کالم

مغالطے

ستار چوہدری

عمران خان قبل از وقت الیکشن نہیں چاہتے،بس ان کا کام ہے اپوزیشن پردبائو ڈالے رکھیں،جتنے الیکشن لیٹ ہوتے جارہےاتحادی حکومت کا نقصان ہورہا ہے،مہنگائی دن بدن بڑھ رہی،ملکی معیشت آخری سانسیں لے رہی،سو فیصد چلنے والی انڈسٹری80 فیصد بند ہوچکی،ادویات بنانے والی4 غیر ملکی کمپنیاں کام بند کرکے چلی گئیں،شوگر کے مریض انسولین لینے کیلئے خوار ہورہے،کئی سرکاری اداروں میں تنخواہیں نہیں ملیں،کچھ اداروں میں آدھی تنخواہ دی گئی ہے۔حکومت اپنی ضد پر قائم رہ کر ملک کا بیڑا غرق کررہی،مسئلہ صرف اتنا ہےعمران خان قبل از وقت الیکشن کا مطالبہ کررہا ہے،اگرعمران خان یہ مطالبہ کرتا الیکشن وقت پر ہونے چاہئیں حکومت نے اب تک الیکشن کرا دینے تھے،جو بات عمران خان کہے گا نواز شریف اس کا الٹ کرے گا،اسی کمزور ی کا فائدہ عمران خان اٹھا رہے ہیں ،وہ بار بار الیکشن کا مطالبہ کررہے اور حکومت بار بار انکار کررہی،یہی عمران خان چاہتا ہے،جب حکومت کی مرضی کے مطابق الیکشن کا وقت آنا ہے ملک کا اتنا برا حال ہوچکا ہوگا کہ اتحادی الیکشن مہم نہیں چلا سکیں گے،عوام کے پاس جانے کیلئے ان کے پاس کچھ بھی نہیںہوگا۔لوگ انکے گریبان پکڑیں گے۔عمران خان انہیں پریشر میں رکھ کر خود آرام سے الیکشن مہم چلا رہا۔کئی ماہ ہوگئے اتحادی حکومت کے کسی رہنما کی طرف یہ بیان کبھی نہیں آیا کہ عمران خان کو سیاست نہیں آتی۔
۔۔۔۔۔۔۔
عمران خان اور پرویزالٰہی کے درمیان جتنی محبت،وفاداری بیانات میں نظر آرہی ویسا نہیں ہے۔پی ٹی آئی دل پر پتھر رکھ کرسب کچھ برداشت کررہی،180 سیٹوں والے جب10 نشستوں والے شخص کو وزارت اعلیٰ دیں گے تو سمجھ لیںکتنی بڑی مجبوری ہے۔اس محبت، خلوص، وفاداری کو عام انتخاب میں پتا چلے گا جب دونوں پارٹیوں میں اتحاد کی بات چلے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔
2018 کے عام انتخابات میں دھاندلی کرکے پی ٹی آئی کو جتوایا نہیں گیا تھا بلکہ ان کی سیٹیں کم کی گئی تھیں۔۔۔وجہ ؟مضبوط عمران حکومت کسی کو بھی وارے نہیں تھی ۔اتحادی ساتھ ملائے گئے ،بیساکھیوں پر چلنے والی کمزور حکومت ہی ’’بڑوں‘‘ کی تابعداری میں چلتی ہے۔کس کس جیتے ہوئے رکن کو ہروایا گیا،صرف دو ارکان کا ہی بتاتا ہوں،عثمان ڈار،خواجہ آصف نے ہار دیکھتے ہوئے کس کو ٹیلیفون کیا تھا؟ اور ہار جیت میں تبدیل ہوگئی ۔دوسرا شخص ہے چوہدری غلام عباس، جو زاہد حامد کے بیٹے علی زاہد سے ہار گئے تھے۔چوہدری غلام عباس21ہزار کی لیڈ سے جیت رہے تھے۔اس رات زاہد حامد ایک اہم شخص سے ملاقات کرتے ہیں اور صبح ہونے تک4ہزار ووٹوں سے بیٹے کو الیکشن جتوالیتے ہیں۔الیکشن کے بعد ن لیگ اور پیپلز پارٹی کا بیانیہ ’’لایا گیا ‘‘۔۔۔’’ سلیکٹڈ‘‘ ٹاپ ٹرینڈ بن جاتے ہیں اس کے مقابلے میں پی ٹی آئی اپنا بیانیہ بنانے میں ناکام ہوجاتی ہے۔ اور آج تک یہی کہا جارہا ہے عمران خان کو لایا گیا تھا،حالانکہ ایسا نہیں،مضبوط عمران خان کو کمزور کیا گیا تھا تاکہ کوئی بڑے فیصلے نہ کرسکے،اتحادیوں کے ہاتھوں بلیک میل ہوتا رہے اگر حکم نہ بجا لائے تو اتحادیوں کو توڑ کر وزارت عظمیٰ سے فارغ کردیا جائے۔آخر میں پھر ایسا ہی ہوا۔
