تازہ ترینشوبز

دلیپ کمار کی سوویں سالگرہ پر ہر آنکھ اشکبار

دلیپ کمار کی سوویں سالگرہ پر ہر آنکھ اشکبار تھی ۔
سب نے دلیپ کمار کو حسرت کے ساتھ یاد کیا سب کے لبوں پر ایک ہی بات تھی کہ دلیپ کمارآج ہمارے درمیان ہوتے تو کتنا خوش ہوتے ۔ دلپ کمار کی سوویں سالگرہ پر بھارت اور پاکستان میں فن کے متوالوںنے تقریبات کا اہتمام کیا اور فن کے سلطان کو ان کی خدمات پر خراج تحسین پیش کیا۔
فلم انڈسٹری کو نئی جہتوں سے نوازنے والے یوسف خان المعروف دلیپ کمار نے اپنی کیرئیر میں ہر قسم کا کام کیا۔سنجیدہ ہوئے تو لوگ بھی ہنسنا بھول گئے ۔ روئے تو دوسروں کی آنکھیں بھی چھلک پڑیں۔ہنسے تو لوگ اپنے غم بھول گئے ۔
ہر بڑے نامور اداکار کے ساتھ کام کیا۔ اشوک کمار کے ساتھ فلم دیدار میں آئے تو اشوک کمار کو جیسے اداکاری ہی بھول گئی ۔ راجکپور کے ساتھ فلم انداز میں جلوہ گر ہوئے تو راجکپور کا فن ان کے سامنے ماند پڑ گیا۔ دیوآنند کے ساتھ فلم انسانیت میں کام کیا تو دیوآنندکی اداکاری پھیکی پڑگئی ۔ امیتابھ بچن شکتی میں دلیپ کمار کے ساتھ آئے یہاں بھی دلیپ کمار نے میدان مارلیا۔ امیتابھ بچن دلیپ کمار کے سامنے جچ نہ سکے ۔ فلم شکتی میں اچھی اداکاری کےلئے دلیپ کمار کو ایوارڈ بھی دیا گیا .
فلم مغل اعظم میں راجکپور شہزادہ سلیم کا رول ادا کرنا چاہتے تھے لیکن ان کے والد پرتھوی راج نے کہا یہ رول صرف دلیپ کمار ہی کرسکتا ہے کوئی دوسرا یہ کردار نبھا نہیں سکتا اور پھر ایسا ہی ہوا۔
دلیپ کمار نے فلم دیوداس میں کام کیا تو ہر عاشق دیوداس کے روپ میں نظر آنے لگا ۔ بھارت میں جب دوبارہ دیوداس بنائی گئی تو نامور اداکار شاہ رخ خان کو دیوداس کے رول میں لیا گیالیکن شاہ رخ خان ایک سین بھی دلیپ کمار کی طرح سے نہیں فلمبند کروا سکے ۔
اس طرح بہت سے اداکار ان کے مقابل آئے تو انہیں اپنی ساکھ بچانا مشکل ہو گیا۔
نئے اور پرانے اداکار دلیپ کمار کے سحر سے آج بھی نکل نہیں پائے اداکار دلیپ کمار کی آج بھی کاپی کرکے کامیاب ہیں۔ پاکستان میں اداکار ندیم نے دلیپ کمار کے انداز میں اداکاری کرکے شہرت پائی ۔بھارتی اداکار منوج کمار نے دلیپ کمار کے فلمی نام منو ج کوچنا اور منوج کمار کے نام سے مقبول ہو گئے ۔دلیپ کمار نے 1966 میں اداکارہ سائرہ بانو سے شادی کی تھی ۔ سائرہ بانو ان سے 22 سال چھوٹی تھیں۔کانگریس پارٹی نے دلیپ کمار کو پارلیمان کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کے لیے نامزد کیا تھا اوروہ چھ برس تک رکن پارلیمان بھی رہے ۔دلیپ کمار کا اصلی نام یوسف خان تھا اور وہ پشاور میں ایک اعوان خاندان میں 11 دسمبر 1922ء کو پیدا ہوئے تھے۔ان کے والد کا نام لالہ غلام سرور اعوان جبکہ والدہ کا نام عائشہ بیگم تھا۔پشاور کے قصہ خوانی بازار میں ان کا آبائی مکان آج بھی محفوظ ہے اور اسے اب حکومت نے تاریخی ورثہ قرار دے دیا ہے۔7 جولائی 2021 میں دلیپ کمار98 برس کی عمر میں دار فانی سے کو چ کر گئے ۔ ان کی موت کے ساتھ حقیقی اداکاری کے زریں دور کا خاتمہ ہو گیا ۔ ان کی فلمیں بالی ووڈ کا اثاثہ ہیں جب بھی سنیما ہال میں لگتی ہیں لوگ جوق در جوق دیکھنے پہنچ جا تے ہیں۔
دلپ کمار کی مشہور فلموں میں ، آن، دیوداس، آزاد، مغل اعظم، گنگا جمنا، انقلاب، شکتی، کرما، نیا دور، مسافر، مدھومتی، دل دیا درد لیا، مزدور، لیڈر، جوار بھاٹا، جگنو، شہید، ندیا کے پار، میلا، داغ، دیدار، آگ کا دریا، عزت دار، داستان، دنیا، کرانتی، قانون اپنا اپنا، سوداگر شامل ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button