کالم

انسانی حقوق کاعالمی دن ۔۔۔ہم کہاں کھڑے ہیں

ڈاکٹررخسانہ اسد

اسلام نے ہمیں فردکواظہارآزادی ،ملکیت،نقل وحرکت، تحفظ جان ومال،کاحق عطافرمایا، رنگ،نسل، حیثیت دولت،خاندانی پس منظرسے ماوراہو کرفرد کواس کے کرداراورعمل کی بنیادپرقابل توقیر بنایا۔ غیرمسلموں کے حقوق،عبادت گاہوں کوتحفظ اور عورتوں کو حقوق عطا فرمائے۔1400سال گزرنے کے باوجود مسلمان خطبہ حجتہ الوداع کے لفظ لفظ پرمن وعن عمل کررہے ہیں۔ ہرمسلمان کوحجتہ الوداع پرعمل کرتے ہوئے اپنے فرائض انجام دیناچاہیئں کہ ہم کسی غیرمسلم پرظلم نہ کریں، مسلمان کواپنابھائی مانیں، عورتوں کوعزت وتحفظ دیں، کسی کالے سے رنگ کی وجہ سے نفرت نہ کریں، کیاپتہ کہ وہ ہم سے زیادہ رب کے قریب ہو۔ہماری حکومت کویہ یادرکھناچاہیے کہ اسلامی ریاست میں کسی انسان پرظلم ہوتایاکوئی بھوکا سوتا توحکمران خود کوذمہ دارسمجھتاتھامگرہمارے ملک میں کروڑوں لوگ بے روزگارپھررہے ہیں جس پرحکومت کواپنی ذمہ داری نبھانی ہوگی۔
انسانی حقوق کاعالمی دن یعنی 10دسمبر1948 کواس دن اقوام متحدہ نے کی جنرل اسمبلی نے قرارداد نمبر(111)217Aکے ذریعے اعلان کیاگیا کہ ہرسال 10دسمبرکوانسانی حقوق کاعالمی دن منایاجائے گا جس کے ذریعے انسانوں کوایک خاندان مان کرآزادی اظہار،نقل حرکت، عقیدہ، انصاف کی فراہمی ،دنیامیں امن کاقیام اس کاایک ناقابل تنسخ حق اورانکے خلاف کیے گئے اقدامات کوکھلم کھلا بربریت قراردیا۔ 10دسمبر1948میں انسانی حقوق کاعالمی چارٹر منظور ہواتھا جس میں انسان کوآزاد،یکساں توقیرق اورحقوق کاحامل قراردیاگیا۔کسی فردکے خلاف رنگ نسل ،جنس، زبان ،نسل، مذہب، سیاسی نظریہ ،قدرتی، یاسماجی تعلق یاکسی بھی وجہ سے کوئی نسلی امتیازنہیں برتاجائے گا۔
دنیامیں تمام انسان یکساں حیثیت کے قرار پائے۔غیرقانونی گرفتاریاں، نظربندی یا جلاوطنی،سے تحفظ فراہم کیاگیا۔ہرانسان کیلئے غیرجانبدارانہ اورمنصفانہ عدالتی نظام نظام کے تحت انصاف کاحصول ،خودکوبے گناہ ثابت کرنے کاحق تسلیم کیاگیا۔فردکوپردہ ،خانگی امور،گھریلومعاملات ،خط وکتابت میںمداخلت سے تحفظ فراہم کیاگیا۔ ہرفردملک کے اندراورباہرآزادانہ نقل وحرکت اور رہائش رکھ سکتاہے ۔جائیدادکے حصول اوراس کی ملکیت سے محروم نہ کرنے کاتحفظ حاصل ہے ۔فردکوفکری نظریاتی سوچ وعقیدہ کی آزادی کاحق ہے ۔فردکے پرامن اجتماع کاحق اورجابرانہ طورپراسے کسی اجتماع میں شامل کرنے کاتحفظ دیاگیا۔ہرفردکوحکومت میں شامل ہونے اورسرکاری ملاذمت کے حصول کاحق تسلیم کیاگیا۔ملازمتوں کاچنائواس کے حصول اوریکساں اجرت ہرفردکوبلاتفریق فراہم کی جائے گی ۔انسانی حقوق کاعالمی چارٹرجس میں یہ نقاط تھے کہ فردکویونین سازی کاحق دیاگیاہے ۔فردکوخوراک لباس رہائش طبی امدادکے حصول کی سہولت بلاروک ٹوک دستیاب ہوگی۔اگرنصاف کی بات کریں توآج کے معاشرے میں یہ بہت مشکل ہوگیاہے مہنگائی بے روزگاری بڑھ رہی ہے جس کی وجہ سے روز مظاہرے اوراحتجاج ہوتے ہیں۔
