کالم

فالج اور آنتوں کی بیماریوں پرآگاہی طبی کانفرنسوں کی روداد

مدثر قدیر

گزشتہ دنوں نیورو ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ لاہور جنرل ہسپتال میں دو روزہ بین الاقوامی سطح کی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں ملکی وغیرملکی ماہر ڈاکٹر نے دماغ سے جان لیوا بیماریاں جیسے فالج،شریانکا پھٹنا،کینسر و دیگر بیماریوں کے جدید طریقہ علاج سے آگاہی دی،کانفرنس میں غیر ملکی ماہرین میں پروفیسر ایچ صدیقی،پروفیسر اسامہ یاسین منصور،پروفیسر احمد صابری مودا،سید ارتضی حسین،اسسٹنٹ پروفیسر سنتافویول شریک تھے جبکہ ملکی ماہرین میں پروفیسر تنویر الحق،پروفیسر عمیر رشید چوہدری،لیفٹیننٹ کرنل سہیل اختر،ڈاکٹر خرم شفیق،ڈاکٹر حراجمیل،ڈاکٹر محمد عاطف،ڈاکٹر کومل شامل تھے۔غیرملکی ماہرین نے کہا کہ بشمول ترقی یافتہ ممالک میں فالج کی ابتدائی معلومات کی آگہی کا فقدان ہے جس کے باعث ایک بہت بڑی تعداد کہ جسے بروقت تشخیص کی بنیاد پرفوری علاج فراہم کیا جاسکتا تھا وہ اس سے محروم رہ جاتا ہے اور فالج کی وجہ سے شرح معذوری و اموات میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فالج عمر کے کسی بھی حصے میں ہوسکتا ہے یہی وجہ دنیا بھر میں فالج کی وجہ سے شرح اموات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے،ہر چار مرد حضرات میں ایک اور ہر پانچ عورتوں میں سے ایک کو فالج ہوسکتا ہے۔پاکستان دنیا کا چھٹا، سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے، جو تقریبا 22کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ہمارے ملک میں فالج سمیت غیر متعدی امراض کی شرح تقریبا40فی صد سے زائدہ ہے جبکہ آبادی کا تقریبا 5فی صد حصہ فالج کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ اس اعتبار سے لگ بھگ 10لاکھ افراد کسی نہ کسی حوالے سے معذوری کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔دورِحاضر میں جہاں طب کے شعبے نے ہر حوالے سے ترقی کی، وہیں فالج کے علاج کے ضمن میں بھی خاصی جدت آئی ہے۔کچھ عرصہ قبل تک فالج کوایک لاعلاج مرض سمجھا جاتا تھا،مگر اب مختلف تحقیقات کے بعد یہ ثابت ہوچکا ہے کہ یہ قابلِ علاج مرض ہی نہیں، بلکہ اس کے حملے سے بچاو بھی ممکن ہے۔البتہ یہ بات اپنی جگہ موجود ہے کہ عوام کی بڑی تعداد تاحال فالج کے بروقت، موثر، معیاری اور سستے علاج سے محروم ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق سالانہ چار لاکھ سے زائد افراد انتقال کرجاتے ہیں اورلاکھوں افراد مستقل معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔فالج ایسا مرض ہے، جو جسم کے کسی بھی حصے کو مفلوج کرسکتاہے، جب کہ بعض کیسز میں اس کا حملہ جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے۔ اس کی علامات میں جسم کے کسی ایک حصے کا سن ہوجانا،قوتِ گویائی سے محرومی یا باتوں کو سمجھ نہ پانا،کھانے پینے میں دشواری،چلنے پھرنے سے معذوری، نظر نہ آنا یادھندلاہٹ وغیرہ شامل ہیں۔ فالج کے حملے کے بعد مریض فوری علاج کے طلب گار ہوتے ہیں،کیوں کہ متاثرہ فرد کو جس قدر جلدہسپتال یا اسٹروک یونٹ میں طبی نگہداشت مل جائے، بحالی کے امکانات اتنے ہی بڑھ جاتے ہیں، مگر بدقسمتی سے زیادہ تر مریضوں کو بروقت علاج دستیاب نہیں ہوپاتا۔ ملکی ماہرین نے کہا کہ پاکستان بھر کے بڑے ہسپتالوں کی جانب سے کی جانے والی مختلف