۔۔۔۔۔۔۔
2013 کےالیکشن میں نواز شریف دھاندلی کے ذریعے آئے تھے،دھاندلی چھڑی والوں نے نہیں،ترازو والوں نے کی تھی۔اس وقت کے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو بہت بڑا عہدہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا،پھر۔۔۔موصوف نے آر اوز سے ملاقاتیں کرکے خاص ہدایت جاری کیں۔آراوز ماتحت عدالتوں کے ججز ہوتے ہیں،جو الیکشن کا رزلٹ فائنل کرتے ہیں،انکی رپورٹ پر ہی الیکشن کمیشن جیت کا نوٹیفکیشن جاری کرتا ہے۔آراوز نے جی بھر کر دھاندلی کی،لمبی تعداد میں ہارے ہوئے ن لیگ کے امیدوار جتوا دیے،یاد لواتا چلوں،آصف زرداری نے کئی بار بیان دیا تھا کہ 2013 کا الیکشن آراوز کا الیکشن تھا۔دھاندلی کے باوجودزرداری کیوں خاموش رہے؟اکیلا عمران خان کیوں احتجاج کرتا رہا؟زرداری کی خاموشی ’’ میثاق جمہوریت ‘‘ کا معاہدہ تھا۔اس معاہدے کے مطابق ن لیگ اور پیپلز پارٹی نے باری باری اقتدار میں آنا تھا،اس معاہدے کے گارنٹی برطانوی سفیر نے دی ہوئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔
سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ عمران خان کے بندے تھے،یہ بھی ایک مغالطہ ہے،یہ دونوں بندے نواز شریف کے تھے۔دونوں بہت بڑے کھلاڑی تھے،انہوں نے کسی بھی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی،وہ سب کچھ مانتے رہے لیکن ’’ اپنا کھیل‘‘ کھیلتے رہے،جاوید اقبال نے شریف برادران اور انکی پارٹی رہنمائوں کیخلاف کیس ضرور بنائے لیکن اتنے کمزوربنائے جنہیں کوئی بھی بڑی عدالت ایک دوتاریخوں میں فارغ کردے گی۔مریم نواز کا کیس دیکھ لیں۔جس کیس میں مریم کو سزا دینی تھی اس کا ذکر ہی نہیں کیا گیا،جس کیس میں کچھ تھا ہی نہیں اس میں سزا سنائی گئی تاکہ آگے چل کر انہیں ریلیف مل جائے ،وہی ہوا۔ایسے ہی نواز شریف کو کمزور کیس میں سزا سنائی گئی ہے،کسی اہم کیس کو چھیڑا ہی نہیں گیا،اب نواز شریف کی کسی بھی روز مریم کی طرح سزا ختم ہوجائے گی،جس کا وہ انتظار کررہے ہیں،تب ہی انہوں نے پاکستان آنا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔
جنرل فیض حمید،عمران خان کے نہیں،جنرل باجوہ کے ’’ آدمی ‘‘ تھے۔فیض حمید جس شخص کی سیٹ پرآئے تھے انہیں عمران خان نے نہیں،باجوہ نے عہدے سے ہٹایا تھا۔۔جو سٹوری تخلیق کی گئی کہ عمران خان نے انہیں کرپشن کے بارے میں اطلاع دینے پر عہدے سے فارغ کیا ٹیبل سٹوری ہے۔ فیض حمید کے ہوتےجنرل باجوہ نے ایکسٹینشن لی،نوازشریف لندن گئے،ممکن تھا پہلےوالے والے شخص کے دور میں یہ نہ ہوپاتا۔فیض حمید ،عمران خان کے بھی چھوٹے چھوٹے کام کررہے تھے کیونکہ آگے چل کر انہیں عمران خان کی ضرورت پیش آنا تھی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button