کالم

رجیم چینج کی اصل کہانی

ستار چوہدری

سب سے پہلے عراق میں صدر صدام حسین نے امریکی پیٹرو ڈالر کے خلاف اقدامات کا اعلان کیا اور سال 2000ء میں عملی طور پر تیل و گیس کی فروخت یورپی یونین کی کرنسی یورو میں شروع کردی۔ مغربی میڈیا میں بڑے پیمانے پر پروپیگنڈا کیا گیا ہے کہ صدام حسین کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں۔ اس پروپیگنڈے میں برطانیہ کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے بھی امریکا کا ساتھ دیا اور سال 2003ء میں امریکا، برطانیہ اور اتحادیوں نے عراق پر حملہ کردیا۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب امریکی اور اتحادی افواج افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے خلاف ایک بڑی جنگ میں مصروف تھیں۔ اس جنگ میں نہ صرف عراق میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی بلکہ بالآخر عراقی صدر صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی۔
سال 2011ء میں عرب بہار کے عنوان سےنام نہاد انقلابوں کا ایک سلسلہ شروع ہوا جس کا آغاز تیونس سے ہوا، جہاں عوامی احتجاج سے گھبرا کر بادشاہ فرار ہوگیا۔ پھر یہ عرب بہار لیبیا، مصر اور شام تک پھیل گئی۔ اس عرب سپرنگ کا اصل مقصد لیبیا کے حکمران کو ہٹانا تھا۔کرنل قذ افی نے بھی وہی غلطی کی جو عراقی صدر صدام نے کی تھی، یعنی پیٹرو ڈالر کی حکمرانی کو چیلنج کرنا۔قذافی نے تجویز دی کہ افریقی ملکوں کی ایک یونین قائم کرکے ایک مشترکہ کرنسی قائم کی جائے، جو سونے سے منسلک ہو اور اس کرنسی میں سونے کے ذریعےخرید و فروخت کی جائے۔ عرب بہار میں نہ صرف قذافی کی حکومت کا خاتمہ ہوا بلکہ قذافی کو لیبیا کی سڑکوں پر گھسیٹ کر بے رحمانہ طریقے سے قتل کردیا گیا۔
عرب ملک پیٹرو ڈالر کے خلاف اقدامات نہ کرسکیں، اس لیے امریکا نے مستقل طور پر عرب دنیا کو بحرانوں میں مبتلا کیا ہوا ہے۔ کبھی القاعدہ اور کبھی دولت اسلامیہ، اس کے علاوہ یمن اور شام میں خانہ جنگی کے نام پر کوشش ہے تو بس یہی کہ عرب ملک عدم تحفظ میں گھرے رہیں اور تحفظ کیلئے امریکا کی جانب دیکھتے رہیں۔
بات کو سمجھنے کیلئے آپکو بتاتا چلوں پیٹرو ڈالر ہے کیا؟
یہ 1974 میں شاہ فیصل اور صدر نکسن کے درمیان ایک معاہدہ ہے۔اس معاہدے کے تحت سعودی عرب پر ذمہ داری یہ تھی کہ اوپیک کے تمام ممالک کو تیل امریکی ڈالر میں فروخت کرنے پر راضی کرے اور کوئی دوسری کرنسی یا سونا قبول نہ کرے۔ فروخت سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی امریکی بینکوں یا فیڈرل ریزرو میں جمع کی جائے گی جس سے امریکی ڈالرکی مانگ میں اضافہ ہوتا ہے کیونکہ کسی بھی ملک کو تیل خریدنے کے لیے پہلے امریکی ڈالرخریدنا پڑتا ہے اور یہ انتظام امریکی ڈالرکو مضبوط رکھتا ہے۔ بدلے میں سعودی کرنسی 3اعشاریہ 75ڈالر مقرر کی گئی تھی، سعودی معیشت کی حالت جیسی بھی ہو امریکی ڈالر اور ریال کی شرح یہی رہے گی اور یہی وجہ ہے کہ آج 48 سال بعد بھی ایک ڈالر تین اعشاریہ پچھتر ریال کے برابر ہے۔ دوسرا امریکہ نے گارنٹی دی تھی کہ آل سعود اقتدار میں رہے گا، حکومت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔امریکہ کی ذمہ داری اس بات کو یقینی بنانا تھی کہ اوپیک ممالک میں سے کوئی بھی اس معاہدے سے کسی صورت بھی باہر نہ نکلے۔
