کالم

کیا ایس پی کرپٹ ملازمین کا احتساب کر پائیں گے؟

میاں اسلم

ویلڈن ویلڈن ایس پی آصف صدیق سی ٹی او فیصل آباد، آپ کا عزم، آپ کی پلاننگ اور آپ کی بہادری کو سلام ، پاکستان کے تیسرے بڑے شہر کوآپ جیسے محنتی ذمہ دار اور ایماندار آفیسر کی ہی ضرورت تھی آپ امید کی کرن ہیں اگر آپ کو کسی سیاسی دباؤ کے بغیر کام کرنے دیا گیا تو فیصل آباد میں ٹریفک کے مسائل ختم ہوجائیں گے۔ آپ کے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ بھی ہے کہ ٹی ایم اے فیصل آباد کے انکروچمنٹ انسپکٹرز پورے شہر سے تقریباً ماہانہ چھ سے سات کروڑ روپے منتھلی اکٹھی کر کے سی او کارپوریشن کی سرپرستی میں بڑی شاہراہوں پر بڑے چوکوں پر غیر قانونی طریقے سے ریڑھیاں اور پھٹے لگوا کر لوگوں کو دکانداریاں کروا رہے ہیں جن کی وجہ سے ٹریفک کی روانگی متاثر اور ٹریفک جام رہتی ہے۔ اس کے علاوہ فیصل آباد کے 80 فیصد شہریوں کے پاس ڈرائیونگ لائسنس ہی نہیں ہیں۔ یہ بھی بڑا چیلنج ہے ۔سب سے پہلے آپ کو اپنے محکمہ کو ٹھیک کرنا بھی ہے۔ تمام سر کل کے ڈی ایس پی فیڈ سے غائب رہتے ہیںانکا ٹریفک کے
بہاؤ میں کوئی کردار نہیں ، ان تمام ڈی ایس پی کو تبدیل کیا جائے۔ ان تمام ٹریفک ڈی ایس پی نے اپنے من پسند سیکٹر انچارج لگائے ہوئے ہیں جوان کی خدمت پرمامور رہتے ہیں اور شہر کی بڑی بڑی شاہراہوں پرٹریفک کا کوئی کنٹرول نہیں ہے ، بڑی گاڑیوں کا ٹائم رات نو سے گیارہ بجے کے بعد کا ہے وہ دن کو پورے شہر میں گشت کرتی پھرتی ہیں ۔سمن آباد مدنی چوک ڈی ٹائپ پل اور کالج روڑسمن آباد پر ہیوی ٹریفک سرعام رواں دواں رہتی ہے۔ جس کی وجہ سےڈی ٹایپ پل مدنی چوک اور پھاٹک کالج سمن آباد روڈ ٹریفک بلاک رہتی ہے وہاں پر کوئی ٹریفک وارڈن نہیں ہوتا آپ کو اپنے محکمہ سے احتساب کا عمل شروع کرنا چاہیے فیصل آباد شہر کے تمام ٹریفک وارڈن سکول کالج کی چھٹی کے ٹائم بڑی شاہراہوں سے غائب ہوتے ہیں جن کی وجہ سے فیصل آباد میں تمام وقت ٹریفک جام رہتی ہے۔ تمام سرکل ڈی ایس پی کو چاہیے کہ وہ سکول اور کالج کی چھٹی کے ٹائم پر ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے بڑی شاہراہوں پر گشت کریں اور تمام ٹریفک وارڈن کو دورانٍ ڈیوٹی موبائل کال اور موبائل کے استعمال پر پابندی لگانی چاہیے تمام ٹریفک وارڈن کو نیا ایس او پی جاری کیا جائے ۔فیصل آباد میں ٹریفک وارڈن کی سرپرستی میں بڑے بڑے رکشہ اسٹینڈ چنگچی سٹینڈ اور ویگن سٹینڈ غیرقانونی طورپر قائم ہیں۔ جھنگ بازار، جی ٹی ایس چوک ، لال چوک ، لاری اڈا چوک ،بولے دی جھگی ،چوک نشاط آباد، چوک وارث پورہ میں سٹینڈز غیرقانونی طورپر قائم ہیں۔ اب تو ٹریفک وارڈن ماہانہ منتھلی اکٹھی کرتے ہیں شہر کی بڑی شاہراہوں پر سبزی اور فروٹ والی ریڑھیوں سے سیکٹر انچارج وصولی کرکے اپنے سرکل ڈی ایس پی کو بھی نوازتے ہیں ایسی صورتحال میں ٹریفک کا نظام کیسے ٹھیک ہوگا؟ ٹریفک وارڈن اپنے رینک کی توہین کرتے ہیں، ایسے لگتا ہے جیسے کوئی کانسٹیبل اپنے فرائض انجام دے رہا ہے ۔ یہ شاہراہوں پر بے بس نظر آتے ہیں جناب ایس پی صاحب ان کا معیار بلند کرنے میں ان کی مدد کریں ان کی بے بسی کو ختم کریں یہ شاہراہوں پر قبضہ مافیا کی کٹھ پتلی نہ بنیں۔ یہ آپ کے محکمہ کی عزت اور مرتبہ کو بلند کریں ان کی تربیت اور ٹریننگ کی ضرورت ہے ان میں لالچ کو ختم کرنے اور ان کا بڑا احتساب کرنے کی ضرورت ہے اور ٹریفک پولیس میں کرپٹ ڈی ایس پی اور سیکٹر انچارج کے خلاف بڑے ایکشن کی ضرورت ہے۔ ان کی تین سالہ ڈیوٹی کا ریکارڈ چیک کیا جائے یہ من پسند پوسٹنگ کرواتے ہیں فیصل آباد میں کمرشل گاڑیاں بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ کے ہی چلائی جاتی ہیں۔ فیصل آباد ضلع میں آر ٹی سیکرٹری کی ورکنگ زیرو ہے غیر قانونی ویگنوں کی شاہراہوں پر بھرمار ہے آر ٹی سیکرٹری بھی منتھلی لے کر سو جاتا ہے۔ فیصل آباد کے شہریوں کی اذیت کو کم کرنے کے لئے اللہ تعالی نے آپ کی شکل میں امید کی کرن دکھائی ہے آپ سے فیصل آباد کے شہریوں کی بہت سی امیدیں ہیں آپ کو اس کرپٹ نظام سے لڑنا ہوگا ، کرپٹ ملازمین کے خلاف سخت فیصلےکر کے سزائیںدینا ہوںگی، ہم آپ کے ساتھ ہیں ۔پاکستان زندہ باد پنجاب پولیس زندہ باد پاک فوج زندہ باد

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button