کالم

انسانی حقوق کا عالمی دن

تنویر حسین

ہر سال 10دسمبر کو انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے ۔اس دن کو منانے کا مقصد انسانی حقوق کیاہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔سماجی علوم کے ماہرین انسانی حقوق کی بنیاد اس مفروضہ پر قائم کرتے ہیں کہ تمدنی زندگی بسر کرنے سے پہلے انسان فطری حالت پر تھا۔اور اس فطری حالت میں انسان کچھ متعین اصول رکھتا تھاجنہیں ہنوز کسی نے غصب نہیں کیا تھا۔لیکن جب انسان کو اپنے فطری حقوق کے تحٖظ کے لیے خطرہ لاحق ہوا تو اس نے معاشرتی زندگی اختیار کی۔لہٰذا معاشرہ کا وجود انسان کے فطری حقوق کے تحٖظ کے جذبہ کار کا مرہون منت ہے۔اسی بناء پر معاشرہ کا یہ فرد گردانا گیا کہ وہ انسان کے فطری حقوق کا تھفظ کرے چنانچہ ان فطری حقوق کو ’’بنیادی انسانی حقوق‘‘‘ کا نام دیا گیا۔اقوام متحدہ کی مجلس نے 1948ء میں ایک منشور شائع کیا جو ’’منشور انسانیت ‘‘ کے نام سے معروف ہے اور جسے انسانی حقوق کے حوالے سے حرف آخر سمجھا جاتا ہے ۔اس منشور کا خلاصہ یہ ہے کہ تمام انسان آزاد پیدا ہوتے ہیں اور بنیادی حقوق کے یکساں حق دار ہیں ۔زندگی ،آزادی اور جان کی حفاظت انسان کا حق ہے ۔انسانی غلامی منوع ہے ۔بے رحمی کے سلوک سے حفاظت انسان کا حق ہے ۔ہر انسان یکساں قانون کے سلوک کا حق دار ہے ۔کسی انسان کو بلا قصور گرفتار ،نظر بند یا جلا وطن نہیں کیا جائے گا۔الزام کے ثابت نہ ہونے تک، ملزم کو بے قصور تصور کیا جائے گا۔معاملات زندگی میں عدم مداخلت فرد کا حق ہے ۔نقل وحرکت کی آزادی ہے ۔ایک ملک سے دوسرے ملک جابسنے کی آزادی ہے۔حق قومیت، نکاح کا حق ،حقوق جائیداد، خیالات ،ضمیر ،مذہبی آزادی ،اظہار
خیالات اور اجتماعات میں شرکت کی ٓزادی ہے ۔اپنے ملک کی حکومت میں شرکت کا حق ہے ۔تعمیر خویش کے لیے وسائل وذرائع کی آزادی ، حسب منشاء کام کاج کرنے کی آزادی ،آرام اور فرصت کی آزادی۔معیار زندگی کی آزادی، تعلیم کا حق ۔جماعتی اور ثقافتی زندگی کا حق ۔مندرجہ بالا انسانی حقوق کا تعین ایک قابل ستائش کاوش ہے مگر سوال یہ ہے کہ کیا اقوام عالم اس منشور پر عمل درآمد کررہی ہے؟تجربہ تو یہ بتاتا ہے کہ ان حقوق کا احترام اور ان پر عمل کرنا تو ایک طرف رہا ،انسانوں پر اس قدر مظالم کیے گئے ہیں کہ انسانی ضمیر کانپ اٹھتا ہے ۔دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ متذکرہ ’’منشور حقوق انسانیت‘‘ کے اسباب وعلل کیا ہیں؟تیسرا اہم سوال یہ ہے کہ اگر انسانوں کی فکری کاوش کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہونے والا ’’’منشور حقوق انسانیت‘‘ناکام ہوگیا ہے ، تو کیا اس کا متبادل منشور موجود ہے؟اگر ہے تو کون سا ہے؟اس کی تاریخ کتنی پرانی ہے؟