احتجاج کی بات ہوئی تومیرے خیال سے طلباء نے جومظاہرے کیے انکے مطالبات قارائین کویاد لاتی چلوں کہ طلبہ یونین پرعائد پابندی ختم کی جائے اورفی الفورملکی سطح پرطلبہ یونین کے الیکشن کرائے جائیں،تعلیمی اداروں کی نجکاری کاخاتمہ ،حالیہ فیسوں میں اضافے کی واپسی اورمفت تعلیم کی فراہمی یقینی بنائی جائے،ایچ ای سی کے بجٹ کی کٹوتیاں واپس لی جائیں،تعلیمی اداروں میں حلف نامے کاخاتمہ اورسیاسی سرگرمیوں پرپابندی کوہٹایاجائے،تعلیمی اداروں میں سیکورٹی فورسز کی مداخلت بندکی جائے اورتمام سیاسی طلبہ اسیران کورہاکیاجائے ،تمام طلبہ کومفت ہاسٹل ٹرنسپورٹ فراہم کیاجائے،ہاسٹل اوقات کار طلبہ وطالبات کیلئے یکساں کیاجائے،جنسی ہراسانی،کے قانون کے تحت کمیٹیاں تشکیل دی جائیں،اوران میں طلبہ کی نمائندگی کویقنی بنایاجائے،طبقاتی تعلیمی نظام کاخاتمہ اورتعلیم کوجدیدسائنسی تقاضوں پراستوار کیاجائے،ہرضلع میں ایک یونیورسٹی کاقیام یقینی بنایاجائے اورپسماندہ علاقوں کاکوٹہ بڑھایاجائے، فارغ التحصیل نوجوانوں کوروزگاریاکم ازکم اجرت بطوربے روزگارالائونس دیاجائے ،تعلیمی اداروں میں قوم ،زبان،صنف،یامذہب کی بنیاد پرطلبہ کے ساتھ، تعصب،اورہراسانی بندکیاجائے،اسلام آباداور دوردراز کے علاقوں سے آئے طلباء کوہاسٹل کی فراہمی یقینی بنائے جائے اورفی الوقت سی ڈی اے کوپرائیویٹ ہاسٹلزکوسیل کرنے سے روکاجائے۔ اگران کے مطالبات بھی ہم نہیں مانتے تومیرے خیال سے ہمیں انسانی حقوق کے عالمی دن کابائیکاٹ کرناچاہیے کیونکہ جب ہم انسانوں کے حقوق ہی سلب کررہے ہیں توہمیں اس دن کومنانے کاکوئی حق نہیں ۔
اب آتے ہیں کاشانہ سکینڈل پریعنی درالامان لاہورجس کی سپریٹنڈنٹ نے پہلے یہ انکشاف کیاکہ لڑکیاں امراء اپنے استعمال کیلئے منگواتے تھے اورکم عمرلڑکیوں سے نکاح کیلئے زبردستی کرتے تھے مگرپھراس نے حیران کردہ بیان دیاکہ دارلامان سے 9لڑکیاں غائب کرادی گئیں ۔ اگرہم یتیم بچیوں کی عزت نہیں بچاسکتے انکودارلامان میں تحفظ نہیں دے سکتے توہمیں کوئی حق نہیں کہ ہم انسانی حقوق کاعالمی دن منائیں۔اگرانسانی حقوق کے عالمی دن پرتھرمیں سسکتے بلکتے عوام کی بات نہ کی تومیراضمیرمجھے ملامت کرتارہے گا، جہاں پرروز کئی لوگ بھوک پیاس سے مرجاتے ہیں مگرہماری حکومت جوانسانی حقو ق کی علمبرداربننے کادعویٰ کرتی ہے، تھرکی طرف توجہ لینے کانام نہیں لے رہی ۔
