کالم

ڈیڈلاک کہاں ہے

ستار چوہدری

فارمیسی پر ایک شخص آیا اور کہا پیٹ میں بہت درد ہو رہا ہے۔
فارماسسٹ سمجھ گیا کہ قبض ہے، پھر اس سے پوچھا،گھر کتنی دور ہے تمہارا؟
مریض :دو کلومیٹر۔
فارماسسٹ نے دوا کی مقدار کیلکولیٹ کی اور ایک بوتل میں چار چمچ دوائی ڈال لی۔
فارماسسٹ: گاڑی سے آئے ہو یا چل کر ؟
مریض :چل کر ۔
فارماسسٹ نے پھر سے ڈوز کیلکولیٹ کی اور تھوڑی سی دوائی بوتل میں سے واپس نکال لی ۔
فارماسسٹ: گھر کون سی منزل پر ہے؟
مریض :تیسری منزل پر ۔
فارماسسٹ نے دوبارہ ڈوز کیلکولیٹ کی اور بوتل سے تھوڑی سی مزید دوا نکال لی۔
فارماسسٹ: اب آخری سوال کا جواب دو، گھر کے مین گیٹ سے ٹائلٹ کتنی دور ہے؟
مریض: بیس فٹ ۔
فارماسسٹ نے آخری بار کچھ حساب کیا اور بوتل سے تھوڑی دوا اور نکال لی۔
فارماسسٹ: اب میری دوا کے پیسے دے دو پہلے، پھر یہ دوا پیو، اور فٹا فٹ گھر کی طرف نکل لو۔ کہیں رکنا مت۔ پھر مجھے فون کرنا۔ مریض نے ویسا ہی کیا آدھے گھنٹے بعد مریض کا فون آیا ۔
مریض نے کیا بتایا یہ بعد میں بتاتا ہوں،اتحادی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان آجکل کیا چل رہا،الیکشن قبل از وقت کرانے کیلئے ڈیڈ لاک ہے کہاں؟ دیکھا جائے تو جن دنوں تحریک انصاف الیکشن کرانے پر رضا مند ہوسکتی،حکومت اور ان میں بس تین ،چار ماہ کا فرق پڑرہا ہے،حکومت تین،چارماہ پہلے الیکشن کرانا کیوں نہیں چاہتی ؟ تین،چار ماہ سے کیا فرق پڑ جائےگا؟رانا ثناءاللہ خود کہہ چکے،الیکشن تین ،چار ماہ آگے ،پیچھے ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے۔تو اسکے باوجود انتخابات کا اعلان کیوں نہیں ہورہا۔یہ تو صاف ظاہرہے کہ الیکشن کا اعلان ہونے سے کم ازکم سیاسی استحام تو آجائےگا،سیاسی استحکام سے معاشی استحکام بھی آئے گا۔معاشی صورتحال اتنی خراب جارہی،ڈالر کی قیمت میں روز اضافہ ہورہا،سٹاک مارکیٹ میں مسلسل مندی،کوئی کاروبار نہیں ہورہا،انڈسٹری بند پڑی،مہنگائی اتنا زیادہ ہوچکی،غریب کی چیخیں ایک طرف،اچھے بھلے امیر لوگ گاڑیوں سے موٹر سائیکل پر آگئے ہیں۔حتیٰ کہ اوبر کی موٹر سائیکلیں استعمال کررہے،کہیں آپ اوبر چلانے والے کسی آدمی کا انٹرویو کرکے دیکھ لیں۔ملک کے پاس اس وقت پیاز خریدنے کیلئے پیسے نہیں ہیں،بندرگاہ پر پیاز،ادرک،لہسن کے سینکڑوں کنٹینر زپورٹ پرکھڑے ہیں،اس کے علاوہ سویا بین کے لاتعداد کنٹینرزکلیئر نہیں ہورہے،عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں انتہائی کم ہوچکی ہیں لیکن حکومت کوئی ریلیف نہیں دے رہی،ایک لیٹر پٹرول،ڈیزل پر ستر سے اسی روپے کما رہے ہیں،پام آئل کی قیمتیں بھی عالمی مارکیٹ میں آدھی ہوچکیں لیکن یہاں گھی کی قیمتیں دیکھ لیں،پرسوں70 روپے مزید اضافہ کردیا گیا۔