کیا وہ ’’منشور حقوق انسانیت‘‘انسانی ذہن کی اختراع ہے؟یا کسی مافوق الفطرت ہستی نے کسی انسان کے قلب وذہن پر القا کیا ہے؟اور کیا وہ انسان عام انسانوں سے مختلف صفات کا حامل ہے؟آئیے مندرجہ بالا سوالوں کاجواب تلاش کرنے کی کوشش کریں چودہ سو برس قبل حضرت محمد مصطفی ﷺ نے دنیا کو کن انسانی حقوق سے روشناس فرمایا تھا۔نبی آخر الزمان ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنا مسلمانوں کا ایمانی تقاضا ہے ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان طبعاًمعاشرت پسند واقع ہوا ہے ۔اس کی اجتماعی جبلت اسے اپنے ہم جنسوں کے ساتھ مل جل کر رہنے پر مجبور کرتی ہے ۔وہ اپنی پیدائش سے لے کر تادم زیست ان گنت انسانوں کی خدمات ،توجہ ،امداد اور سہاروں کا محتاج ہے ۔اپنی پرورش،خوراک ، لباس ، رہائش اور تعلیموتربیت کی ضروریات ہی کے لیے نہیں بلکہ اپنی فطری صلاحیتوں کی نشوونما کے ارتقاء اور ان کے عملی اظہار کے لیے بھی وہ اجتماعی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہے ۔یہ اجتماعی زندگی اس کے گرد تعلقات کا تانا بانا تیار کرتی ہے ۔خاندان ، برادری ،محلے شہر، ملک اور بحیثیت مجموعی پوری نوع انسانی تک پھیلے تعلقات کے یہ چھوٹے بڑے دائرے اس کے حقوق وفرائض کا تعین کرتے ہیں ۔ماں ،باپ ، بیٹے ، شاگرد، استاد ، مالک ،ملازم ، تاجر ، خریدار ،شہری اور حکمران کی بے شمار مختلف حیثیتوں میں اس پر کچھ فرائض عائد ہوتے ہیں اور ان فرائض کے مقابلہ میں وہ کچھ متعین حقوق کا مستحق قرار پاتا ہے۔ان حقو ق میں بعض کی حیثیت محض اخلاقی ہوتی ہے مثلاً بڑوں کا حق ادب ،چھوٹوں کا حق شفقت ،ضرورت مند کا حق امدادمہمان کا حق خاطر تواضع وغیرہ۔اور بعض حقوق کو قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے مثلا! حق ملکیت ،حق اجرت ، حق مہر اور حق معاوضہ وغیرہ۔انسانی حقوق کی مختصر تاریخ کا جائزہ لیا جائے تواہل مغرب بنیادی انسانی حقوق کے تصور کی ارتقائی تاریخ کا آغاز پانچویں صدی قبل مسیح کے یونان سے کرتے ہیں۔پھر پانچویں صدی کے زوال پذیر روم سے اپنی سیاسی فکر کا رشتہ جوڑتے ہوئے ایک ہی زقند میں گیارہویں صدی میں داخل ہوجاتے ہیں۔چھٹی سے دسویں عیسوی تک پانچ سو سالہ عہد ان کی مرتب کردہ تاریخ سے غائب ہے ۔اس کی وجہ کیا ہوسکتی ہے؟شاید یہ کہ یہ اسلامی عہد ہے۔انسانی حقوق کی ارتقائی تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یونان کے فلسفیوں نے بلاشبہ قانون کی حکمرانی اور عدل وانصاف پر بہت زور دیا ہے اور اس کی ضرورت اور اہمیت پر بڑی فاضلانہ کتابیں تصنیف کی ہیں۔لیکن ان کے ہاں انسانی مساوات کا ہمیں کوئی تصور نہیں ملتا۔