کالم

اے گزرتے ہوئے سال۔۔۔الوداع

(عبدالرّٰحیم مرتضیٰ ، لاہور)

سال اب مہینوںمیںگزرجاتے ہیںاور ہفتے دنوںمیں۔وقت کی طاقت کوکوئی بھی نہیںسمجھ پایاہے۔یہ سال بھی ختم ہونے کے قریب ہے۔گزرتے ہوئے سال کی ایک عادت مجھے بہت پسندہے یہ اپنوںمیںچھپے ہوئے بہت سے چہروںکوبے نقاب کردیتاہے۔چنددنوںکی مسافت پرنیاسال ہماراانتظارکررہاہے۔جوپل بھی گزرا، اُس نےجا کے یادوںمیںآناہے۔کچھ دنوںبعدیہ سال بھی ہماری یادوںکاحصہ بن جائے گا۔ یادیںاچھی بھی ہوسکتی ہیںاوربرُی بھی۔وقت کی رفتاراِتنی تیزہے کہ انسان ابھی خودکوبھی نہیںسمجھ پاتاکہ زندگی خداحافظ کہہ جاتی ہے۔بعض اُوقات ایسامحسوس ہوتاہے کہ اِک لمحے میںشایدپوری زندگی گزرگئی ہواوراگلے ہی لمحے موت ہم کوخوش آمدیدکہہ رہی ہو۔خود کو بدلیںسال توہردفعہ بدل جاتاہے۔ کوشش کریں ہراِک انسان سے محبت کریں،خوشیاںتقسیم کریں، اوربے سہاروں کا سہارابنیں۔خداکی قسم اصل کامیابی یہی ہے۔آج یہ سال الوداع ہورہاہے توہم کوافسوس ہے کہ ہماری زندگی کاایک سال ختم ہونے والاہے،بالکل اسی طرح سے کل کوجب ہم بھی اِس دنیا سے رخصت ہوںتوہمارے جانے کابھی افسوس کیاجائے۔ زندگی بہت مختصرہے اِسے نفرتوں میں مت گزاریں۔ آئیںہم سب اِس گزرتے ہوئے سال کو خوبصورت بنائیں،اُن لوگوںسے معافی مانگیںجوآپ سے خفاہیں،اُن لوگوںکوگلے لگائیں جوآپ کی وجہ سے اذیت میںہیں،اوراُن لوگوں کو معاف کردیں جنہوں نے آپ کی دل آزاری کی ہو۔
ذرا سی دیرکوطے ہے کہ آخرشام ہونی ہے
حقیقت یاکہانی جوبھی ہے انجام ہونی ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button