کالم

سرائیکی صوبہ ،جنوبی پنجاب عوام کے دل کی آواز

تنویر حسین

نوجوان کسی بھی ملک اور قوم کا قیمتی سرمایہ اور اثاثہ ہوتے ہیں ۔ملتان کے مہر مظہر عباس کات کا شمار بھی پاکستان کے ایسے نوجوانوں میں ہوتا ہے جنہوں نے خود کوصرف فلاح انسانیت کے لیے وقف کیا ہوا ہے ۔مہر مظہر عباس کات کے ارادے چٹان سے بھی زیادہ مضبوط اور حوصلہ ہمالیہ سے بھی زیادہ بلند ہے ۔سرائیکستان تحریک کےلئے ان کی خدمات ناقابل فراموش اور لازوال ہیں ۔ سرائیکی صوبہ کے قیام کے لیےوہسرائیکستان نوجوان تحریک کی باگ ڈور سنبھالے ہوئے ہیں ۔سرائیکی زبان اور سرائیکی ’’ادب ‘‘ کو پروان چڑھانے کے لیے بھی بھرپور اور فعال کردار ادا کرتے ہیں ۔
گزشتہ روز سرائیکستان نوجوان تحریک کے چیئرمین کی حیثیت میںمہرمظہر عباس کات نے احمد پور سیال کا دورہ کیا اور ضلع جھنگ کو ڈویژن کا درجہ دینے اور اسے نئے مجوزہ سرائیکی صوبہ میں شامل کرنے کے حق میں پل نجف چوک پر ایک کامیاب احتجاجی مظاہرہ کیا۔مظلوم کے حامی اور ظالم کے سخت خلاف ہیں ۔جہاں کسی کی حق تلفی ہورہی ہو یا انسانی حقوق کو پامال کیا جارہا ہو اس کے لیے بھرپور آواز اٹھاتے ہیں ۔مظہر عباس کات نے بتایا کہ سرائیکستان نوجوان تحریک تو 45سال پرانی چل رہی ہے ۔ اس تحریک کا حصہ درجنوں سے بھی زیادہ لوگ اس دار فانی سے کوچ کرچکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی تحریک ہو توبندہ زیرو سے ہی سٹارٹ لیتا ہے پھر ایک ،پھر دو پھر سو تک افراد اس میں شامل ہوجاتے ہیں ۔مہر مظہر عباس کات نے کہا کہ سب پہلے اس خطے کو پہلی بار’’ نوائے وقت‘‘ نے جنوبی پنجاب لکھاتو نوائے وقت اخبار کو حکومت نے نوٹس دیا اوراس کے تمام سرکاری اشتہارات بند کردئیے کہ پنجاب کو آپ نے دو حصوں میں تقسیم کیوں کردیا ہے؟لیکن یہ تحریک کے لوگوں کی محنت تھی جن کا موقف تھا کہ ہماری زبان، نسل، رہن سہن اور تہذیب وتمدن اور ثقافت بھی منفرد ہے ۔
ہمارا بجٹ لاہور پر لگادیا جاتا ہے ۔ یہاں کے اضلاع کی نوکریاں وہاں سے بیٹھ کر سیکرٹری نوٹیفیکیشن جاری کردیتے تھے۔ ملتان، مظفر گڑھ ، رحیم یار خان ، بہاولپور کے باشعور عوام نے اس تحریک کو پہلے سمجھا۔ اور سرائیکی چوک بہاولپور میں صوبہ کی بحالی کے لیے ایک احتجاجی جلسہ کیا۔ یہاں سے اس تحریک نے تقویت پکڑی اور پھر یہ چلتی چلتی 1867ء میں یہ جو ہمیں کہتے تھے ’’جانگلی لہجہ‘‘،’’جھنگوچی لہجہ یابھکر والا بھیچڑ لہجہ یا ڈیرہ غازیخان والا ڈیروی لہجہ،ڈیرہ اسماعیل خان والا ملتانوی لہجہ اور بہاولپوری یا ریاستی لہجہ یہ پانچ ، چھ لہجے کے لوگوں کے جو محققین جن میں ڈاکٹر عبدالحق جن کا آج بھی پاکستان میں شمار ٹاپ کے محققین میں ہوتا ہے جس کا ثانی بھی جھنگ میں ابھی تک پیدا نہیں ہواوہ ہمارے جھنگ کا تھا ۔
پانچ چھ محقق اور ہمارے جھنگ کے لہجے کا جو محقق تھا انہوں نے ملتان کے ایک تعلیمی ادارے میں بیٹھ کرکہا کہ ہم اپنے پانچ ، چھ لہجوں کوکوئی ایک زبان کا نام دیں ۔سب دانشوروں نے مل کر اس کو’’سرائیکی ‘‘ کا نام دیا۔ ڈیروی یا بہاولپوری دانشوروں نے بارہ بارہ ہزارصفحات کی ڈکشنریاں لکھ دیں۔ قوم کی بقا کے لیے دن رات مطالعہ کرنا پڑتا ہے جس طرح گاندھی نے قائد اعظم سے پوچھا کہ آپ ہر وقت جاگتے ہیں کچھ استراحت بھی کر لیا کریںکیا آپ کو نیند نہیں آتی؟ تو قائد اعظم نے جواب دیا کہ ’’بھائی آپ کی قوم جاگ رہی ہے آپ سو سکتے ہیں ۔میری قوم سو رہی ہے میں نہیں سو سکتا۔‘‘ اب جو سرائیکی سلیبس بنا ہے میرا بنیادی لہجہ جھنگ کا ہے تو میں نے تھوڑا سا دبائو ڈال کرمیٹرک سے پی ایچ ڈی تک ہر پندرہ اسباق میں اپنے جھنگ کے لہجے کے لوگوں کو شامل کروایا ہے بے شک ہم ابھی معیار پر پورا نہیں اترتے لیکن لہجہ تو ہمارا شامل کرو شوق پیدا ہوگا تو دانشور جنم لیں گے،ہم یہی باور کروا رہے ہیں کہ جھنگ ملتان کا حصہ ہے۔
میں نے ضلع جھنگ کے سیاستدانوں سے اپیل کی ووٹوں سے منتخب ہوکر وزیر بن سکتے ہیں تو80فیصد غریبوں کے لیے صوبے کی آواز کیوں نہیں بلند کرسکتے ۔تو انہوں نے کہا کہ ہم ہر طرح سے ملتان کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں ۔صاحبزادہ میر سلطان نےبھی تعاون کی یقین دہانی کروائی۔ سرائیکی زبان میںقدرت نے مٹھاس رکھی ہے ۔ حضرت امام حسینؓ کامرثیہ دنیا بھر میں سرائیکی میں مشہور ہے۔ایران والے سمجھتے نہیں، عراق والوں کی عربی ایران والوں کی فارسی زبان ہے مگر سرائیکی زبان کا مرثیہ جب پڑھا جاتا ہے تو وہ آبدیدہ ہوجاتے ہیں صرف مرثیے کے درد اور مٹھاس کی وجہ سے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button