وہ ہندوستان کے برہمن (حکمران اور مذہبی پیشوا) ،کھشتری(فوجی خدمات انجام دینے والے)، ویش (تجارت اور زراعت پیشہ لوگ)اور شودر (بقیہ تین ذاتوں کے خدمت گار اور غلام)طبقوں کی طرح انسانوں کو مختلف طبقات میں تقسیم کرتے ہیں۔اور منو شاستر کی طرح ان کے ہاں بھی یہی چار طبقات ملتے ہیں۔بنیادی حقو ق کی جدوجہد کا اصل آغاز گیارہویں صدی میں برطانیہ میں ہوا۔چودھویں سے سولہویں صدی تک یورپ پر میکاولی کے نظریات کا غلبہ رہاجس نے آمریت کو استحکام بخشا۔بادشاہوں کے ہاتھ مضبوط کیے ۔اور اقتدار کو زندگی کا اصل حصول قرار دے دیا۔انقلاب فرانس کے بعد 1889ء کے بعد’’جان لاک ‘‘ نے معاہدہ عمرانی کا نظریہ پیش کیااور اس میں فرد کے حقوق پر مدلل بحث کی۔1789ء میں امریکی کانگریس اور اس کے تین سال بعد فرانس کی قومی اسمبلی نے منشور انسانی حقوق کو منظور کیا۔بین الاقوامی سطح پر کی جانے والی کوششوں کے نتیجہ میں بالآخر10دسمبر1948ء کو مجلس اقوام متحدہ نے ’’منشور حقوق انسانیت‘‘بنا دیا۔انسانی حقوق کی مختصر تاریخ یقیناً قابل ستائش ہے لیکن جب ہم اس کے نظریاتی اور عملی پہلوئوںکا جائزہ لیں ۔

تو یہ سوالات پیدا ہوتے ہیں کیاایک عالمگیر انسانی حقوق کے منشور کو مرتب اور منظور کرلینے سے فی الحقیقت ان حقوق کے تحفظ کی قابل اطمینان ضمانت مہیا ہوگئی ہے؟کیا یہ عالمی منشور ایک فرد کو آمریت وفسطائیت کے چنگل سے نجات دلانے میں کامیاب ہوگیا ہے ؟کیا اکیسویں صدی کا انسان فی الواقع بارہویں یا سولہویں صدی کے غلام اور مقہور انسان کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ، پرامن اور خوف وخطر سے آزاد زندگی بسر کررہا ہے؟اسلام نے بنی نوع انسان کو بنیادی انسانی حقوق کا الہامی تصور دیا ہے۔جو فکری ، عقلی یا خود ساختہ نہیں ہے ۔یہ تصور نظری بی ہے اور عملی بھی۔قرآن وسنت نے انسانی حقوق کے تعین کی وہ صحیح بنیاد فراہم کی ہے جو عقیدئہ توحید ، عقیدئہ رسالت اورعقیدئہ آخرت پر مبنی ہیاور جس پر ایمان لاکر ہی یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ کون سے انسانی حقوق یا ہیومن رائٹس قابل تحفظ ہیں اور کون سے نہیں ہیں۔قرآن وسنت نے بنیادی انسانی حقوق کاجامع ترین عادلانہ تصور پیش کیا ہے جو تمام انسانیت کے لیے قابل عمل ہے۔یہ تصور احترام آدمیت، تحفظ جان ، تحفظ ملکیت ، تحفظ آبرو، نجی زندگی کا تحفظ ، شخصی آزادی کا تحفظ ، نکاح میں انتخاب کا حق، حسن ذوق کا حق ،مذہبی آزادی کا حق ،ظلم کے خلاف آواز کا تحفظ ،آزادی اظہار رائے ،آزادی ضمیرواعتقاد،حق مساوات ،حسول انصاف کا حق ،معاشی تحفظکا حق ،معصیت سے اجتناب کا حق ،آزادی تنظیم واجتماع کا حق ، سیاسی زندگی میں شرکت کا حق ،آزادی نقل وحرکت اور سکونت ، حق اجروت ومعاوضہ ، مسلمانوں کے خصوصی حقوق جیسے عنوانات پر محیط ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button