آئے روز بچوں اوربچیوں کوجنسی زیادتی کے بڑھتے واقعات لمحہ فکریہ ہیں کیونکہ اب انسان کم درندے زیادہ پیداہورہے ہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی دن پرراقمہ کاایک سوال ہے ۔کیابچے اوربچیوں کوانسانی حقوق حاصل کرنے کاحق نہیں ،اگرہے توپھران کے مجرموں کوسرعام پھانسی دی جائے تاکہ بچوں اوربچیوں کونگلنے والے اژدھے کاسرکاٹاجاسکے ۔جب بات انسانی حقوق کی ہو توکشمیر پرڈھائے جانے والے مظالم کی داستان لکھے بناآرٹیکل پوراہوہی نہیں سکتا کشمیرمیںبھارتی غیرقانونی قبضہ کرفیوکو 1220دن سے زائدہوچکے ہیں جس میں عدالتی حکم کے بغیرلوگوں کونامعلوم جگہ پرمنتقل کیاجارہاہے ،شہریوں کوہلاک کرنے ،املاک تباہ کرنے ،کھیتوں، فصلوں، باغات، ذرائع آمدن کوتباہ کرنے ،ہسپتالوں،مذہبی عمارتوں تعلیمی اداروںمیں لوگوں کوجانے سے روکنے اورمسلسل کرفیوکے نفاذ کے اختیارات حاصل ہونگے۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلم کشمیریوں کیلئے روزگارکے مواقع نہ ہونے کے برابرہیں ،مسلمان مقبوضہ کشمیرمیں 80فیصدہونے کے باوجود سرکاری ملازم 20فیصدسے زیادہ نہیں۔
اپنے قارائین کویاددلاتی چلوں کہ بھارت کی انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کشمیرتک نہیں بلکہ 1948 میں ہندئوں نے دہلی اوراس کے گردونواح میں 4000سے زائدسکھوں کومارڈالاتھااس وقت جوسیکورٹی فورسز نے سکھوں پرجوظلم ڈھائے وہ یادکریں تورونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ 1992میں بھی بابری مسجدشہیدکردی جس پرمسلمانوں نے احتجاج کیاتوفسادی کہہ کرہزاروں مسلمانوں کوشہیدکردیا۔ 2002 میں لودھراں ٹرین حادثہ کے بعدمودی کی نگرانی میں سرکاری سطح پرمسلمانوں کاقتل عام کیاگیاجس میں 2000سے زائد مسلمانوں کوشہیدکیاگیااورحاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کرکے نومولودوں کوکالی ماتاکی بلی چڑھاد یاگیا۔ لڑکیوں کی عزتیں پامال کی گئیں نوجوان لڑکوں کے پیٹ چھریوں کے وارسے کاٹے گئے۔آخرمیں یقین سے کہوں گی کہ 10دسمبرکوانسانی حقوق کاعالمی چارٹرجومنظورہواہے وہ یقنیاً حجتہ الودع سے لیاگیاہے جیساکہ 14سوسال پہلے حجتہ الودع فرماتے ہوئے آپ ﷺ نے غلامی سے ممانعت فرمائی فردکواظہارآزادی ،ملکیت،نقل وحرکت،تحفظ جان ومال،کاحق عطافرمایا،رنگ،نسل ،حیثیت دولت، خاندانی پس منظرسے ماوراہو کرفرد کواس کے کردار اورعمل کی بنیادپرقابل توقیربنا۔ہمیں انسانوں کے ساتھ حسن وسلوک کرن چاہیے تاکہ آخرت کے روز آقاؐ ہمیں دیکھیں تو چہرے پرمسکان ہو۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button