کالم

عورت کی پہچان

حمیرا تنویر

دور حاضر میں انسان کی پہچان اس کی جنس تک محدود نہیں رہی بلکہ پہچان کا دائرہ کار اس قدر وسیع ہوگیا ہے کہ تعلیم، قابلیت اور معاشی حالات انسانی پہچان کی ناپ تول کے لوازمات میں شامل ہو چلے ہیں، کل تک معاشرے میں ان تمام صفات کا تعین مرد کی ذات میں تلاش کیا جاتا تھا مگر حالات میں جدت نے انہیں قرہ ارض پر موجود ہر انسان پر لاگو کردیا ہے اب عورت کی پہچان فقط یہ نہیں رہی کہ وہ کس کی ماں، کس کی بیٹی، کس کی بہن یا پھر کس کی بیوی ہے، معاشرے نے عورت کی پہچان اور کردار کے پیمانے کی ناپ تول کے لئے نہ جانے کتنے ہی پیمانے بنا رکھےہیں،آج کا معاشرہ عورت کو تمام رشتوں کے باوجود پیشہ وارانہ زندگی میں بھی مرد کی برابری پر مجبور کرتا ہے، عورت تمام تر امور پور کرنے کی ہر ممکن کوشش کر ہی کیوں نہ لے کہیں نہ کہیں کچھ کمی رہ ہی جاتی ہے اور یوں سلسلہ شروع ہوتا ہے عورت پر تنز و طعن کا عقل گھٹنوں سے لے کر قسمت خراب تک کے سارے وار عورت ہی سہتی ہے مگر اپنی زمہ داریوں سے کبھی نفی نہیں کرتی۔مغربی دنیا میں عورت نے شاید برابری کے اصولوں پر حقوق حاصل کرلئے ہونگے مگر مشرقی معاشرے کا وجود عورت سے ہے کیوں کہ گھر مرد نہیں بساتے عورت ہی بساتی ہے گھر کی رونق عورت سے ہی ہوتی ہے یہ عورت ہی ہے جو گھر کی ہر شے کو سلیقہ بخشتی ہے۔اس میں کوئی شکوک و شہبات نہیں کہ پاکستان میں مغربی ثقافت کو عام کرنے کے ہتھکنڈے عام ہوئے جارہے ہیں اور دنیا کی وہ عظیم قومیں اور قوتیں جنہوں نے خواتین کو آج تک اپنے ملک یا ریاست کا سربراہ نہیں چنا انہوں نے خواتین کے حقوق کو دنیا بھر میں اس لئے رائج کروایا تھا کہ خواتین کی کامیابیوں کو خراجِ تحسین پیش کی جاسکے مگر اب معاملہ اس کے برعکس ہے۔مثال لے لیتے ہیں خواتین کے عالمی دن کی اب اس دن کو دنیا بھر میں منانے کا طرز و طور بہت ہی منفرد ہے، ترقی یافتہ ممالک میں یہ دن آج بھی خواتین کی حوصلہ افزائی کے طور پر ہی منایا جاتا ہے، مگر ترقی کی راہ کی طرف گامزن ممالک میں جلسے جلوسوں اور مظاہروں کی شکل میں اس دن کو عزت بخشی جاتی ہے،شاید ہم کو یہ کہتے اور سمجھتے شرم محسوس ہوتی ہے کہ پاکستان ایک آزاد اسلامی فلاحی مملکت ہے کیونکہ ہم نے آزادی کے جو معنی اخذ کئے ہیں وہ کچھ اس طرح ہیں کہ لوٹ مار، چور بازاری اور بے حیائی کو عام کیا جائے تاکہ ہر شخص اپنے معیار کے مطابق اپنی آزادی کو جی سکے، جب ہم وطنِ عزیز کو چھوڑ کر دیارِغیر میں آباد ہونے کا شرف حاصل کرتے ہیں تو سمجھ آتی ہے کہ آزادی ہے کس چڑیا کا نام۔ دنیا
