کالم

باپ پارٹی نے بلوچستان کے مفادات کا سودا کر لیا

میر اسلم رند

بانی باپ پارٹی سعید ہاشمی کا کہنا تھا یہ پارٹی اس لئے بنا رہے ہیں کہ بلوچستان کے فیصلے بلوچستان کے لوگ کریں گے اسلام آباد میں بیٹھ کر بلوچستان کے فیصلے ہمیں قبول نہیں۔ آپ کا یہ بھی کہنا تھا قوم پرستوں کی پارٹیوں کو کائونٹر کرنے کے لئے ایک ایسی سیاسی پارٹی بنائی جائے جو بلوچستان کے حقوق کا تحفظ کرے بلوچستان میں ترقی کی ضامن ہو ، کیا اس طرح حقوق کا تحفظ کیا جاتا ہے ؟ آج آپ کی پارٹی نے اپنی داڑھی اور مونچھ وفاق کے حوالے کرنے کے ساتھ ساتھ صوبہ بلوچستان کی گردن بھی وفاق کے حوالے کر دی ، بلوچستان کے مفادات کا سودا کر لیا ۔ آج کے بعد بلوچستان سے پیار کرنے والے ہر نوجوان کے قلم کی سیاہی آپ کے پارٹی کے غلط فیصلوں کے خلاف استعمال ہو گی ، یہ قانون سازی صرف ریکوڈک کی نہیں بلکہ آنے والے نسلوں کا سودا ہے اس سے پہلے بھی سیندک کو کوڑیوں کے نرخ پر بیچا گیا تھا اس میں بلوچستان کا
حصہ صرف 2 فیصد رکھا گیا تھا جسے کبھی قبول نہیں کیا جائے گا ، افسوس کی بات یہ ہے بلوچستان اسمبلی میں اتنی قوم پرست جماعتوں کے ہوتے ہوئے بل کیسے پاس ہو گیا جمعیت علمائے اسلام نے کیا کردار ادا کیا ؟ ، تحریک انصاف ، اے این پی ، ایچ ڈی پی والے کہاں تھے ؟ کل سپریم کورٹ نے فیصلہ میں یہ حکم فرمایا تھا کہ ریکوڈک ایگریمنٹ صوبائی اسمبلی کے ممبران کو اعتماد میں لے کر کیا گیا ہے لیکن 24 گھنٹوں میں بلوچستان کے وسائل کو وفاق کے حوالے کرنا کون سا آئین اجازت دیتا ہے امید ہے اس فیصلے پر نظر ثانی کی جائیگی ؟؟ ورنہ بلوچستان کے احساس محرومی میں مزید اضافہ ہو گا ۔
جب یہ ایگریمنٹ ہوا تھا سوائے کچھ لوگوں کے سب اس فیصلے پر خوش تھے کہ 50 فیصد کمپنی 25 فیصد وفاق اور 25 فیصد صوبہ کو ملے گا 18 ویں ترمیم کے بعد معدنیات کے فیصلے کا اختیار صوبے کے پاس ہے ۔ قومی اسمبلی میں دو تہائی سے پاس ہونے والا ترمیمی بل صوبائی اسمبلی کی سادہ اکثریت سے کیسے پاس ہو سکتا ہے ؟ پاکستان مسلم لیگ ن کو اس بابت ضرور سوچنا چاہئے ورنہ بلوچستان کے لوگ اس فیصلے کی وجہ سے پارٹی سے بھی منحرف ہو سکتے ہیں کیونکہ یہ آنے والے نسلوں کا مسئلہ ہے جو بھی اس کی حمایت کریگا وہ اس صوبے کا وفادار نہیں ہو سکتا جن ممبران نے اس بل کو پاس کیا ہے یا کروایا ہے ، ان اسمبلی ممبران کو بھی کہنا چاہتاہوں یہ کرسیاں ، اسمبلی ممبر شپ ہمیشہ کے لئے نہیں ہوتے کل آنے والے نسلوں کو کیا جواب دیں گے آپ لوگ ؟ ،،

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button