کالم

نہ سدھرے توسب بکھر جائے گا !

شاہد ندیم

تحریک انصاف صوائی اسمبلیوں کی تحلیل کے اعلان کے بعد سے شش وپنج میں مبتلا ہے ،اس بات پر سوچ بچار کی جارہی ہے کہ اگر پندرہ دسمبر کو اسمبلیاں تحلیل کی جائیں تو انتخابات نوے روز بعد مارچ میں ہی ممکن ہوں گے ،یہ ماہ رمضان کے باعث آگے بھی جاسکتے ہیں ،اس لیے اسمبلیوں کی تحلیل میں جلدی نہیں کرنی چاہئے ،جبکہ دونوں صوبوں کے وزرائے اعلی کا کہنا ہے کہ عمران خان جب کہیں گے اسمبلیاں تحلیل کردی جائیں گی ، اس پرحکومتی قیادت کی جانب سے اسمبلیوں کی تحلیل کے اعلان کو سیاسی دبائو قرار دیتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ ان کے جانے سے صوبے کو ایسے حکمرانوں سے نجات ملے گی کہ جنہوں نے اپوزیشن کو دیوار سے لگارکھا ہے۔
تحر یک انصاف قیادت نے اسمبلیوں کی تحلیل کا اعلان کرکے جہاں اتحادی قیادت کو پریشان کیا ہے ،وہیں اپنے ارکان پارلیمان کو بھی ایک بڑے امتحان میں ڈال دیا ہے ، پی ٹی آئی ارکان پا رلیمان اپنی قیادت کے اعلان کی لاج رکھنا چاہتے ہیں اور پارلیمان بھی چھورنا نہیں چاہتے ہیں، اس لیے دبے الفاظ میں فوری اسملیاں تحلیل نہ کرنے کا مشورا دیا جارہا ہے ،پی ٹی آئی قیادت نے سمجھا تھا کہ جس طرح ان کے چاہنے والے عام لوگ ایک کال پر جوق در جوق جلسوں میں شریک ہوتے ہیں ،اس طرح ان کی پارٹی ارکان پارلیمان بھی ایک اشارے کے منتظر ہوں گے ،لیکن مشاورت کے بغیر عملی طور پر ایسا ممکن نہیں ہے ،تاہم سابق وزیر عظم عمران خان کی سیاست میںایسا ہی طریقہ کار رہا ہے کہ پہلے فیصلہ کرتے ہیں اور مشاورت بعدازاں کی جاتی ہے ، اس لیے انہیں اپنے کارکنان کی جانب سے مزحمت و تحفظات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔
تحریک انصاف کی قیادت اپنافوری انتخابات کے انعقاد کا مطالبہ پورا کروانا چاہتی ہے ،اس کیلئے سیاسی دبائو بڑھاتے ہوئے منزل کے حصول کو ممکن بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ،انتخابات بذات خود منزل نہیں ،منزل حاصل کرنے کا ذریعہ ہوتے ہیں اور سب کی منزل اقتدار ہے ،اس لئے پی ٹی آئی قیادت فوری انتخابات کے مطالبے پر مُصر ہے ،لیکن ان کے سامنے اتحادی حکومت دیوار بن کر کھڑی ہے ،اتحادی حکومت کو انتخابات میں اپنی ہار صاف نظر آرہی ہے ،اس لیے عام انتخابات کروانے سے گریزاں ہیں ،پی ٹی آئی قیادت نے اپنے بھرپور جلسے ،جلوس اور لانگ مارچ کا سہارا لے کر حکومت کو فوری انتخابات پر مجبور کرنے کی کوشش کی ہے ،لیکن اپنے حصول مقصد میں کامیاب نہیں ہوپائی ہے ۔
اس صورت حال میں پی ٹی آئی قیادت نے اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان کر کے حکومت پر فوری انتخابات کیلئے دبائو ڈالنے کا نیا حربہ آزمایا ہے ،اس سیاسی حربے کو سب سے مؤثر چال قرار دیا جارہا ہے ،اس چال کی کامیابی کے کتنے امکانات ہیں ،اس کا اندازہ بدلتی سیاسی صورت حال سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ،ایک طرف مقتدر حلقے کی قیادت کی نئی پالیسی ہے تو دوسری جانب پس پردہ مذاکراتی عمل بھی جاری ہے ،اس سے ایسا لگتا ہے کہ وقت سے پہلے اسمبلیاں بھی نہیں ٹو ٹیں گی اور عام انتخابات کا اعلان بھی ہو جائے گا ، عام انتخابات کا دیر یا سویر سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ہے ،لیکن اگر ملک کے معاشی حالات ایسے ہی بگڑتے رہے اور سیاسی قیادت قومی مفاد کے بجائے ذاتی مفادات کو ترجیح دیتے رہے تو کسی کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آئے گا ۔
یہ وقت سیاسی محاذ آرائی کا نہیں ،افہام تفہیم کا ہے ،لیکن سیاسی قوتیں ذاتیات کے پیش نظر بات چیت کیلئے تیار نہیں ہیں، ہر جانب سے بد تمیزی، گالی گلوچ کھلے عام کی جارہی ہے،اس محاذ آرائی کے ماحول میںضرورت اس امر کی ہے کہ ماضی کی غلطیوں سے سیکھا جائے اور ایک نئی شروعات کا آغاز کیا جائے، سیاسی قیادت طعنہ زنی اور نفرت اور عدم برداشت کے رویے سے باہر آئے، مذاکرات کی ٹیبل پر بیٹھے اور صرف پاکستان کا سوچنے کی کوشش کرے،ملک میں معاشی اقتصادی، معاشرتی استحکام، انتخابی اور عدالتی اصلاحات کیلئے ایک میثاق پاکستان کیا جائے، اس کی دعوت تو بار ہا دی جاتی رہی ہے ،مگر عملی طور پر کچھ بھی نہیں کیا گیا ،ایک طرف اپنے معاملات سیاسی انداز میں حل کرنے کی بات کی جاتی ہے تو دوسری جانب ایک دوسرے کو گرانے اور دیوار سے لگانے کیلئے جائز وناجائز حربے استعمال کیے جارہے ہیں۔
کوئی مانے یا نہ مانے، تحریک انصاف ملک کی ایک بڑی سیاسی جماعت ہے، لیکن پی ڈی ایم کی جماعتیں بھی پاکستان کی ہی سیاسی جماعتیں ہیں،ملک کی سیاسی قیادت کو ایک دوسرے کو مانتے ہو ئے اپنے سیاسی معاملات سیاسی انداز میں حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ،عام انتخابات وقت کی ضرورت ہیں ،اس سے بھاگنے کے بجائے اس کے انعقاد کا معاملہ مل بیٹھ کر طے کرلیناچاہئے، مقتدر حلقے سیاسی عمل سے علیحدہ رہنے کا فیصلہ کر چکے ہیں، سیاسی قیادت کو اب ان کی جانب دیکھتے رہنے کی روش ترک کرنا ہو گی ،اگر سیاسی قیادت نے اپنی روش ترک نہ کی اورغیر سیاسی قوتوں کی جانب ویسے ہی دیکھتے رہے تو ایک بار پھر جمہوریت کے ساتھ سیاست بھی نہیں بچے گی، سیاسی قیادت خوداحتسابی سے خود کو سدھارے، ورنہ سب کچھ ہی بکھر جائے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button