹ اسلامیہ کالج، لائلپور سے وابستہ ہوئے ۔ تین برس بعد وہ اسلامیہ کالج، ریلوے روڈ، لاہور آ گئے ، جہاں انھوں نے 1986ء تک خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں، وہ بطور اسسٹنٹ پروفیسر منتخب ہو کر گورنمنٹ کالج، لاہور چلے گئے ۔ 1995ء میں ان کا بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر انتخاب ہوا اور چار برس بعد وہ اردو و پاکستان اسٹڈیز چیئر، انقرہ یونیورسٹی کے لیے منتخب ہو کر ترکی چلے گئے ۔ وطن واپس آ کر وہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے بطور پروفیسر منسلک ہو گئے ، جہاں انھوں نے صدر شعبۂ اردو کے طور پر بھی کام کیا۔
الحمداسلامک یونیورسٹی ،اسلام آباد میںپی ایچ ڈی اردو کی اسکالر، شاعرہ ، افسانہ نگار اورما ہر تعلیم پرو فیسر رباب تبسم نے ڈاکٹر سعادت سعید کی شخصیت اور فن کا احاطہ کر تے ہوئے ’’ڈاکٹر سعادت سعید : شخصیت اور فن ‘‘ کے نام سے ایک قابل ذکر کام کیا ہے۔ جسے اکادمی ادبیات پاکستان نے ’’پاکستانی ادب کے معمار ‘‘کی سیریز کے تحت شائع کیا ہے ۔ پرو فیسر رباب تبسم نے سرکاری ملازمت میں اپنے کیئریئر کا آغاز بطور لیکچرار گورنمنٹ کالج برائے خواتین چنیوٹ سے کیا ۔ بعد ازاں کوئین میری کالج لاہور ، گورنمنٹ کالج ریلوے روڈ لاہور اور وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد میں درس و تدریس کے فرائض سر انجام دیئے ۔ انھوں نے راولپنڈی ڈائریکٹریٹ آف کالجز میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر ، پرائم منسٹر آفس اسلام آباد میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر اور پبلک ریلیشنز آفیسر کے فرائض بھی سر انجام دیئے ۔ صحافتی میدان میں وہ پاکستان ٹیلی ویژن میں کافی عرصہ نیوز کاسٹر بھی رہی ہیں ۔ وہ لاہور چیمبر آف کامرس میں سارک ( ایل سی سی آئی ) ہارٹی کلچر اینڈ کچن گارڈن کی اسپیشل ممبر رہیں ۔ اس کے علاوہ ویمن امپاورمنٹ ڈویلپمنٹ اینڈ ریسور س سنٹر کی ممبر بھی رہ چکی ہیں ۔وفاقی سطح پر شعبہ تعلیم میں قانون سازی کے حوالے سے انھوں نے نمایاں کام کیا ۔رباب تبسم اس وقت نیشنل اسمبلی اسلام آباد میںڈپٹی ڈائریکٹر پروٹوکول ،سیکرٹری سٹینڈنگ کمیٹی فیڈرل ایجوکیشن ،پر وفیشنل ٹریننگ ، ادبی اور ثقافتی ورثہ اور سیکرٹری سٹینڈنگ کمیٹی انٹر پروانشل کوآرڈی نیشن کے فرائض سر انجام دے رہی ہیں ۔
زیر نظر کتاب’’ڈاکٹر سعادت سعید : شخصیت اور فن‘‘کو چھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے ۔پہلے باب ’’سوانح ،شخصیت ،ادبی تربیت ‘‘میں ڈاکٹر سعاد ت سعید کے سوانحی حالات ، تعلیمی اداروں ،ملازمت ،ان کے علمی و ادبی رہنمائوں ، شعروادب سے دلچسپی ،قومی و بین الاقوامی روابط اور انٹر ویوز کا تفصیلاً ذکر کیا گیا ہے ۔دوسر ے باب’’سعادت سعید بحیثیت نظم گو ‘‘ میں پرو فیسررباب تبسم نے سعادت سعید کی 6شعری تخلیقات کجلی بن،فنون آشوب ، بانسری چپ ہے ،شناخت ،من ہرن ،الحان اور انگریزی نظموں کے مجموعے Phoenix پر تنقیدی نوٹ کے ساتھ ان تصانیف کا جامع انداز میں تعارف کرایا ہے ۔سعادت سعید عصر حاضر میں مجید امجد ،نیس ناگی اور اختر حسین جعفری کی شعری روایات کا تسلسل ہیں ۔ان کی شاعری میں معاشرتی ابتذال، استعماری قوتوں کے خلاف بیانیہ اور عالم گیریت کے مضمرات جیسے موضوعات نمایاں ہیں ۔