تحقیقات کے مطابق صرف فالج سے ہونے والی اموات 7سے 20فی صد کے درمیان ہیں،جب کہ فالج کے تمام مریضوں میں سے 63فی صد مختلف طبی پیچیدگیوں کا شکار ہوجاتے ہیں اور 89فی صد مکمل یا جزوی طور پر اپنے روز مرہ امور خود انجام نہیں دے پاتے اور اہلِ خانہ کے محتاج ہو کر رہ جاتے ہیں۔اگر فالج کے شدید حملے کے بعد پیچیدگیوں اور اموات کی شرح میں کمی لانی ہے،تو اس کے لیے سب سے ضروری تمام ٹیچنگ ہسپتالوں کے شعبہ نیورولوجی میں اسٹروک (فالج) سینٹرز کا قیام ہے۔موجودہ صورتِ حال میں ان سینٹرز کی بہت کمی نظر آتی ہے،کیوں کہ اگر بڑے ہسپتالوں میں اسٹروک سینٹرز علاج کی سہولتیں فراہم کررہے ہوں تو کئی قیمتی جانیں ضایع ہونے یازندگی بھر کی معذور ی سے بچائی جاسکتی ہیں اورآگہی مہم کے ذریعے دماغ اور دِل کی بیماریوں کے خطرات کی علامات اور ان سے بچاو کے ضمن میں لوگوں کو مقامی زبانوں میں معلومات فراہم کی جائیں اور اس کے لیے ہر چھوٹے بڑے شہرمیں آگاہی مہم کا آغاز کیاجائے۔اسی طرح کی آگاہی کانفرنس کا انعقاد مقامی ہوٹل میں ہوا جس میں پیڈیاٹرک ماہرین نے کہا ہے کہ پروبائیوٹکس روٹا وائرس کے علاج اور اینٹی بائیوٹک سے وابستہ اسہال کی روک تھام میں کارآمد ہیں،پروبائیوٹکس بچوں اور بڑوں میں قوتِ مدافعت بڑھانے اور اسہال کو ٹھیک کرنے میں فائدہ مند ہیں۔ اس موقع پر چیئرپرسن پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن گیسٹرینرولوجی اینڈ ہیپاٹولوجی گروپ اور پاکستان میں جینیاتی بیماریوں سے متعلق ٹاسک فورس کی رکن پروفیسر ہما ارشد چیمہ ن ڈاکٹر عبد الغفار بلو، پروفیسر ڈاکٹر اقبال میمن اور پروفیسر ڈاکٹر ساجد مقبول نے روبائیوٹکس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پروبائیوٹکس صحت مند بیکٹیریا ہیں جو آنتوں کی تکلیف سے نجات میں مدد کرتے ہیں۔ انسانی جسم میں تقریباً ایک کلوگرام اچھے اور برے دونوں بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں۔ پروبائیوٹکس خراب بیکٹیریا سے لڑنے کے لئے ایک مضبوط مدافعتی نظام تیار کرنے میں اچھے بیکٹیریا کی مدد کرتے ہیں پروبائیوٹکس محفوظ ہیں اور یرقان کا علاج کرنے اور بچوں کی زندگیاں بچانے میں مدد کرتے ہیں۔ پروبائیوٹکس کا استعمال کرکے انسانی جسم میں بڑی تعداد میں رہنے والے نقصان دہ جرثومے مائکرو فلورا پر قابو پایا جاسکتا ہے جبکہ اینٹی بائیوٹکس کے استعمال کی وجہ سے صحت مند بیکٹیریا ضائع ہونے کی صورت میں پروبائیوٹکس مددگار بیکٹیریا سے خلاء پُر کرنے میں مدد کرتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ ادویہ میں قابلِ عمل بیکٹیریا کی مناسب تعداد کی موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے پروبائیوٹکس کے معیار کا تعین انتہائی ضروری ہے۔ آنت میں داخل ہونے کے بعد پروبائیوٹکس انسانی جسم میں خوراک حاصل کرتے ہوئے خراب بیکٹیریا کی خوراک بھی استعمال کرلیتے ہیں۔اس موقع پر چیئرپرسن پاکستان پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن گیسٹرینرولوجی اینڈ ہیپاٹولوجی گروپ اور پاکستان میں جینیاتی بیماریوں سے متعلق ٹاسک فورس کی رکن پروفیسر ہما ارشد چیمہ نے کہاکہ پروبائیوٹکس بچوں اور بڑوں میں قوتِ مدافعت بڑھانے اور اسہال کو ٹھیک کرنے میں فائدہ مند ہیں انہیں خراب بیکٹیریا کو قابو میں رکھنے کے لئے برقرار رکھنا چاہیے اوردودھ پلانے والی ماوں کے لئے پروبائیوٹکس اہم ہیں۔کانفرنس کے دوران مقررین نے معلوماتی تقریب کے انعقاد کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے منتظمین کو مبارک باد دی اور مزید ایسے سیشنز کی ضرورت کا اظہار کیا کیونکہ معالج اور مریض آنتوں کی بیماریوں اور دیگر انفیکشن سے نمٹنے کے لیے محفوظ طریقوں پر غور کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button