کالم

پاکستان کے سابقہ آرمی چیفس اور نئے آرمی چیف

لالا مرتضیٰ

پیارے پاکستانیو!نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر بن چکے ہیںاسکے ساتھ سابقہ آرمی چیفس کے بارے بتانا ضروری ہے ۔پاکستان کے پہلے آرمی چیف برطانیہ کے سر فرینک والٹر میسروی اگست 1947 سے فروری 1948 تک اس عہدے پر فائز رہے پاکستان کے دوسرے آرمی چیف بھی برطانیہ کےجنرل ڈگلس ڈیوڈ گریسی فروری 1948 سے اپریل 1951 تک تعینات رہے ان دونوں غیر ملکی آرمی چیفس کے ہوتے ہوئے سول حکومتوں کو کوئی خطرہ نہیں تھا کیونکہ یہ قائد اعظم کے فرمان کے مطابق سیاست میں ذرہ برابر بھی مداخلت نہیں کرتے تھے ۔ یہ دونوں آرمی چیف برطانوی شہری اور غیر مسلم تھے۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان نے 1951 میں دو سینئر جرنیلوں اکبر خان اور این اے ایم رضا کو نظر انداز کرکے جنرل ایوب خان کو پاکستان کا تیسرا اور پہلا پاکستانی مسلمان آرمی چیف بنایا جنرل اکبر خان کی آپ بیتی "میری آخری منزل” پڑھیں تو پتا چلتا ہے کہ جنرل ایوب خان کی تقرری سے قبل کیا کیا سازشیں ہوئی تھیں۔فوج کے سب سے قابل اور سینئر جنرل افتخار خان اچانک ایک پراسرار فضائی حادثے کا شکار ہوگئے تھے جنرل اکبر خان اور جنرل این اے ایم رضا کو اس لیے نظر انداز کیا گیا کہ وہ کسی برطانوی جرنیل کو پاکستانی فوج کا سربراہ بنانے کیخلاف تھے لہٰذا لیاقت علی خان نے سیکرٹری دفاع سکندر مرزا کے مشورے پر جنرل ایوب خان کو فوج کا سربراہ بنا دیا اسی ایوب خان نے سکندر مرزا کی ملی بھگت سے پاکستان میں پہلا
مارشل لاء لگایا جنرل ایوب خان کو آرمی چیف لگانے والے وزیراعظم لیاقت علی خان جب قاتلانہ حملہ میں شہید ہوئے تب جنرل ایوب خان لندن میں تھے۔تیسرے آرمی چیف فیلڈ مارشل محمد ایوب خان 17 جنوری 1951 سے 26 اکتوبر 1958 تک تقریباً ساڑھے 7 سال اس عہدے پر تعینات رہے۔جنرل ایوب خان نے تین جرنیلوں کی سنیارٹی کو نظر انداز کرکے جنرل موسیٰ خان کو پاکستان کا چوتھا آرمی چیف بنا دیا چوتھے آرمی چیف جنرل محمد موسیٰ 27 اکتوبر 1958 سے 17 ستمبر1966 تک رہے ان کا دورانیہ 8 سال رہا۔1966میں صدر ایوب خان نے ایک دفعہ پھر دو سینئر جرنیلوں کو نظر انداز کیا اور جنرل یحییٰ خان کو پانچواں آرمی چیف بنا دیا یحییٰ خان نے اپنے محسن صدر ایوب خان سے 1969 میں استعفیٰ لیا اور دوسرا مارشل لاء لگا دیا جنرل یحییٰ خان 18 ستمبر1966 سے 20 دسمبر 1971 تک ملک کے 5 ویں آرمی چیف رہے۔6ویں آرمی چیف جنرل گل حسن قومی تاریخ کے سب سے مختصر مدت کے لیے فوجی سربراہ تھےانھوں نے22 جنوری 1972 کو آرمی چیف کا عہدہ سنبھالا اور 2 مارچ 1972 تک آرمی چیف رہے ان کی بطور آرمی چیف مدت ملازمت صرف 45 دن بنتی ہے۔7ویں آرمی چیف جنرل ٹکا خان 3 مارچ 1972 سے یکم مارچ 1976 تک اس عہدے پر رہے۔1976میں پاکستان کے وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو نے آرمی چیف کی تقرری میں سات فوجی افسران کی سنیارٹی کو نظر انداز کیا اور ایک جونیئر افسر جنرل ضیاء الحق کو 8واں آرمی چیف لگا دیا ۔