یاد رہے امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار سعودی عرب کو دھمکی دی تھی کہ سعودی فرماں روا امریکی مدد کے بغیر 2 ہفتے بھی حکومت نہیں کرسکتے،گزشتہ دنوں ایسی ہی دھمکی جوبائیڈن نےبھی سعودیہ کو دی ہے،اس کی وجہ ؟سعودی عرب پیٹرو ڈالر کا معاہدہ توڑنے کے قریب ہے ۔کیونکہ اس وقت سعودی تیل کا سب سے بڑا خریدار چین بن گیا ہے اور چین کی خواہش ہے کہ وہ امریکی ڈالر کے بجائے اپنی کرنسی یوآن میں ایندھن کی خریداری کرے۔
اب آتے ہیں پاکستانی رجیم چینج کی جانب، عمران خان کی حکومت کیوں ختم کی گئی ۔
اب پیٹرو ڈالر سے علیحدہ ہونے کا طوفان اٹھا ہوا ہے،عرب ملکوں کے علاوہ چین بھی شامل ہوگیا ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اس لڑائی کا مرکزی حصہ پاکستان میں لڑا جائے گا کیونکہ پاک چین اقتصادی راہداری میں سعودی عرب نے تیسرے شراکت دار کی حیثیت سے شمولیت اختیار کرتے ہوئے گوادر کے ساحل پر ایک بڑی پیٹرولیم ریفائنری لگانے کا اعلان کیا ہوا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان بات چیت فائنل ہوچکی ہے جبکہ پاکستان نے چین کو اعتماد میں لے لیا ہے۔چین کے ساتھ اس اتحاد میں ایران اور روس نمایاں کھلاڑی ہیں۔ان کھلاڑیوں میں عمران خان بھی شامل ہوگیا تھا۔عمران خان پہلے پاکستانی وزیراعظم تھے جنہوں نے 2019 میں پاکستانی روپے اور چینی یوآن میں لین دین کا چین سے معاہدہ کیا۔ اس معاہدے میں سیمی کنڈکٹر، ٹرانسفارمرز، نشریاتی آلات اور الیکٹرونکس آلات شامل تھے۔ اگرچہ امریکہ اس سے خوش نہیں تھا، لیکن وہ چپ رہا کیونکہ اس میں تیل کا لین دین شامل نہیں تھا۔عمران خان نے 2022 میں تیل کیلئے پاکستانی روپے اور روسی روبل کا معاہدہ کرنے کے بالکل قریب تھا۔ یاد رکھیں پیٹرو ڈالر کا معاہدہ 1974 کا ہے۔ اور امریکہ پاکستان کے اس معاہدے کو کبھی قبول نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اگر دوسرے ممالک بھی اس کی پیروی کرتے ہیں تو امریکی ڈالر کمزور ہو جائے گا اور امریکی معیشت میں گراوٹ آجائے گی اور وہ مزید سپر پاور نہیں رہے گا۔اگر عمران خان ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتا تو اگلے الیکشن ہارنے کی قیمت پر بھی پاکستان امریکی غلامی سے نکل آتا اسی لئے امریکہ کو اسے فوری طور پر ہٹانا پڑا۔ اس کے علاوہ امریکہ کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔پاکستان امریکا کیلئے ایک کمزور ٹارگٹ ہے،طالبان کیخلاف جنگ ہی دیکھ لیں،پرویزمشرف ایک کال پر ڈھیر ہوگئے تھے۔ اس لئے عمران خان کو ہٹانے کیلئے انہیں عراق،لیبیا جتنی محنت نہیں کرنا پڑی۔عمران خان کو اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا چاہیے امریکا نے انکی حکومت ہی تبدیل کی صدام اور قذافی جیسا حشر نہیں کیا۔یہ ہے رجیم چینج کی اصل کہانی ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button