بات یہاں تک پہنچ چکی ہے بیرون ملک تمام پاکستانی سفارتخانوں کے فنڈز روک دیئے گئے ہیں،کسی سفیر اور دیگر عملے کو تنخواہیں تک نہیں ملیں۔کئی سرکاری محکموں کے ملازمین کو تنخواہیں نہیں ملیں،کہیں آدھی تنخواہیں ملی ہیں۔ عام آدمی دو وقت کی روٹی کھانے کو ترس رہا،اپنے ان حکمرانوں کی مکمل موج مستی چل رہی،انکے بیرونی دورے ہی دیکھ لیں،پورے پورے خاندان قوم کے پیسوں سے سیر سپاٹے کررہے ہیں،بلاول تو رہتا ہی بیرون ملک،فضل الرحمٰن،جس کے پاس کوئی عہدہ نہیںوہ بھی ائیر فورس کا جہاز استعمال کرتے ہیں۔اتحادی حکومت کے ان چھ،سات ماہ میں کابینہ کے لندن میں کتنے اجلاس ہوئے ؟وزیراعظم نے بیرون ملک کے کتنے دورے کئے؟حاصل کیا ہوا؟
ہاں بات تھی ڈیڈلاک کی۔اصل میں ابھی تک اتحادیوں کے وہ مقاصد پورے نہیںہوئے جن کی بنیاد پر وہ حکومت میں آئے تھے۔اسحاق ڈار کے ابھی تک6ارب کے اثاثے بحال نہیںہوئے،جن کی بحالی کیلئے کام شروع ہوچکا ہے۔ وزیراعظم، انکے بیٹوں حمزہ،سلیمان کی ابھی تک منی لانڈرنگ کیس میں مکمل طور پر جان نہیں چھوٹی،شاہد خاقان عباسی،رانا ثناءاللہ کے ابھی تک ایک،دو کیس باقی ہیں۔حنیف عباسی کا کیس بھی ختم نہیں ہوا۔سب سے بڑھ کر نواز شریف کے کیس ابھی تک جوں کے توں پڑے ہوئے ہیں۔نواز شریف کے بغیر ن لیگ زیرو ہے،انکے بغیر الیکشن مہم کیسے چلائیں گے ؟اگر انہوں نے الیکشن کی دوڑمیں شامل ہونا ہے تو نواز شریف ضروری ہے ورنہ یہ لوگ دوڑ میں شامل ہی نہیں ہوسکیں گے۔حکومت چاہتی ہے ابھی انہیں چند ماہ مزید مل جائیں تاکہ اپنے کیس ختم کرالیں جب کہ عمران خان بھی یہ جانتا ہے کہ حکومت کیوں دیر کرنا چاہتی ہے،اس کی کوشش ہے ان کے باقی کیس ختم نہ ہوپائیں اور انتخابات ہوجائیں اور وہ دوبارہ اقتدار میں آکر انہیں مقدمات کے سونامی میںپھنسا دیں۔
اب پہلی کہانی، مریض اور فارسسٹ کی مکمل کرتے ہیں۔
آدھے گھنٹے بعد مریض کی کال آتی ہے،وہ ایک دم ڈھیلی آواز میں بولا :ڈاکٹر صاحب دوا تو بہت اچھی تھی آپکی مگر آپ نے شاید ناڑا کھولنے کا ٹائم کیلکولیٹ نہیں کیا تھاہم دس سیکنڈ سے ہار گئےہیں۔
بس ایسا ہی سمجھیں،عمران خان اتحادی حکومت کیلئے دوائی توتجویز کررہے ہیں لیکن ناڑا کھولنے کا ٹائم کیلکولیٹ نہیںکررہے،اگر حکومت انکی’’دوائی‘‘ لے گی تو ’’ہار‘‘ جائے گی۔اسی بات پر ڈیڈلاک ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button