کالم

تکلیف دہ حادثے کی روداد

مدثر قدیر

گزشتہ 15روز میں نے بڑی کوفت اور درد میں کاٹے ہیں اور ابھی تک میرا دائیاں گھٹنا ٹھیک نہیں ہوپارہا اور مجھے چلنے پھرنے کیساتھ روزمرہ کاموں کو سرانجام دینے میں دشواری کا سامنا کرناپڑرہا ہے،بات یہ ہوئی کہ شادمان انڈر پاس سے گزرتے ہوئے کا ر نے مجھے ہٹ کیا اور میں موٹر سائیکل کا توازن برقرار نہ رکھ سکا اور نتیجتا دائیں طرف چلتی سڑک میں گرگیا خوش قسمتی سے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا اس لیے ہیڈ انجری نہ ہوئی مگر میرا دائیاں گھٹنہ پاؤں تک زخمی ہوگیا جس کی وجہ سے میرا سڑک سے اٹھنا مشکل تھا اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے چند راہگیر تیزی سے میری طرف بڑھے اور مجھے اٹھا کر سائیڈ پر لے گئے اب میرا حال یہ تھا کہ میں سیدھے پاؤں چلنے کی کوشش کرتا تو میرا دماغ مجھے کہتا کہ اگر تم نے ایک قدم بھی مزید اٹھایا تو پاؤں ساتھ نہیں دے گا اور گرپڑو گے اس صورت حال کے پیش نظر میں نے دفتر سے اپنے ساتھی راجا سرفراز کو فون کیا کہ فوری مدد کو آؤ میرا یکسیڈنٹ ہوا ہے اور گھٹنا شاید فریکچر ہوگیا ہے. راجا سرفراز فوری 10منٹ کے اندر جائے حادثہ پر پہنچے مگر ان سے پہلے دوسرے ساتھی رانا عبدلمنان وہاں پہنچ گئے اور موقع کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ریسیکیو 1122کو فون کردیا،میری یہ حالت تھی کہ نہ تو میں کھڑا ہوپارہا تھا اور نہ ہی دیوار کیساتھ سہارا لگا کر بیٹھنے کی ہمت تھی،
راجا سرفراز بھی پہنچ چکا تھا اور مجھے چلنے کا مشورہ دے رہا تھا مگر میرے لیے قدم اٹھانا بھی مشکل تھا اتنی دیر میں ریسکیو 1122کی ایمبولینس آگئی اور مجھے انھوں نے سروسز ہسپتال کی ایمرجنسی میں پہنچایا. وہاں پہنچنے سے قبل میں سمز کے پی آر او عرفان کو فون پر بتا چکا تھا کہ میرے ساتھ کیا ہوا ہے اور انھیں تاکید کی کہ فوری ایکسیڈنٹل ایمرجنسی آجائیں اور وہ بھی وہاں موجود تھے۔ یہاں ایمرجنسی میں میراامتحان شروع ہوا جو تلخ تجربہ تھا،مجھے ڈاکٹرز نے چیک کیا اور فوری طور پر ایکسرے کا لکھ دیا تاکہ پتہ چل سکے کہ گھٹنہ فریکچر تو نہیں ہوگیا اب میری حالت دیدنی تھی آپ یقین نہیں کریں گے کہ حادثات کی ایمرجنسی کا ایکسرے سنٹر ہو اور وہاں پر مریض کے لیے بیٹھنے کا کوئی انتظام نہیں ۔میں کبھی عرفان کے گلے میں با نہیں ڈال کر کھڑا ہوں اور جب عرفان مدد کے لیے ڈاکٹر کی طرف رجوع کرتے تو میں راجا سرفراز کے گلے میں بانہیں ڈال کر کھڑا ہوجاتا ۔اسی کشمکش میں 15منٹ گزر گئے اور درد کی شدت اور ذیادہ بڑھ گئی۔ آخر کار اللہ اللہ کرکے میری ایکسرے کی باری آئی اور یہاں سے فری ہوکر مجھے باڈی اسکین کے لیے الٹرا ساؤنڈ روم لے جایا گیا یہاں پر مریضوں کے بیٹھنے کا انتظام تھا۔الٹراساؤنڈ کی رپورٹ اوکے آئی تو میں نے عرفان سے کہا کہ ایکسرے کی رپورٹ لے لیں اب وہ ایکسرے کی رپورٹ لینے گئے تو وہاں پرموجود ڈیوٹی والے اپنے انچارج کو آگاہ کیے بغیر نکل چکے تھے۔ وہ تو بھلا ہو عرفان کا کہ اس کو ایکسرے روم کی تکنیک آتی تھی اور انھوں نے لیب سے میرا ایکسرے نکال لیا اور ڈاکٹر کو دکھایا جس نے درد اور ٹیٹنس کا ٹیکہ ریکمینڈ کیا اور بعد میں نرسنگ اسٹاف نے لگایا اور مجھے ڈسچارج کردیا گیا۔ میں عرفان اور راجا کا سہارا لے کر ایمرجنسی سے باہر آیا اور عرفان نے اپنی گاڑی میں مجھے دفتر تک ڈارپ کیا جہاں پر میرے پہنچنے سے پہلے جوائنٹ ایڈیٹرعثمان اکبرنے دفتر کی گاڑی پر میرے گھر پہنچنے کا انتظام کررکھا تھا اور میں آخر کار گھر پہنچا اور فوری طور پر سکون میں آیا میرا پورا جسم ابھی تک حادثہ کی وجہ سے درد کر رہا تھا اور مجھ میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ اٹھ کر واش روم جاسکوں۔
بات کرنے کی یہ ہے کہ لاہور شہر کا اتنا بڑا ہسپتال جہاں پر حادثات اور ٹراما کی وجہ سے مریضوں کو لایا جاتا ہے اس کی ایکسرے سنٹر میں مریض کے بیٹھنے کی کوئی سہولت موجود نہیں ۔یہ میں گلہ نہیں کررہا میرا پرسنل تجربہ ہے جس کو بیان کررہاں ہوں کہ مریض کو ایکسرے کے ضمن میں کیا سہولیات میسر ہیں۔ مجھے میوہسپتال کی ایمرجنسی کا ایکسرے سنٹر یاد آگیا جس کے باہر مریضوں اور انکے لواحقین کے لیے بنچز رکھے گئے ہیں اور یہی صورتحال گنگارام ہسپتال کی ایمرجنسی کا بھی ہے جہاں پر ایکسرے سنٹر کے باہر بنچ لگائے گئے ہیں تاکہ مریض اور ان کے لواحقین بیٹھ کر اپنی باری کا انتظار کرسیکں۔ اور اگر کوئی سیریس مریض آجائے تو اس کو فوری طور پر ایکسرے روم میں پہنچا کر اس کا ایکسرے کیا جاسکے مگر تینوں ہسپتالوں میں ایکسرے فلموں کی قلت کا ایشو کئی ماہ سے چل رہا ہے جس کو ابھی تک حل نہیں کیا جاسکا اور مریض کو اس کے ایکسرے کی ڈیجیٹل تصویر موبائل فون پر فراہم کی جاتی ہے۔شعبہ صحافت اور خصوصی طور پر صحت کے معاملات پر رپورٹنگ کی وجہ سے میں صحت کے نظام کی افادیت،طبی ماہرین کا مریض کے علاج کے ضمن میں مثبت کردار اور ایسے کئی واقعات کو میں کم وبیش روزانہ ہی فائل کرتا ہوں جس میں حکومت کی طرف سے دی جانے والی فری سہولیات کا ذکر ہوتا ہے مگر سروسز ہسپتال میں میرا ذاتی تجربہ جو مجھے نظر آیا اس کو بیان کرنے کا مقصدیہ ہے کہ جن حضرات کی ایڈمنسٹریشن پر ڈیوٹی ہے ان کو ایسے معاملات سے آگاہ رہنا چاہیے اور اس ضمن میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے ۔میں نے کل بھی خبر فائل کی کہ سیکرٹری صحت ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے سروسز ہسپتال کا تفصیلی دورہ کیا اور مریضوں کو د ی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا مگر مجھے معلوم نہیں کہ ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی نظر ایمرجنسی ایکسرے سنٹر کے پڑی یا نہیں اور ہسپتال انتظامیہ نے اس ضمن میں کیا کردار ادا کیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button