کالم

صرف مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام کیوں؟

عابد محمود عزام

حیرت کی بات ہے کہ کسی بھی ملک میں کسی بھی سال خونریزی کا کوئی واقعہ پیش آیا ہو، اُس کو بنیاد بنا کر مسلمانوں پر دہشت گردی کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ برسوں پہلے رونما ہوئے کسی واقعہ کی وجہ سے بغیر کسی دلیل کے مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینا پرلے درجے کا تعصب اور جہالت ہے۔ اگر کبھی کسی واقعہ میں کوئی مسلمان ملوث پایا بھی گیا تو کیا اس کی وجہ سے سب مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دیا جاسکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیا دہشت گردوں کا تعلق دیگر مذاہب کے لوگوں سے نہیں ہوتا؟ مختلف مذاہب کے لوگ دہشت گردی کے واقعات میں ملوث پائے گئے ہیں، لیکن اس کی وجہ سے کسی مذہب کو دہشت گردی کے ساتھ نتھی نہیں کیا جاتا تو پھراسلام مخالفوں کی طرف سے ہمیشہ مسلمانوں کو دہشت گردی کا طعنہ کیوں دیا جاتا ہے؟ کیا دیگر مذاہب کے لوگ قاتل نہیں؟دنیا میں آئے روز پیش آنے والے ناخوش گوار واقعات اور قاتلانہ حملوں میں بیشتر افراد مسلمان نہیں ہوتے۔ مغربی ممالک میں آئے روز مختلف واقعات میں بے گناہ لوگ قتل ہوتے ہیں، ان واقعات میں شاید ہی کوئی مسلمان ملوث ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر میں خود مسلمان دہشت گردی سے متاثر ہیں۔ اسرائیل، کشمیر، افغانستان، عراق، برما اور دیگر کئی ممالک میں مختلف مذاہب کے لوگوں کے ہاتھوں لاکھوں مسلمان قتل ہوئے ہیں، لیکن اس کے باوجوددنیا بھر میں  مسلمانوں کو ہی دہشتگرد کہہ کر ہراساں کیا جاتاہے۔
 دنیا میں اسلام دشمنی زوروں پر ہے۔ مسلمانوں پر بلاوجہ الزامات لگائے جاتے ہیں۔ یہ سب کچھ اسلاموفوبیا کے زیر اثر ہو رہا ہے۔مخالفین اسلام ایک عرصے سے اسلام کے حوالے سے اسی نفسیاتی خوف میں مبتلا ہیں، جس کو” فوبیا“ کہا جاتا ہے۔ جس کا معنی اسلام اور مسلمانوں سے خواہ مخواہ خوف زدہ ہونا ہے۔اسلامی تہذیب سے ڈرنا، مسلم گروہوں سے ہراساں ہونا، اسلام کے خلاف دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کی ذہن سازی کرنا، ان کے قلوب و اذہان میں ایسا ڈر پیدا کرنا جو لوگوں کو مسلمانوں سے نفرت و عداوت پرابھارے، مسلمانوں کو غلط الزامات سے متہم کرنا اسلاموفوبیا کانتیجہ ہے۔نائن الیون کے بعد مغرب میں اسلام فوبیا بہت زیادہ بڑھا اور اس کا اثر دنیا بھر میں پڑا۔ بھارت میں بھی اسلاموفوبیا معاندانہ رویہ اختیار کر چکا ہے۔آئے روز بھارت میں مسلمانوں کو تنگ کرنے کے واقعات پیش آتے ہیں۔ گائے کے ذبیحہ اور گائے کا گوشت کھانے پر پابندی عائد ہےاور محض شبہ میں مسلمانوں کو قتل کردیا جاتا ہے۔ گائے کے پیشاب کو دوائیوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ بھارت میں تعلیمی نصاب کو ہندوتوا فلاسفی کے مطابق ترتیب دینے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ بھارت کی تاریخ کو بھی ہندوتوا فلاسفی کی روشنی میں از سرِ نو لکھنے کا منصوبہ جاری ہے جس میں بھارت کی اسلامی شناخت اور تشخص کو مجروح کیا جارہا ہے۔ نریندر مودی کے جارحانہ رویے کے سبب بھارت میں انتہا پسند ہندو گروہ مسلسل طاقتور ہو رہے ہیں اور ملک میں اقلیتوں کے لیے زبردست خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔ دنیا بھر میں تعلیمی ادارے مذہبی تعصبات سے پاک ہوتے ہیں، لیکن بھارت میں تعلیمی ادارے بھی محفوظ نہیں ہیں۔
