کالم

انسانی حقوق کاعالمی دن اورہماری ذمہ داری

علی جان

’’لوگو، ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنا دیں تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو۔ در حقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے یقیناً اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے..‘‘ (سورہ حجرات آیت ۳۱)
اس آیت کے ذریعے قرآن نسل، قومیت، رنگ اور زبان کی بنیاد پر برتری کے تمام جھوٹے معیارات کو رد کرتا ہے اور راست بازی وحسن سلوک کو رب تعالیٰ کی نظر میں برتری کا واحد نشان بنا دیتا ہے۔ 10دسمبر کو ہر سال عالمی یوم انسانی حقوق کے طورپر منا یا جا تا ہے۔ اسی دن 1948ء کو اقوام متحدہ کی جنر ل اسمبلی نے انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے عالمی میثاق کو باضابطہ طور پر منظوری دے دی تھی جبکہ 1950ء میں مذکورہ جنرل اسمبلی نے قرار دادنمبر 423(V)کے ذریعے 10دسمبر کو عالمی یوم انسانی حقو ق کو منانے کاباضا بطہ فیصلہ کیا۔
انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی شکایات کیلئے محکمانہ میکنزم تشکیل دیاگیامگراس پرعمل پیراکب ہونگے یہ نہیں معلوم۔ہمیں ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے قومی سوچ کو پروان چڑھانا ہوگا اور فرقہ واریت، دہشت گردی، معاشرتی ناانصافی اور تعصبات کا قلع قمع کرنے کیلئے عملی اقدامات کرنے ہونگے، بطو رپاکستانی شہری صرف اور صرف اپنے ملک کی ترقی کیلئے کام کرنا ہوگا،معاشرے کے تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں انصاف، مساوات، امن او رہم آہنگی کے قیام کیلئے انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہوگا۔ آئیے معاشرے کے پسے ہوئے طبقات اور نادار لوگوں کو انکے حقوق دینے کیلئے انصاف کا ساتھ دیںاور ایک مثبت اور انصاف پسند معاشرہ تشکیل دیں۔آج ہم اس حال پرکھڑے ہیں کہ انسانی حقوق کی صورتحال زیادہ سے زیادہ چیلنجینگ ہوتی جارہی ہے کیونکہ جیسے جیسے خواتین خواتین بچوں کیلئے تعلیم صحت اورترقی کے مواقع میں اضافہ ہورہاہے وہاں عورتوں اوراوربچوں کے ساتھ زیادتی کی ویڈیوزویب سائٹس پر اپلوڈ کی جاتی ہیں کہ کوئی انسان یاقانون ہماراکچھ نہیں کرسکتااس کیلئے ہمیں بہت ساراکام کرنے کی ضرورت ہے۔تیزاب گردی،کاروکاری،ونی،وٹہ سٹہ،غیرت کے نام پرقتل وغیرہ یہ تواپنی جگہ موجود ہیں مگرجب ہم دیکھتے ہیں پینے کے صاف پانی،صحت اورتعلیم کاحق ہے ابھی ہم بہت پیچھے ہیں اگرعورتیں کسی فیلڈمیں آرہی ہیں توانہیں کئی ناگواررویوں کی وجہ سے پیچھے دکھیلاجاتاہے۔ترقی کے حوالے سے یہ کہوں گا کہ کروناکے دنوں میں دیکھاگیابے روزگارلوگ ادھیڑعمرمیں مزدوری کر نےپرمجبورہوگئے، اس لیے معاشی مواقع بھی نہ ہونابھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
یہاں پرایک مثال دوں گا افضال احمد کس طرح ایک سرکاری ہسپتال میں ایڑیاں رگڑرگڑکے مرگئے یہ چیزیں ہمیں بتاتی ہیں کہ ہماراصحت کا سسٹم کتنابیمارہے، ایک انسانی حقوق پرکام کرنے والاکارکن یاصحافی ہوتاہے وہ اپنے اگلے چیلنج پر نظررکھتے ہوئے ایک امیدکی کرن ضروررکھتاہے۔ ہم نے عورتوں بچوں بزرگوں کیلئے بہت سے قوانین بنوائے ہیں اور عالمی معاہدات بھی بہت ہوئے مگرابھی کرنے کے کام بہت ہیں ابھی ہم اس کنارے پرکھڑے ہیں جس کے آگے بہت بڑاسمندرہے۔ میراپیغام یہ ہے کہ ہم نےجہاں ترقی کی ہے اس پربھی نظررکھیں اورچیلنجز کاسامناکرنے کیلے اپنی جدوجدجاری رکھیں۔امریکہ جیسے سپرپاورملک کے مغربی یورپ کے کسی بھی ملک میں کالی رنگت والوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ پڑوسی ملک بھارت جو کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے ساتھ سیکولر ہونے کا بھی دعویدار ہے، وہاں ذات پات کے نام پر انسانوں پر ظلم و جبر صدیوں سے جاری ہے۔ جو اعلیٰ ذات کے گھرانے میں پیدا ہو گیا وہ چھوٹی ذات والوں پر ہر طرح ظلم رواء رکھ سکتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم غور کریں کہ کیااس سال بھی انسانی حقوق کے عالمی دن پر محض تقاریر ہوں گی، پرا جوش نعرے لگیں گے، اجتماعات منعقد ہوں گے، ریلیاں نکالی جائیں گی، دورجاہلیت کا موازنہ و مقابلہ دور جدیدکے ساتھ کیا جائے گا، لیکن ہو گا وہی کچھ جو کچھ پہلے ہوتا رہا ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی نسل کو میثاق مدینہ اورخطبہ حجتہ الوداع جن کو مستند انسانی حقوق کا چارٹر تسلیم کیا گیا ہے، ان سے متعارف کروایا جائے۔ جامعات میں علمی آزادی کو یقینی بناتے ہوئے انسانی حقوق کے موثر تحفظ کے لئے تحقیق کے کلچر کو فروغ دیا جائے اور سوک ایجو کیشن کو لازمی مضمون کے طور پر نصاب کا حصہ بنایا جائے۔ پار لیمنٹ اور جامعات کے مابین روابط کو مضبوط بنانے کے لئے مزید اقدا مات اٹھانے کی ضرورت ہے۔75سال گزرنے کے باوجود ملک کے مختلف حصوں میں بسنے والے شہریوں کو مساوی حقوق کی فراہمی کا خواب بھی شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا۔ معا شرہ پر بڑھتے تشدد پر مبنی رجحانات کے دیرپا حل کے لئے ضروری ہے کہ سیکیورٹی پر مبنی قلیل مدتی سوچ سے ایک قدم آگے بڑھا تے ہوئے بنیادی عوامل کا جائزہ لیا جائے جو دراصل انتہا پسندی کی پرورش کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، قانون کی کمزور حکمرانی، میرٹ و بہتر طرز حکمرانی کا فقدان، روزگارکمانے کے کم مواقع، نوجوانوں اور معاشرے کے محروم طبقات کے لئے سکڑتی ہوئی سیاسی گنجائش سے پر تشدد گروہ فائدہ اٹھاتے ہیں۔رواداری، امن، مذہبی برداشت، اقلیتوں کا تحفظ، معیاری تعلیم، انسانی حقوق کا احترام کو قومی حکمت عملیوں کا بنیا دی جز وبنانا ہوگا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button