بھر میں اعلیٰ مقام رکھنے والاممالک میں تو سانس بھی اپنی مرضی سے لینا بہت بڑی جیت میں شمار ہوتا ہے،ہر قدم سرکار کی اجازت یا متعلقہ محکموں تک معلومات پہنچائے بغیر اٹھانا ممکن ہی نہیں ہوتا ترقی یا فتہ ممالک میں، مگر وطنِ عزیز کی تو بات ہی نرالی ہر جائز نا جائز کام ہم دھڑلے سے کرتے پھرتےہیں اب خواہ وہ دارلخلافے میں اسرائلی پرچم لہرانا ہو یا پھر کھلے عام اسلحہ لہرا کر شہرِاقتدار کو یرغمال بنانا، ہم وہ زندہ قوم ہیں جسے کسی دشمن کی ضرورت ہی نہیں پڑتی ہم اپنے آپ ہی جدید دور کے تقاضے پورے کرنے کے چکر میں وطن دشمنی کے پیکر بن جاتے ہیں، حالیہ میری مرضی تیری مرضی اِس کی مرضی سب کی مرضی والا نیا منجن ماحول میں فساد برپا کئے ہوئے ہےاور نشانہ پر ہے صنفِ نازک۔ جی ہاں یہ ایک حساس معاملہ ٹھرایا جاتا ہے، بہت سے قلم جرات کھو دیتے ہیں اس حوالے سے کچھ اگلنے میں ، اس معاملے کو اگر ہم راحت اندوری صاحب کی شاعری کے تناظر میں دیکھیں تو کچھ کچھ سمجھ آنے لگے گا۔ہمارے جسم کے داغوں پہ تبصرہ کرنےقمیضیں لوگ ہماری پہن کے آتے ہیں عبادتوں کا تحفظ بھی ان کے ذمے ہےجو مسجدوں میں سفاری پہن کے آتے ہیں جناب عالی گہرائی ہے اس شاعری میں وہ یوں کے کوئی باہر سے نہیں آتا ہماری نازک صورتحال کو تار تار کرنے، یہ وہ طبقہ ہے جس نے نا صرف ہماری ثقافتی ، سماجی بلکہ مذہبی قدروں کو بھی بدلنے کی بے حد کوشش کی مگر خدا سلامت رکھے ان بہادر خواتین کو جنہوں نے ہمیں ہر چھوٹے بڑے میدان میں سرخروکیا ہے۔جب خواتین کی بات آتی ہے تو شاید ہم انگلیوں پر نام گنتے نظر آتے ہیں کہ کتنی خواتین ہیں جنہوں نے ملک میں نام کمایا ہے، ارے صاحب دکھاوے پر نا جائیں بس نظر گھمائیں تو آس پاس زندہ مثالیں چلتی پھرتی دکھائی دیں گی، اگر بڑے ناموں کی بات کی جائے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کا وہ واحد اسلامی ملک ہے جس میں پہلی بار کوئی خاتون وزیرِاعظم کے عہدے پر براجمان ہوئی،دنیا کے بیشتر ممالک جو عورت کارڈ کا استعمال کرکے مسلم ممالک کی سرزنش کرتےہیں وہاں نا تو آج تک کسی خاتون کو سربراہت کا موقع ملا نا ہی کبھی ان سیاسی جماعتوں نے تقویت پائی جہاں خواتین بطور سربراہ منظرِعام پر ہوں۔ جہاں تک رہی بات مرضی مارچ کی تو ان کو یہ باور کرواتی چلوں کہ قصہ یہاں خواتین کے حقوق کا نہیں بات یہاں مذہبی منافقت کی ہے، خواتین کے عالمی دن کے موقع پر اگر ہم دنیا کے اخباروں پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یورپ کے معروف جریدے کی ہیڈ لائن تھی کے داعش سے تعلق رکھنے والی خاتون کو تین سال سزا ہوئی اور پاکستان میں اخباروں کی زینت عورت مارچ رہا، یعنی دونوں واقعات میں لب لباب یہ نکلا کہ مسلم ملک میں عورت کے حقوق کے لئے جدوجہد کی خبر چھپی اور ترقی یافتہ ملک میں یہ کہا گیا کہ اسلام نے ہماری خواتین کا برین واش کرکے ان کو تباہ کیا۔یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس بات کو سمجھ سکیں کے مرد جیسے باہمت انسان بھی عورت سے ہی جنم لیتے ہیں اس لئے اس بات کی کہیں گنجائش نہیں کے عورت کو کمزور سمجھا جائے اور اس کی پہچان کو پامال کیا جائے، ہم لاکھ ترقی پذیر سہی مگر ہمارے معاشرے نے ایسی خواتین کو جنم دیا ہے جن کی مثال شاید پوری دنیا میں کہیں نہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button