کالم

غلام مزدوروں کا حال زار

زاہدہ حنا

آج جب نیلسن منڈیلا کی تصویر نظر سے گزری تو بے اختیار جون 2006 کا وہ واقعہ یاد آیا، جب لاہور کے قریب ایک قصبے میں 35برس کے شوکت مسیح کو اس کے دہشت زدہ بچوں کے سامنے لاٹھیوں سے مار مار کر ہلاک کردیا گیا۔وہ شوکت جو ایک جیتا جاگتا انسان تھا، جس کی زندگی بچپن سے اب تک اینٹ کے بھٹوں پر ناقابل بیان مشقت کرتے گزری تھی۔ وہ اپنے ہی کچے گھر کے کچے آنگن میں گوشت اور خون کا ڈھیر بنا پڑا تھا۔ شوکت کے پڑوسی بھی اس جیسے بندھوا مزدور تھے۔ بے زر اور بے زمین، شوکت کے گھر میں گھسنے اور اسے ہلاک کرنے والوں کے قدموں کی دھمک جب بہت دور چلی گئی تو وہ ڈرتے ڈرتے اس آنگن میں داخل ہوئے۔اپنے سنگی ساتھی کی مسخ شدہ لاش دیکھی اور بین شروع کردیا۔ پڑوس کی عورتیں اس بات پر شکر ادا کر رہی تھیں کہ شوکت کی بیوہ چند دنوں کے لیے ماں کے گھر گئی ہوئی تھی اور اس نے یہ ہولناک منظر نہیں دیکھا، وہ اگر موجود ہوتی تو اس کا بھی یہی حشر ہوتا کیوں کہ وہ شوکت کو لاٹھیوں کی مار سے بچانے کی کوشش کرتی۔شوکت کو ہلاک کرنے والوں کو غصہ اس بات پر تھا کہ اس نے بیگار مزدوروں کی انجمن بنانے اور ان کے ساتھ ہونے والے غیر انسانی سلوک کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ پاکستانی سماج میں جاگیردارانہ نفسیات اور اقلیتوں کے خلاف مذہبی نفرت اس انتہا کو پہنچی ہوئی ہے۔ لہٰذا بندھوا مزدوروں کے حقوق کی آواز کو بلند کرنے والوں میں سے وہ لوگ سب سے پہلے بالادست طبقے کے غیض و غضب کا نشانہ بنتے ہیں جو مسیحی یا ہندو برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔پنجاب میں عیسائیوں کی تعداد دوسرے صوبوں کی نسبت زیادہ ہے۔ اپنی غربت اور سماج کے نچلے طبقے سے تعلق رکھنے کے سبب وہ اینٹ بھٹوں، کھیتوں اور دوسرے مشقت طلب کام کرنے پر مجبور ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ان میں سماجی اور سیاسی شعور دوسری برادریوں کی نسبت زیادہ ہے کیوں کہ ان ہی میں سے پڑھ لکھ کر کمیونٹی اسکولوں میں پڑھانے والے یا گرجا گھروں میں وعظ دینے والے انھیں ان کے حقوق سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔کئی ایسی بڑی تنظیمیں ہیں جو ان کے مسائل کو اخباروں اور ٹیلی وژن چینلوں پر
پیش کرتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ ان بندھوا مزدوروں، جبر مشقت کا شکار بچوں اور مختلف صنعتوں میں کام کرنے والی عورتوں کی قہر ناک زندگی سے بڑے پیمانے پر لوگوں کو آگاہی ہوتی ہے۔ اس کے باوجود ان مجبور لوگوں کی زندگی کے روز و شب نہیں بدلے۔ ان کے لیے طلوع سحر ابھی بہت دور ہے۔ان میں سے ہزاروں ایسے ہیں جو پشتوں سے کسی جاگیردار یا اینٹ بھٹے کے مالک کے غلام چلے آتے ہیں۔ یہ لوگ دوسرے جاگیردار یا اینٹ بھٹے کے مالک کے ہاتھوں فروخت کیے جاتے ہیں۔ ان کے بڑوں نے چار، پانچ سو یا ہزار دو ہزار کا جو قرض لیا ہوتا ہے وہ کسی طرح ادا ہونے نہیں آتا۔ دادا کا قرض پوتا چکاتا رہتا ہے۔پاسکر نے جو اعداد و شمار اکٹھے کیے ہیں ان کے مطابق ایک کروڑ 80 لاکھ افراد کھیت مزدور ہیں اور لگ بھگ ایک کروڑ اینٹ بھٹوں میں غلامی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ان میں کچھ ہمت والے ایسے ہوتے ہیں جو غلامی کی ان زنجیروں کو توڑ کر بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ کامیاب ہو جاتے ہیں اور باضمیر انسانوں کی مدد سے دور دراز کے کسی علاقے میں نئی زندگی کا آغاز کرتے ہیں۔لیکن بیشتر فرار کے دوران نامہربان حالات کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اور موسم اور راستے کی سختیوں کے سبب ہلاک ہو جاتے ہیں۔ کچھ ان لوگوں کے ہاتھوں مارے جاتے ہیں جن کے فرائض میں مفرور غلاموں کو گھیر کر واپس لانا اور اگر لانا ممکن نہ ہوا تو انھیں ہلاک کردینا شامل ہے۔ واپس لائے جانے والوں کو اتنی بھیانک سزائیں دی جاتی ہیں کہ ان جیسے دوسرے فرار کا خواب بھی نہ دیکھیں۔غلامی کا یہ ناسور صرف پاکستان میں ہی نہیں دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی پھیلا ہوا ہے، ہندوستان میں ان بندھوا کھیت مزدوروں اور غلامی کی لاچاری اور بے بسی کے خلاف کانگریس، کمیونسٹ پارٹی اور دوسروں نے جی جان سے کام کیا۔ حکومت نے ان دلتوں کی زندگی سنوارنے، انھیں تعلیم دینے اور روزگار فراہم کرنے کے جو وعدے کیے ان میں سے بیشتر پورے کیے گئے ہیں۔
اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہندوستان میں جمہوریت کا ایک ایسا تسلسل رہا ہے جس میں حکومت کسی بھی سیاسی جماعت کی ہو، ہر پانچ برس بعد اس کی مجبوری ہے کہ وہ ووٹ کے لیے سماج کے نچلے طبقات کے پاس بھی جائے۔ یہ طبقات کروڑوں کی تعداد میں ہیں۔ ان میں سے اگر دس وعدے کیے جائیں تو کم سے کم پانچ تو پورے کرنے ہی پڑتے ہیں ورنہ اگلے انتخاب میں کسی ایک دلت یا نچلے طبقے کا ووٹ ملنا ممکن نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ ہندوستان میں رفتہ رفتہ کھیت مزدوروں اور غلامی کے کسی دوسرے روپے میں زندگی گزارنے والوں کے حالات میں بہتری آئی ہے۔ ہمارے یہاں بہت سے لوگ استہزائیہ انداز میں جمہوریت کے فوائد کے بارے میں سوال کرتے ہیں، یہ لوگ اگر ہندوستانی جمہوریت کی مثال سامنے رکھیں تو بہت سی خرابیوں کے باوجود یہ حقیقت سامنے آئے گی کہ وہاں نچلے طبقے کی زندگی میں بہتری آئی ہے اور یہ جمہوری تسلسل کا نتیجہ ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امریکا میں جمہوریت ہونے کے باوجود وہاں غلامی ابھی بھی کسی نہ کسی ڈھنگ میں موجود ہے اور امریکی سرکار اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ امریکا کے آئین میں غلامی کے خلاف ہونے والی تاریخی 13 ویں ترمیم کے باوجود اس وقت بھی لگ بھگ ایک لاکھ مرد و عورتیں اور بچے کسی نہ کسی رنگ میں غلامی کے عذاب سہ رہے ہیں۔اس مرحلے پر وہ امریکی ناول یاد آتا ہے جس نے انسیویں صدی کے امریکا کی تاریخ بدل دی۔ یہ مختصر ناول ایک سفید فام امریکی عورت نے لکھا جو قسط وار ایک رسالے میں شایع ہوا اور جب 1852 میں کتابی صورت میں شایع ہوا تو چند ہفتوں میں اس کی 3 لاکھ جلدیں فروخت ہوگئیں۔امریکا کی شمالی ریاستوں میں رہنے والوں نے ’’انکل ٹامز کیبن‘‘ کے صفحات پر غلامی کی وہ کریہہ تصویریں دیکھیں جن میں ہیرو اور ہیروئنیں سیاہ فام عورتیں اور مرد تھے۔ جب کہ سفید فام ولن کے روپ میں نظر آرہے تھے۔ جنوب کی ریاستیں غلامی کے حق میں تھیں۔ یہ غلام تھے جو تمباکو کے کھیتوں، ریل کی پڑیاں بچھانے اور سڑکیں بنانے کے مشقت طلب کاموں میں بے دردی سے استعمال کیے جا رہے تھے۔ ان کی عورتیں جبری مشقت کرتی تھیں اور سفید فاموں کے وہ بچے جنتی تھیں جو مستقبل کے غلام ہوتے تھے۔ہیریٹ بیچر، اسٹوو نام کی یہ پستہ قامت عورت کتابوں کی رسیا تھی اور لکھنے کو عزت و وقار کا سبب سمجھتی تھی۔ وہ 1830 اور 40 کے درمیان سنسناٹی میں رہی جہاں اس نے ان خوش نصیب غلام عورتوں اور مردوں کو دیکھا جو جنوب کی ریاستوں سے فرار ہوئے تھے اور وہاں پناہ گزین تھے۔ غلامی کے خاتمے کی بحث ان دنوں بہت گرم تھی اور ایسے بے شمار دردمند سفید فام تھے جو اسے اپنی مذہبی روایات اور اخلاقی اقدار کے منافی سمجھتے تھے۔ہیریٹ اپنے وسیع باورچی خانے اور شاگرد پیشہ میں وقت گزارتی۔ اس کا یہ وقت ان سیاہ فام عورتوں اور مردوں کے درمیان گزرتا تھا جو فرار ہوکر آئے تھے اور اب مختلف سفید فام گھرانوں کے کھیتوں، کارخانوں اور باورچی خانوں میں کام کر رہے تھے۔ جس کی انھیں اجرت ملتی تھی۔ ان کی زندگی بہت سہل نہیں تھی، اس کے باوجود انھیں غلامی کی ذلت سے نجات مل گئی۔سفید فام آقا اب بھی ان کے ساتھ برابری کا سلوک نہیں کرتے تھے لیکن رنگ اور نسل کی بنیاد پر حقارت کا یہ رویہ ختم ہونے کے لیے ابھی ایک طویل لڑائی لڑی جانے والی تھی۔ اس کے ابتدائی سرفروشوں میں سب سے اہم نام ہیریٹ اسٹوو کا ہے۔ وہ ایک ادیب تھی اور اس وقت جب غلامی کے مسئلے پر شمال اور جنوب کی امریکی ریاستوں میں ایک طویل اور خونی جنگ لڑی گئی اس وقت ہیریٹ کا یہ ناول تلوار سے زیادہ کاٹ دار اور طاقت ور ثابت ہوا۔اس جنگ کے خاتمے کے بعد جب امریکی صدر ابراہم لنکن نے ہیریٹ سے ملنے کی خواہش کا اظہار کیا اور وہ ملاقات کے لیے گئی تو لنکن اسے دیکھ کر حیران رہ گیا اور اس نے ہنس کر کہا تھا کہ حیرت ہے یہ بڑی جنگ اس چھوٹے قد والی عورت نے لڑی اور جیتی ہے۔ہمارے مظلوموں کی داستان الم لکھنے والا شاید کوئی ایسا قلم نہیں جو ان غلام رکھنے والوں کو للکار سکے۔ پاکستان سے غلامی کو ختم کرنے کے لیے جہاں ہمیں جمہوریت کے تسلسل اور کسی ابراہم لنکن جیسے سیاسی رہنما کی ضرورت ہے، وہیں ایسے ادیب بھی ہمارے درمیان ہونے چاہئیں جو خون دان میں انگلیاں ڈبو کر شوکت جیسے ان غلام مزدوروں کا حال زار لکھیں جو خود اپنے لیے کچھ تحریر نہیں کرسکتے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button