بھارت کے تعلیمی اداروں میں آئے روز مسلمان طلبا و طالبات کومختلف حیلوں بہانوں سے ہراساں کیا جاتا ہے۔چند دن پہلے کرناٹک میں ایک ٹیچر نے کلاس میں طلبا سے تعارف کرنے کے دوران ایک مسلم طالب علم کے نام بتانے پر کہا کہ اوہ ۔۔ تم اجمل قصاب والے ہو۔ جس پر مسلمان طالب علم نے کہا کہ اس ملک میں مسلمان ہونا اور روزانہ اس صورتحال کا سامنا کرنا مذاق نہیں ہے۔ طالب علم نے کہا کہ آپ پروفیشل ہیں، آپ ٹیچر ہیں، آپ مجھے اس طرح نہیں پکار سکتے۔ ابھی یہ معاملہ ختم نہ ہوا تھا کہ راجستھان کے ایک کالج میں اسلاموفوبیا کا ایک اور واقعہ پیش آیا اور اس بار بھی اس تعصب کا اظہار کوئی عام انسان نہیں، بلکہ ایک تعلیم یافتہ ٹیچر کی جانب سے کیا گیا۔راجستھان کے بلوترا کالج کی مسلم طالبہ حسینہ بانو نےکہا کہ تاریخ کے لیکچرار نے مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کی دل آزاری کی۔مسلم طالبہ نے کہا کہ ایسے لیکچرار ہندو نوجوانوں کی ذہن سازی کا باعث بنتے ہیں اور وہ جذبات میں آکر میں مسلم طلبا سے بحث و مباحثہ کرتے ہیں۔ مسلم طالبہ نے مزید کہا کہ اگر تعلیمی اداروں میں ایسا پڑھایا جائے گا تو مسلم طلبا کی جانوں کو ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے جان کے خطرہ بڑھ جائے گا۔ 
بھارت میں صحافی برادری کی طرف سے اس رویے کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔اپاسالا یونیورسٹی کے پروفیسر اشوک سوائن نے ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ بھارت میں ایک پروفیسر کلاس روم کے اندر ایک مسلمان طالب علم کو ’دہشت گرد‘ کہہ کر پکار رہا ہے، بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ ایسا ہوتا ہے۔صحافی سواتی چترویدی نے ٹوئٹ میں لکھا کہ نریندر مودی کے بھارت میں روز اسی طرح ہوتا ہے۔دی ہندو کے رپورٹر سید محمد نے زور دے کر کہا کہ ایک مسلمان کو دہشت گرد کہنا مذاق نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بہت سے مسلمان طلبہ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا ہے، اور وہ جانبدار ٹیچرز کا نشانہ بنتے ہیں۔ چند ماہ قبل بھارت میں مسلم طالبات کے حجاب پر پابندی کی صورت میں بھی انتہا پسندی دیکھنے کو ملی تھی۔ کرناٹک میں طالبات کے حجاب کرنے پر مسلمان لڑکیوں کا اسکول بند کردیا گیا تھا۔ مقامی حکام نے مسلمانوں کے خلاف روایتی ہندو انتہاپسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اسکول انتظامیہ کی اسکول کھولنے کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب تک طالبات حجاب کے بغیر نہیں آئیں گی اسکول نہیں کھولا جائے گا۔ان واقعات سے یہ اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں ہے کہ بھارت کی موجودہ حکومت نے مذہبی جنون پھیلاکر بھارت کے سیکولر چہرے کو مسخ کردیا ہے۔
  بھارت میں نریندر مودی کی کوشش سے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف انتہا پسندی انتہا کو چھو رہی ہے۔مسلمان اوردیگر اقلیتیں حکومت کی انتہاپسندانہ پالیسی کے سخت خلاف ہیں اور اخبارات، ٹی وی اور دیگر ذرائع سے بھارت کی حکومت کو تنبیہ کررہے ہیں کہ اگر یہ غیر آئینی سلسلہ جاری رہاتو ہندوئوں کے ساتھ خونی تصادم ناگزیرہوجائے گا۔ بھارت کے سنجیدہ حلقے یہ نقطہ نظر رکھتے ہیں کہ ملک میں جس انداز سے اقلیتوں اور خاص طور پر مسلمانوں کے لیے مسائل پیدا کیے جا رہے ہیں، اگر یہ پالیسی ترک نہ کی گئی تو اس سے خود ریاست بہت بڑے نقصان سے دوچار ہو سکتی ہے۔ مودی سرکار کو جونہی کوئی بہانہ ہاتھ آتا ہے تو مسلمانوں کے گرد گھیرا تنگ کر دیا جاتا ہے۔بھارت سیکولر ازم کا دعویٰ کرتا ہے، لیکن وہ اپنے دعوے میں سچا نہیں ہے۔ اس کی انتہا پسندی اس کے دعوے کی نفی کرتی ہے اور مودی سرکار اس انتہا پسندی کی سر پرستی کرتی ہے۔تعلیمی اداروں میں انتہاپسندی نے سیکولر بھارت کا پردہ چاک کرکے رکھ دیا ہے۔ بھارت میں انتہا پسندی صرف تعلیمی اداروں میں ہی نہیں، بلکہ تمام مذہبی معاملات میں انتہا پسندی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے اور مسلمانوں کو تنگ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا جاتا۔ پوری دنیا نے دیکھ لیا کہ بھارت دعویٰ کچھ کرتا ہے اور عمل کچھ کرتا ہے اور یہ بھی دنیا پر واضح ہوگیا ہے کہ بھارت اقلیتوں کے ساتھ کیا سلوک کررہا ہے۔ نریندر مودی کے دور میں بھارت میں انتہاپسندی عروج پر ہے اور بھارت ایک عرصے سے انتہاپسندی کا گڑھ بن چکا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button