کالم

پرویز الٰہی کا اینٹی کرپشن ڈے پر عزم اور سلمان طاہر کی نااہلی

رازش لیاقت پوری

پروجیکٹ کی تکمیل کی مدت ختم ہونے میں صرف چار ماہ باقی! خواجہ فرید یونیورسٹی فیز ٹو۔انیس سو چارملین کے سارے پروجیکٹ پر سوالیہ نشان لگ گیا.مسجد مکمل نہ چارہوسٹلز۔الیکٹریسٹی کا کام بھی آدھا۔.منظور شدہ نئی زمین کے لئے دو دن قبل ڈی سی آفس میں میٹنگ قبل از وقت پیسے جاری ہوتے ہی ہضم ۔پی ٹی آئی اور ق لیگ کی پنجاب حکومت کا کرپشن کے خلاف بیانیہ کا امتحان شروع۔آڈیٹر ،وی سی کی سیدھی کرپشن پر حکومتی خاموشی ۔عمران خان کی دیانت اور وزیراعلی ٰپرویز الہٰی کی ایمانداری پرسوال اٹھا دیا ۔ خواجہ فرید یونیورسٹی فیز ٹو کے انیس سو چار ملین کے سارے پروجیکٹ پر سوالیہ نشان لگ گیا ۔مسجد۔ہاسٹلز اور الیکٹریسٹی ورک بھی نامکمل منظور شدہ زمین۔خریدی نہ دیوار بنی نہ کمپیوٹرلیب۔بسیں بھی کھٹارہ نکلیں۔تفصیل کے مطابق خواجہ فرید یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی رحیم یار خان کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد سلیمان طاہر کی چالاکی اور کرپشن کی وجہ سے PC-I Phase-II تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔تین سال کے اس پرجیکٹ کے ختم ہونے میں تین ماہ باقی مگر کچھ بھی مکمل نہیںہوا۔فنانس ڈیپارٹمنٹ بھی قبل از وقت پیمنٹ کرتا رہاجس سے وی سی کو کرپشن کرنے کا موقع ملتا رہا۔1904 ملین کے اس پروجیکٹ کے علاوہ بھی یونیورسٹی کو سابقہ بقایا جات کی مد میں چار سو ملین سے زائد رقم ملی جو غائب ہوگئی ۔ یہ پروجیکٹ گورنمنٹ آف پنجاب نے 2019 میں منظور کیااس سارے پروجیکٹ میں چار کروڑ روپے کنسلٹینسی اور سپرویژن کے لیے رکھے تھے تاکہ اس کا ڈیزائن اسٹرکچر مضبوط ہو اور اس میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔ لیکن وائس چانسلر ڈاکٹر محمد سلیمان طاہر نے چیف انجینئر ہائر نہ کیا اور کنسلٹنسی فرم بھی بوگس ہائر کی ۔ پیپرا رولز کے مطابق کنسلٹنٹ مقرر کرنے کے لیے سلیکشن کمیٹی بنانا لازمی ہے لیکن وائس چانسلر ڈاکٹر محمد سلیمان طاہر نے ریذیڈنٹ آڈیٹر عارف علی کے ساتھ مل کر بوگس فرم کو رکھ لیا۔
جس کا کام صرف کنٹریکٹرز کے بلز پر سٹمپ لگانا تھا۔ اس کے علاوہ آج تک ان کی پوری ٹیم سائٹ پر نہیں آئی اور نہ ہی ان کی طرف سے ڈرائنگ شیئر کی گئی ڈاکٹر محمد سلیمان طاہر کی نالائقی اور کرپشن کی وجہ سے سو ملین کی لاگت سے بننے والا کمیونٹی سینٹر زمین بوس ہوگیا اس کی وجہ سے ادارے کی بدنامی ہوئی اور گورنمنٹ کے خزانے کوکروڑوں روپے کا نقصان ہوا۔نالائقی کی انتہا دیکھیں کہ جو پروجیکٹ 1904ملین کی لاگت سے کمپلیٹ ہونا تھا اس کو اتنے برے طریقے سے ڈیزائن کیا گیا کہ اس کی قیمت 25 سو ملین تک چلی گئی جب یہ رویژن پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے پاس پہنچی تو انہوں نےاسے یہ اعتراض لگا کر واپس بھیج دیا کہ پہلے بلڈنگ گرنے کی اور جو اس پراجیکٹ میں کرپشن ہوئی ہے اس کی انکوائری کی جائے۔اس کو بعد میں دیکھیں گے ۔تازہ اطلاعات کے مطابق پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ لاہور نے انیس سو چار ملین کے اخراجات کی تفصیلات مانگ لی ہیں۔باخبر ذرائع کے مطابق ابھی تک منظور شدہ زمین خریدی گئی ہے نہ ہی نئی دیوار بنی نہ کمپیوٹر لیب جن کے لئے بالترتیب پینتالیس کروڑ ۔نو کروڑ اور سات کروڑ روپے رکھے گئے تھے جو اکائونٹ سے نکلوا کر مبینہ کھائے جاچکے ہیں۔پلاننگ اینڈ ڈیویلپمنٹ لاہور کے متحرک ہونے کے بعد اس بڑے پروجیکٹ سے بہت جلد بڑی کرپشن کا پردہ چاک ہونے والا ہے۔یونیورسٹی اندرونی ذرائع کے مطابق پی اینڈ ڈی کو یہ معلومات دی گئیں کہ سارا پروجیکٹ مکمل ہے مگر موقع پر کچھ بھی مکمل نہیں واپڈا ذرائع کے مطابق ابھی بجلی کا کام بھی پچاس فیصد مکملہوا ہے۔مسجد اور ہوسٹلز بھی نامکمل ہیں جبکہ کمیونٹی سینٹر کی نئی تعمیر شدہ بلڈنگ گرچکی ہے جبکہ ابھی تک پینتالیس کروڑ کی زمین خریدی گئی نہ اس پر نو کروڑ کی دیوار بنی اور نہ کمپیوٹر لیب۔وی سی کے آبائی علاقے فیصل آباد سے کرائے پر لی گئی کھٹارہ بسیں اہل رحیم یار خان کا منہ چڑا رہی ہیں۔ دوسرا گٹروں کا گندا پانی نکالنے کیلئے نئی سکر مشینیں بھی نہیں خریدی گئیں ۔ عوام نے ایچ ای سی۔منسٹرہائر ایجوکیشن اور سینڈیکیٹ ممبران سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ہے۔تازہ اطلاعات کے مطابق پی اینڈ ڈی لاہور نے وضاحت مانگی تو سب اوکے اور مکمل کی رپورٹ بھیجی گئی مگر موقع پر کچھ بھی مکمل نہ ہے۔ گزشت ہروز وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی نے الحمرا میں اینٹی کرپشن کا عالمی دن منایا تو مجھ سمیت کئی لوگوں کو خوشی ہوئی اور سوچا کہ کیوں نہ اپنے ضلع کی بڑی کرپشن کا کیس انکے سامنے رکھوں تاکہ پرویز الہٰی صاحب عملی طور پر ایکشن لے کر قوم کے آگے سرخرو ہو سکیں کیونکہ ماضی میں ایسے دن کئ حکمران منا چکے ہیں لیکن اب صرف دن منانے کی نہیں عملی طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button