کالم

وہ دن دُور نہیں

رسول بخش رئیس

کسی کا انتظار کیا کریں‘ توقع کیوں باندھیں‘ گلہ کیاکریں ؟ دیر کس بات کی‘کام سے لگن رکھنے والے کسی اچھے موسم کے منتظر نہیں رہتے‘ نہ اُنہیں خوشگوار ماحول کی ضرورت پڑتی ہے۔ دل میں اُتر جائے تو موسم‘ ماحول اور لمحے بدل جاتے ہیں۔ آگے بڑھنے کی لگن ہوتو موسم سازگار بن جاتے ہیں۔ ماضی تو گزر چکا‘ اس پر کیا تاسف کرنا ؟ کامیاب لوگ لمحۂ موجود میں جیتے اور اسے سنوارتے ہیں۔ اور انہماک ایسا کہ جو بھی کررہے ہوں‘بس اسی میں کھو جاتے ہیں۔ یہ انہماک کھیتوں میں کام کرنے والوں سے لے کر نیویارک اور دنیا کے دیگر بڑے تعلیمی اور تجارتی اداروں میں کام کرنے والوں میں دیکھا ہے۔ ہمیشہ ایسا معلوم ہوا کہ اُنہوں نے اپنی ایک دنیا بسائی ہوئی ہے۔ یہ انہماک کام کو عشق اور وارفتگی کے قریب لے جاتا ہے۔ یہ لوگ اپنی دنیا میں اتنے جذب ہوتے ہیں کہ خود ساختہ کشمکش‘ فکر مندی اور تعصبات جیسی کسی چیز میں دلچسپی نہیں رہتی۔ یہ درویش ابھی تک نوجوانوں کے ساتھ وقت گزار رہا ہے اور اب تو بہت زمانے گزر گئے ہیں۔ ان کے ذہنی رجحانات‘ جذبوں‘ شوق اور جستجو کو دیکھتا رہتا ہوں۔ سب برابر تو نہیں ہوتے مگر شوق ایک دفعہ پیدا ہوجائے تو صحرائوں میں آزاد گھومتے گھوڑوں کی طرح ایسی زقندیں بھرتے ہیں کہ عقل حیران رہ جاتی ہے۔
ہماری خوشی اس میں ہے کہ سبزی لگائی ہوتو بہار دکھائی دے۔ درخت لگایا ہے تو سایہ اور پھل نصیب ہو‘ پھولوں کی کیاری میں موسم کے اعتبار سے رنگ اور خوشبو سے آنکھوں میں تراوٹ اور دل میں سکون کی دنیا آباد ہو۔ اور ہمارے شاگرد صرف سند نہیں کچھ علم‘ کچھ شوق کے ساتھ اچھے انسان بن جائیں۔ زندگی میں وہ کام کریں جس سے رغبت ہو‘دل لگا رہے۔ پیشہ مشغلہ بن جائے۔ صادق اور امین رہیں۔ سچ بولیں اور خود کما کر کھائیں‘ بے شک آپ کے والدین امیرہوں اور دولت کے خزانے چھوڑ جائیں۔ جب وہ کچھ بن جاتے ہیں اور خبر آتی ہے تودل اطمینان کی بادِ نسیم کے جھونکوں سے مہک اٹھتا ہے۔ گھونسلوں سے پرندے پر نکال کر اُڑجاتے ہیں۔ اپنی اپنی دنیا تلاش کرنے اور بسانے کے لیے۔ میں نوجوانوں سے مایوس نہ کبھی تھا اور نہ ہی ہوسکتا ہوں۔ انہیں صرف تعلیمی اداروں میں لے آئیں‘جو بھی ان کی حالت ہو‘ اس سے غرض نہیں۔ ایک دفعہ کہیں پہنچ جائیں‘ استاد موجود ہوں‘ تو وہ کچھ بن کر ہی نکلیں گے۔ ہماراصلہ تو یہی ہے کہ ہمارے حکمران طبقات اور اشرافیہ غریبوں کے بچوں کی تعلیم کے بارے میں وہ قومی ذمہ داری محسوس نہیں کرتے جو ہم نے آزادی کے ابتدائی برسوں میں دیکھی تھی۔ دوسری بات یہ ہے کہ وہ معیاری سکول‘ کالج اور یونیورسٹی کا انتخاب کریں۔ بھاری فیس دیں گے اور آمد و رفت کے لیے گاڑیوں اور ڈرائیوروں کا بندوبست بھی کریں گے۔ ہمارا تو مشاہدہ یہی ہے کہ کوئی بھی کسی تعلیمی ادارے میں آجائے اور رک جائے تو سنور جاتا ہے۔ بھگوڑوں‘ بیکاروں اور بے راہ روؤں کی ذمہ داری گھر اورمعاشرے پر زیادہ ہے۔ ایسے میں تو دولت‘ زر‘ زمین بھی کام نہیں آتے۔ عقل ماری جائے تو باقی کیا رہ جاتا ہے ؟
ہمیشہ کی طرح بات طویل ہوگئی۔ یہ گزارشات پیش کرنے کا ایک پس منظر ہے۔ کچھ عرصہ سے برقی پیغامات آرہے تھے کہ زُوم پر نوجوانوں کا ایک اتحاد سیلاب کے اثرات سے بچنے اور ماحولیات کو بہتر بنانے کے لیے بات کرنے کا خواہش مند ہے۔ ہمارا تو کام یہی ہے‘ انکار ہوہی نہیں سکتا۔ مگر موزوں وقت ایک ہفتہ پہلے اتوار کو میسر آیا۔ خوشگوار حیرت تھی کہ میزبانی کے فرائض چین کی ایک طالبہ بیجنگ سے سرانجام دے رہی تھی۔ مذاکرے میں شامل طلبہ اور طالبات چین‘ پاکستان اورکچھ دیگر ممالک میں بیٹھے تھے اور ہم لاہور میں تھے۔ تعارف میں بتایا کہ اُنہوں نے ”یونائیٹڈ وِد پاکستان‘‘ کے نام سے ایک تنظیم بنائی ہے جس کاکام اپنے اپنے ملکوں سے چندہ جمع کرکے سیلاب متاثرین کی مدد اور بحالی کا کام کرنا ہے۔ یہ جاننا بھی ان کی سرگرمی کا حصہ تھا کہ ایک دوسرے کے ممالک کے تجربات سے فائدہ اُٹھا کر موسمیاتی تبدیلیوں کا بہتر طریقے سے کیسے مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ جومیں نے باتیں کیں‘ وہ اہم نہیں۔ آپ کی رائے جو بھی ہو‘ نوجوان نسل کے ساتھ مکالمے چلتے رہتے ہیں۔ حقائق اور شواہد میری نظر میں اس کی تائید نہیں کرتے۔ یہ پہلی مرتبہ نہیں‘ کئی دفعہ دیکھ چکا ہوں۔ اپنی جامعہ کے طلبہ کو فلاحی کاموں کے لیے سرگرم تو ہمیشہ دیکھا ہے۔ سب کو تو ایک ہی میزان میں نہیں تولا جاسکتا مگر ہر اہم موقع پر‘ کرسمس‘ عیدین اور وبا کے دنوں میں دروازے کھٹکھٹاتے نظر آتے ہیں۔ سیلاب کے دنوں میں کئی ہفتے ان کا کیمپ لگا دیکھا۔ اُنہوں نے کپڑے‘ کھانے پینے کی اشیا اور ادویات جمع کرکے معتبر فلاحی اداروں کے حوالے کیں۔ 2010 ء کے سیلاب کے دوران تو اُنہوں نے کئی ٹرک سامان خریدا اور مختلف علاقوں میں جا کر خود بانٹا۔ ہمارے علاقے تو سیلابوں کی زد میں رہتے ہیں۔ اُنہوں نے ایک ٹرک میرے حوالے کیا اور خود بھی ساتھ گئے۔ ایسے کام معاشرے کے ساتھ ہمیں جوڑتے ہیں۔ اندر کی انسانیت بھی‘ اگر مردہ ہوجائے‘ تو زندہ اور تازہ ہو جاتی ہے۔ اور ہمارے لیے تو تعلیم اور تحقیق کی نئی جہتیں روشن کردیتے ہیں۔ بارہ برس پرانی بات ہے‘ مگر ذہن میں بالکل تازہ۔ طلبہ کا ایک اجلاس ہواکہ جن لوگوں کے مال‘ مویشی سیلاب کی نذر ہو گئے ہیں‘ ان کی کیسے مدد کی جائے اور بحالی کا کام کیسے کیا جائے کہ وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جائیں؟2005 ء کے زلزلے کے بعد بھی موقع پر پہنچ کر امدادی کام نو جوانوں نے سرانجام دیے بلکہ ایسے شواہد اورتجربات جمع کیے جن پر تحقیقی مقالے لکھے گئے اور جو پالیسی سازی کیلئے معاون ثابت ہوئے۔ گروہی صورت میں اور کچھ ذاتی طور پرتعمیرِ نو کے پروگرام میں شامل ہوئے۔یہ صرف میرے اپنے ادارے کی بات نہیں‘ اکثر سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے نوجوان آگے بڑھ کر غریبوں‘ لاچاروں اور قدرتی آفات کے متاثرین کی مدد کرتے ہیں۔
کچھ بننے اور راستہ دکھانے کیلئے جدید تعلیمی اداروں کا وجود‘ فعالیت‘ معیاراور ہر ایک کیلئے رسائی بنیاد ی حیثیت رکھتا ہے۔ استاد اور ادارہ صرف ایک جزو ہے۔ گھر کا ماحول‘ والدین کا کردار‘ علمی رویہ‘ علاقائی اور ملکی سیاسی اور غیر سیاسی حالات کا بھی بہت عمل دخل ہے۔ سارا کام ہمارے اوپرچھوڑکر آپ اپنے آپ کو بری الذمہ نہ سمجھیں۔ میرے نزدیک انسان خود بڑی دولت ہے‘ اسے کہیں دورجانے کی ضرورت ہی نہیں۔ خود اپنے آپ کو تلاش کرلے تو سب کچھ مل جا ئے گا‘ کوئی کمی ہوگی نہ محتاجی رہے گی۔آزادی ہی آزادی! اگر ملک کا کوئی رحمدل ’’بادشاہ‘‘ ہوتا جو رعایا کے ساتھ رہتا‘ صرف ایک گھر اپنے ہی گاؤں‘ شہر میں بناتا‘عام لوگوں کی طرح سادہ اور پُر وقار زندگی گزارتا اور نوجوانوں پر توجہ دیتا تو ہم علمی معیشت کی عروج دیکھ رہے ہوتے۔ چھوڑو‘ ہم کن کی بات کر رہے ہیں‘ یہ’’بادشاہ‘‘ بے رحم‘ خود غرض اور نمودونمائش اورعوام کی دھن دولت پر پلنے والے ہیں۔ان کی وابستگی پاکستان کے ساتھ نہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ ہے کہ سہاروں کے بغیر یہ سانس نہیں لے سکتے۔ اس کے برعکس نوجوانوں میں ایک اُمنگ اور جذبہ پایا جاتا ہے‘جو ”یونائیٹڈ وِد پاکستان‘‘ سے وابستہ ہیں اور کچھ کررہے ہیں۔ درمند دل رکھتے ہیں اور انسانوں کی بہتری کا سوچتے ہیں۔ اب تو بیدار بھی ہو چکے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے کاموں سے ہو کربڑے بڑے کام بھی کریں گے‘ وہ دن دور نہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button