کتاب کے تیسرے باب ’’سعادت سعید بطور نقاد و محقق تنقید ی کتب کا تعارف ‘‘ میں ڈاکٹر سعادت سعید کی تحقیق و تنقید کے حوالے سے کتب کا تعارف کرایاگیا ہے ۔اس باب میں سعادت سعید کی پہلی تنقیدی کتاب ـ’’جہت نمائی ‘‘جس میں معاصر فکشن اور کلاسیکی داستان کو حوالہ بنایا گیا ہے ،جدید نظم گو شعرا کے نظری مطالعے پر مبنی کتاب ’’فن اور خالق ‘‘۔معاصر شاعری کی بوطیقا ،ادبی نظریہ سازی اور معاصر فلسفوں کی میکانکیت کے موضوع پر مشتمل ’’ادب اور نفی ادب ‘‘کا تفصیلی تعارف شامل ہے ۔ علامہ اقبال نے جس طرح مغربی نو آبادیاتی اور مقبوضہ سلسلوں کے حوالے سے معاشی ، سماجی اور ثقافتی جائزے لئے ہیں اسی پس منظر میں ایک تصنیف’’اقبال ایک ثقافتی تناظر‘‘۔ن۔م راشد کے صد سالہ جشن پیدائش کے موقع پر 2010ء میں شائع ہونے والی کتاب ’’راشد اور ثقافتی مغائرت ‘‘۔مولانا محمد حنیف ندوی کی تحقیقی اور لسانی مہارتوں کو خراج تحسین پیش کر نے کے حوالے سے ایک اہم تصنیف ’’مولانا محمد حنیف ندوی ‘‘۔سر سید کی روشن فکراور مسلم قوم کو تعلیم کی طرف راغب کر نے کے حوالے سے ’’سر سید اور فکر نو ‘‘۔جدیدیت کی تفہیم اور جدید اردو شاعری کے ادوار کا احاطہ کرتی ہوئی کتاب ’’ارد و نظم میں جدیدیت کی تحریک اور اس کے اہم علمبردار ‘‘۔’’ظفر اقبال : شخصیت اور فن ‘‘۔اور ’’اردو قصیدے کا تہذیبی اور فنی مطالعہ ‘‘جیسی اہم کتب کا جامع تعارف بھی اس کتاب کا حصہ ہے ۔سعادت سعید نے انگریزی میں ایک سو سے زائد تنقیدی مضامین لکھے جو مختلف قومی اور بین الاقوامی انگریزی اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں ان مضامین پر مشتمل کتاب’’ A Wild Goose Chase‘‘پر بھی تفصیلی بحث کی گئی ہے ۔
چوتھے باب’’سعادت سعید بطور مترجم ۔تصانیف ترجمہ کا جائزہ ‘‘میں ماہ نو سارک نمبر کے لئے تراجم ، سلویا پلاتھ کے تراجم ، معاصر ایرانی نظمیں ، ڈنمارک کے پھول ، تہذیب ،جدیدیت اور ہم ، مغربی فلسفے ، چاند وقت ، اب کیا کرنا چایئے اے مشرقی قومو‘‘کا تعارف جبکہ پانچویں باب ’’سعادت سعید کی مولفہ کتابیں ‘‘میں اقبال اور مجلہ ساہیوال ،بزم اقبال لاہور ،۱بن عربی اور مسئلہ وحدت الوجود ،راوی آزاد نمبر (مضامین نمبر ) ،شعور خود رفتگی ،نقد آزاد ،راشد بقلم خود ، راشد راوی میں ،بیاضِ راشد کا مظہریاتی مطالعہ،نقد راشد، انتخاب نظم راشد ‘‘کا تعارف کرو ایا گیا ہے ۔چھٹے باب ’’سعادت سعید مشاہیر و معاصرین کی نظر میں ‘‘رباب تبسم نے ڈاکٹر سعادت سعید کے بارے میں نامور ادبی شخصیات شمس الرحما ن فاروقی ،جابر علی سید ، جیلانی کامران ، افتخار جالب ،انیس ناگی ،افتخار عارف ، ڈاکٹر تبسم کاشمیری ،ڈاکٹر محمد اشرف کمال ، ڈاکٹر سہیل احمد خاں ، اشفاق حسین ، عذرا عباس ، باصر سلطان کاظمی ، ڈاکٹر شبیہ الحسن ، خالد محمود سنجرانی ، جمیل احمد عدیل ،ڈاکٹر سعدیہ نور ،فرحت عباس شاہ ، امجد طفیل ، ڈاکٹر ریا ض احمد ہمدانی ، علی اکبر ناطق ، اکرم کنجاہی ،ڈاکٹر فضیلت بانو ، یشب تمنا ،وحید قریشی ،سلیمان گیلانی، ڈاکٹر یونس خیال،ڈاکٹر کوثر مظہری ، ڈاکٹر طاہر منصور قاضی اورڈاکٹر سعدیہ نور کی آرا اور تاثرات کو کتاب کا حصہ بنایا ہے ۔ امید ہے یہ کتاب قارئین کی معلومات اور فہم میں اضافہ کاباعث بنے گی ۔ قابل قدر اور مفید کتاب کی اشاعت پر چیرمین اکا دمی ادبیات پاکستان ڈاکٹر یوسف خشک اور صاحب کتاب پرو فیسر رباب تبسم تحسین کے لئے کلمات تحسین ۔
’’ڈاکٹر سعادت سعید : فن اور شخصیت ‘‘میں پرو فیسر رباب تبسم نے ڈاکٹرسعادت سعید کی شخصیت ، ادبی خدمات اور دیگر اہم عنا وین پر سیر حاصل گفتگو کی ہے ۔ انھوں نے ڈاکٹر صاحب کے متعلق اتنا اہم مواد یکجا کر کے اور اسے کتابی شکل میں شائع کر کے اردو ادب کی عظیم خدمت کی ہے ۔ ڈاکٹر صاحب کے سوانحی حالات ، ادبی سرگرمیوں اورخدمات ،ان کے کلام ،مضامین ، تصانیف کا تنقیدی جائزے کے ساتھ تفصیلی تعارف اور نامور اہل علم و ادب کے تاثرات کو شامل کر نے سے یہ کتاب محققین کے لئے بہت مفیدبن گئی ہے ۔’’ڈاکٹر سعاد ت سعید : شخصیت اور فن ‘‘اردو کے ادبی ذخیرے میں ایک حسین اضافہ ہے ۔ امید ہے یہ کتاب اردو ادب کے برگ و بار کی نئی تحقیقات کے ساتھ آبیار ی میں ممدو معاون ثابت ہو گی ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button