کالم

16 دسمبر۔۔۔ ہماری ملی تاریخ کا روز سیاہ

حکیم راحت نسیم سوہدروی

سولہ دسمبر 1971کا دن ہماری ملی تاریخ کا روز سیاہ ہے جس دن دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکتپاکستان اپنے قیام کے 24 سال 4 ماہ 98 دن کے بعد دولخت کردی گئی۔ اس طرح مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا -یہ بدترین المیہ ہے کہ جو کسی لحاظ سے سقوط غرناطہ، سقوط بغداد اور سقوط دہلی سے کم نہ ہے اس عظیم المیہ سے ہمارے جسد قومی پر جو ضرب پڑی اس کے اثرات ہمیشہ محسوس کئے جائیں گے 16 دسمبرکے المیہ سے کیا ہم نےسبق لیا اور اپنا کیا محاسبہ کیا؟سقوط ڈھاکہ المیہ پر 52 سال سے بحث جاری ہے مگر یہ حقیقت ہے کہ قومی قیادت نے ذاتی مفاداور لالچ کے سامنے سجدہ ریزیاں کیں۔ ہمیں اپنے کردار کا جائزہ لے کرمستقبل کا تعین کرکے آئندہ لائحہ طے کرنا چاہئے تھا مگر ایسی کوئی صورت نظر نہیں آتی بلکہ ریٹائرمنٹ سے چند روز قبل جنرل باجوہ نے اسے سیاسی شکست قرار دے کر پھر بحث کا دروازہ کھول دیا ۔
اس طرح کے المیے یا سانحات ایک دن یا چند دنوں، ہفتوں ،مہنیوں میں رونما نہیں ہوتے اور نہ کسی زلزلہ ہا طوفان کی طرح اچانک آتے ہیں بلکہ ان کے لئے طویل عرصہ تک ریشہ دوانیوں اور فتنوں کو پروان چڑھنے کا موقع دیا جاتا ہے، قوم کا داخلی اتحاد کمزور کیا جاتا ہے، نسلی صوبائی علاقائی لسانی اور فرقہ واریت کے تعصبات کو پروان چڑھایا جاتا ہے تو اس قسم کے المیےجنم لیتے ہیںہماری افواج کا شمار دنیا کی اعلی ٰافواج میں ہوتا ہے ۔
حالات گواہ ہیں کہ ہم آج بھی گروہی تعصبات کا شکار ہیں سماجی انصاف کا دوردور تک نام نہیں ادارے اپنی ساکھ کھو چکے ہیں انصاف غریب کے لئے نہیں ہے قومی وقار کی بحالی کے لئے کوئی کام دانستہ یا شعوری طور پر نہیں ہوا۔ 16 دسمبر کو چند فورموں یا اخباری مضامین سے قومی مورال یا حکمت عملی طے نہیں پاتی کشمیری عوام جو تکمیل پاکستان کی جنگ لڑرہے ہیں ہم ان سے بھی لا تعلق ہیں، فرقہ واریت عروج پر ہے، معاشی حالات بد ترین ہیں، لاقانونیت زوروں پر ہے، سیاسی عدم استحکام ہے۔ راھنمائوں کے دامن پر بدعنوانیوں اور لوٹ مار کے الزامات ہیں ملک عالمی بنک اورآئی ایم ایف کی معاشی غلامی میں دیا جاچکا ہے قومی اثاثے گروی رکھے جاچکے ہیں عام آدمی کو روٹی کے لالے پڑے ہوئے ہیں ادارے بے توقیر ہو گئے ہیں۔ امیر طبقہ احتساب سے با لا تر ہے، قانون صرف غریبوں کے لئے رہ گیا ہے – قوم قائد اعظم کی قیادت میں جسد واحد تھی قوم کا ہر طبقہ ان کی قیادت میں متحد ومتفق تھا، انہوں نے بیک وقت دو بالادست اقوام انگریز اور ہندو سے جنگ جیتی مگر جوں ہی قیادت کے بحران نے جنم لیا اتحاد کی فضا ختم ہوئی تو سقوط ڈھاکہ کی تاریخ دہرائی جا سکی – حکومت کو حمود الرحمن کمیشن رپورٹ کی روشنی میں اقدامات کرنا ہوں گے سیاسی عسکری قیادت کے ساتھ عدلیہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا لیکن المیہ یہ ہے کہ احساس زیاں جاتا رہا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button