کالم

نالائق حکمران اور دیوالیہ پاکستان

محمد رحمان اکرم

ہمیشہ کی طرح آج بھی پاکستان میں سیاست کا بازار گرم نظر آتا ہے- اس وقت ملک دیوالیہ ہونے کے خدشے سے دوچار ہے- اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر 6.9 ارب روپے رہ گئے ہیں، لیکن حکمرانوں کے کانوں پر ابھی بھی جوں تک نہیں رینگی- ان کے پاس لمبی لمبی تقریروں اور جھوٹی تسلیوں کے سوا اور کچھ نہیں- اصل میں حکمران ہی تو اس حالت کے ذمہ دار ہیں لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ کوئی خود کو نہیں بلکہ ہر کوئی ایک دوسرے کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے-یہی ہمارے ملک کی سب سے بڑی بدقسمتی ہے- دیکھا جائے تو ہر پارٹی نے حسب توفیق ملک کو ڈیفالٹ کرنے میں اپنا کردار بخوبی ادا کیا ، جیسے کہ اچھے بھلے چلتے ملک میں پی ڈی ایم نے عدم اعتماد لا کر انسٹیبلٹی پیدا کی اور دشمن ملک عناصر کو کامیاب ہونے کا موقع ملا- اس کے بعد ابھی تک ان سے معیشت نہیں سنبھلی اور رہی سہی کسر عمران خان نے اور اس کی پارٹی نے نکال دی – اپریل سے لے کر اب تک عمران خان نے ہر ممکن کوشش کی کہ حکومت کو گرایا جا سکے-حکومت تو نہیں گری لیکن وقتاً فوقتاً ملک کا نقصان ہوتا گیا- جیسا کہ انہوں نے اسمبلیوں کا بائیکاٹ کیا اور استعفے دے دیئے اس کے بعد بھی کامیابی نہ ملی تو دھرنا اور لانگ مارچ کی راہ لے لی۔ پنجاب اسمبلی بچانے کے بہت جتن کئے ۔ پھر ق لیگ کے ساتھ مل کر پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو کہنے والے پرویز الہیٰ کووزیر اعلیٰ پنجاب بنایا، اب پنجاب اور کے پی کے اسمبلی توڑنے کی دھمکی دی -آرمی چیف کی تعیناتی پرخوب سیاست کی، اداروں عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ پر خوب تنقید کر کے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی گئی اور وہ کام کیا گیا جس سے ملک کو نقصان ہوسکتا ہے ۔ یہ سب کرنے کی دھمکی تو دی گئی لیکن عملی کام نہیں کیا گیا۔ چونکہ عوام کی اکثریت عمران خان کے ساتھ ہے، لہٰذا جیسے ہی وہ کوئی نئی بات کرتے ہیں تو ان کی آواز پر لبیک کہہ کر اس کام کو صحیح سمجھتی ہے۔ ملک میں عدم استحکام بڑھتا جارہا ہے،یہ تو تھی پی ٹی آئی ۔اگر کہا جائے کہ شہباز شریف یا ان کی پارٹی یا پی ٹی ایم کے لوگ فرشتے ہیں؟تو ایسا بالکل بھی نہیں ہے وہ بھی حسب توفیق پاکستان کو پورا نقصان پہنچاتے آرہے ہیں۔معیشت ان سے سنبھلتی نہیں، عوام مہنگائی سے پریشان ہیں اور یہ ہاتھ پہ ہاتھ دھرے اپنی ضد اور انا کو لیے بیٹھے ہیں۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ حکمران تو اپنی ضد اور انا ختم نہیں کریں گے تو اس صورت میں عوام کو کیا کرنا چاہیے ؟ عوام کو چاہیے کہ وہ جس پارٹی کو بھی سپورٹ کرتی ہیں ان کے کسی ملک دشمن پروپیگنڈا میں اپنے لیڈر کا ساتھ ہرگز نہ دیں۔خواہ وہ نواز شریف ہو آصف زرداری عمران خان مولانا فضل الرحمن یا پھر کوئی بھی ہو۔ ہر کسی کو اپنی اپنی پارٹی کے لیڈر سے اپنا حق مانگنا اور ان کے گزشتہ دور کے بارے میں بھی ان سے سوالات کرنا چاہیےجو کہ آپکا حق ہے- صرف یہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ہم اپنے ملک کومزید نقصان سے بچا سکیں گے اور ایک ترقی یافتہ قوم بن کر سامنے آئیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button