جنرل ضیاء الحق نے 1977 میں مارشل لاء لگا د یا۔ جنرل ضیا الحق یکم مارچ 1976 سے 17 اگست 1988 تک ساڑھے 12 سال کے طویل عرصے تک آرمی چیف کے منصب پر رہے۔ طیارہ حادثے میں جنرل ضیا الحق اور سینئر فوجی افسران کی بڑی تعداد کی شھادت کے بعد جنرل مرزا اسلم بیگ 17 اگست 1988 سے لیکر 16 اگست 1991 تک تین سال 9 ویں آرمی چیف رہے۔10ویں آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ تھےجو 16 گست 1991 سے 8 جنوری 1993 تک آرمی چیف رہے11ویں آرمی چیف جنرل عبدالوحید کاکڑ تھے جنھوں نے 12 جنوری 1993 سے 12 جنوری 1996 تک یہ عہدہ سنبھالا ۔جنرل وحید کاکڑ کو وزیراعظم بینظیر بھٹو نے ایکسٹینشن کی پیشکش کی جو انہوں نے مسترد کردی ۔جنرل جہانگیر کرامت 12 جنوری1996 سے 7 اکتوبر 1998 تک 12 ویں سپہ سالار رہے۔ انھوں نے سول حکومت سے اختلافات پر استعفیٰ دے دیا تھا ۔وزیراعظم نواز شریف نے 1998ء میں دو فوجی جرنیلوں کی سنیارٹی کو نظر انداز کیا اور جنرل پرویز مشرف کو آرمی چیف بنا دیا ۔جنرل پرویز مشرف 7 اکتوبر 1998 سے 28 نومبر2007 9 سال تک 13ویں آرمی چیف رہے انھوں نے چیف ایگزیکٹیو اور صدر پاکستان کے منصب بھی سنبھالے ۔جنرل اشفاق پرویز کیانی 14ویں آرمی چیف بنے انہوں نے صدر آصف زرداری سے 3 سال ایکسٹینشن بھی لی تھی۔14ویں آرمی چیف جنرل کیانی کی 29 نومبر 2013 کو ریٹائرمنٹ کے بعد وزیراعظم نواز شریف نےدو سینئر جرنیلوں کو نظر انداز کرکےجنرل راحیل شریف کو 15 واں آرمی چیف بنادیا جنرل راحیل شریف کی سیاست میں مداخلت پر آصف زرداری نے اینٹ سے اینٹ بجانے والا بیان دیا تھا ۔آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی 29 نومبر 2016 کو ریٹائرمنٹ کے بعد وزیراعظم نواز شریف نے چار سینئر جرنیلوں کو نظر انداز کرکے جنرل قمر جاوید باجوہ کو 16 واں آرمی چیف بنادیا۔یاد کیجئے کہ 2019 میں جنرل قمر باجوہ کے بطور آرمی چیف 3 سالہ مدت پوری ہوئی تو وزیر اعظم عمران خان لندن میں بیٹھے نواز شریف اور نیب کے قیدی آصف زرداری نے ایک عظیم اتفاق رائے کے ساتھ جنرل باجوہ کو 3 سال کی توسیع دے دی لیکن سپریم کورٹ نے پوچھ لیا کہ یہ توسیع کس قانون کے تحت دی گئی کوئی قانون سرے سے موجود ہی نہیں تھا جس کے بعد ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھاڑ کرنے والے سیاستدان فوراً اکٹھے ہوئے متفقہ طور پر لائنوں میں لگ کر ووٹ ڈالے اور ترمیم منظور کرکے سپریم کورٹ میں جمع کروائی ۔ بدقسمتی سے پاکستان میں آرمی چیف کو صدر اور وزیر اعظم سے زیادہ طاقتور سمجھا جاتا ہے اسی لئے ہر وزیر اعظم اپنی مرضی کا آرمی چیف لانا چاہتا ہے۔اصولی طور پرنئےآرمی چیف کا سیاست میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیئے ورنہ پاکستان اگلے 75 سال بھی ایسے ہی معاشی طور پر کنگال اور نازک حالات سے ہی گزرے گا ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: