تازہ ترینکالم

سالار اعلیٰ کی تقرری۔غیر ضروری تاخیر کیوں؟

سالارِ اعلیٰ کی تقرری، لگتا ہے حکمران اتحاد کے جوڑوں میں بیٹھنے لگی ہے،بقول میاں جاوید لطیف، اتحادی حکومت کے معاملات بہت زیادہ درست نہیں ہیں، نیوٹرلز، سارے کے سارے نیوٹرل نہیں ہیں،مبینہ طور پر عمران خان کے سر پر کچھ لوگوں کا ہاتھ ابھی تک دھرا ہوا ہے،بھاری ہاتھ ہے جو انہیں حوصلہ دے رہا ہے، دیتا رہا ہے10اپریل2022ء کے بعد قومی اسمبلی سے رخصت ہونے سے اب تک وہ بڑے دھڑلے سے احتجاجی سیاست کر رہے ہیں۔ نفرت کی سیاست کر رہے ہیں،مرنے مارنے کی باتیں کر رہے ہیں۔دھڑلے سے یو اور وی ٹرن لے رہے ہیں، نیوٹرلز کو للکارنے، ششکارنے کے ساتھ ساتھ نہ صرف انہیں اپنی حکومت گرانے اور چوروں کو مسلط کرنے کی بے دھڑک باتیں کرتے رہے ہیں لیکن اب وہ کہہ رہے ہیں کہ نیوٹرلز نے میری حکومت گرائی نہیں پھر بھی انہوں نے بچانے کی کوشش نہیں کی،حالانکہ وہ ایسا کر سکتے تھے انہیں کرنا چاہئے تھا۔ امریکی سازش کے نظریے سے بھی توبہ تائب ہو چکے ہیں لیکن اپنے قتل کی ایف آئی آر کے لئے نیوٹرلز میں سے ہی ایک بڑے نام پر مقدمہ درج کرانے کی باتیں بلند آہنگ سے کر رہے ہیں اور سب سے اہم 26 نومبر کو راولپنڈی میں اپنے لانگ مارچ کی قیادت سنبھالنے اور اگلے لائحہ عمل کے اعلان کرنے کا اعلان بھی کر چکے ہیں یہ ان کے خطرناک ہونے کی انتہا ہو سکتی ہے۔وہ جو کچھ کہتے رہے ہیں آزادی کا نعرہ لگاتے رہے ہیں مسلط کردہ چوروں سے قوم کو نجات دلانے کی باتیں کرتے رہے ہیں اِس وقت تک شاید نئے سالارِ اعلیٰ کی تقرری کا اعلان ہو چکا ہو گا اور بقول خواجہ آصف پھر اتحادی حکومت عمران خان سے نمٹنے کے لئے یکسو ہو چکی ہو گی۔
حکومت،اتحادی حکومت، ن لیگی قیادت میں اتحادی حکومت والی سیاست نہیں، ریاست کی بات کرتی نظر آتی ہے اس بارے میں تو دوسری رائے ہر گز نہیں ہے کہ اپریل میں حکومت لینے کا فیصلہ سیاسی اعتبار سے کسی طور بھی دانشمندانہ نہیں تھا۔عمران خان اپنی44ماہی کارکردگی کے باعث، مکمل ناکام نظر آ رہے تھے ان کی صفوں میں ابتری نظر آ رہی تھی،ان کی عوامی پذیرائی میں بھی شدید گراوٹ آ چکی تھی۔ماہرین کے مطابق اگر عمران خان کو ڈیڑھ سال تک اور اقتدار میں رہنے دیا جاتا تو2023ء میں ہونے والے انتخابات میں ان کی شکست یقینی تھی،لیکن اتحادیوں نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کو کامیاب بنا کر عمران خان کو فیس سیونگ کا سنہری موقع فراہم کیا۔ عمران خان کی معاشی ناکامیاں اپنے کھاتے میں ڈال کر اپنی سیاست داؤ پر لگا دی اور عمران خان ایک بار پھر سڑکوں پر آ گئے۔
گزرے سات مہینوں کی احتجاجی سیاست میں عمران خان کی عوامی پذیرائی میں اضافہ بھی دیکھنے میں آیا اور لانگ مارچ کے وقفوں میں عوام کی عدم دلچسپی کے مظاہرے بھی حقیقت ہیں۔ عمران خان نے اس دوران حکومت پر خوب دباؤ بڑھایا، اپنے پتے اچھے انداز میں کھیلے لیکن اتنی سرعت کے ساتھ یو اور وی ٹرن بھی لئے کہ ان کا بیانیہ اپنی اثر پذیری کم کرتا نظر آ رہا ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ حکومت بہت سے اچھے کام کرنے کے باوجود عوام کو معاشی ریلیف دینے میں ناکام نظر آ رہی ہے۔سفارتی سطح پر معاملات میں بہتری لانے اور عالمی اداروں کا اعتماد جیتنے کے باوجود عوام کو معاشی ریلیف نہیں دے سکی۔ عمران خان اپنے بیانیے اور لانگ مارچ کے ذریعے حکومت پر دباؤ بھی برقرار رکھے ہوئے ہیں، دوسری طرف معاشی کمزوریوں کا ذکر کر کے عدم اعتماد کی فضا برقرار رکھنے کے لئے کوشاں ہیں۔اتحادیوں کے درمیان ”منافقانہ مفاہمت“ تو ضرور پائی جاتی ہے وہ متحد نظر آ رہے ہیں جہاں تک وزارتوں کا تعلق ہے اس حوالے سے سب ہم آہنگ ہیں اقتدار میں سب ہنسی خوشی اور جوش و جذبے سے شریک ہیں، سب اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں،انہیں کسی سے شکایت نہیں ہے کیونکہ اقتدار میں تو سب شریک ہیں لیکن عمران خان کے سیاسی ملبے کا بوجھ اٹھانے کے لئے صرف مسلم لیگ(ن) ہی نظر آتی ہے، عوام کی معاشی مشکلات کے منفی اثرات سے مسلم لیگ کا ووٹ بنک متاثر ہو گا، پیپلزپارٹی، مولانا فضل الرحمن و دیگر اتنے متاثر نہیں ہوں گے۔

مسلم لیگ(ن) بھی اس طرح متحد نظر نہیں آ رہی ہے جس طرح ہونی چاہیے۔ شہباز شریف اپنے تجربے اور کام کی لگن کے ساتھ اتحادی حکومت کو لے کر چل تو رہے ہیں لیکن اقتدار اور فیصلہ سازی کی لگامیں ان کے ہاتھوں میں نہیں ہیں، سب کو پتہ ہے کہ حتمی فیصلہ سازی کا ذکر یہاں نہیں بلکہ لندن میں ہے اور پاکستان میں بھی مرکز اسلام آباد نہیں جاتی عمرہ ہے،جہاں کچھ عرصہ پہلے تک مریم نواز شریف براجمان تھیں۔ایسی منتشر اور الجھی ہوئی اتحادی قوت، سالارِ اعلیٰ کے انتخاب و اعلان کے معاملے میں کمزور نظر آ رہی ہے، آئینی و قانونی طور پر فیصلہ کرنے کا حتمی اختیار وزیراعظم کے پاس ہے اور وہ شہباز شریف ہیں لیکن انہیں نہ صرف اپنے تیرہ اتحادیوں سے بھی مشورہ کرنا ہے اور انہیں اپنے انتخاب کردہ سالارِ اعلیٰ کے نام پر اتفاق کرنے پر قائل کرنا ہے بلکہ اپنے بڑے بھائی کے احکامات پر بھی عملدرآمد کرنا ہے اس کے علاوہ بھی دیکھی اَن دیکھی قوتوں کا اتفاق رائے حاصل کرنا شہباز شریف کی ذمہ داریوں میں شامل نظر آ رہا ہے۔ شہباز شریف جتنے مرضی ایڈمنسٹریٹر ہوں، سیاست دان ہوں وہ ایسی تمام رکاوٹوں سے نبرد آزما ہونے میں شدید مشکلات کا شکار نظر آ رہے ہیں، فیصلہ سازی میں اس قدر تاخیر سے یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ معامات الجھے ہوئے ہیں، وزیراعظم اپنا فیصلہ کن اختیار استعمال کرنے سے معذور دکھائی دیتے ہیں۔ایسے ماحول میں عمران خان اپنی منفی اور احتجاجی سیاست چمکانے میں مصروف ہیں۔ قومی سیاست میں ہیجان انگیزی ایسی ہی وجوہات کے باعث اپنے عروج پر ہے جس کے ہماری قومی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں،پہلے سے بیٹھی ہوئی معیشت ایسے کسی مزید بوجھ کو اٹھانے کے لائق ہر گز نہیں ہے جس کے نتیجے میں سب کچھ ملیا میٹ ہو جائے، کسی بھی فیصلہ سازی میں تاخیر جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے جیسا کہ سالارِ اعلیٰ کے تقرر میں غیر ضروری تاخیر،ہماری قومی سیاست اور معاش کے لئے تباہ کن ثابت ہو رہی ہے۔ویسے اب کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہیں ہے مزید تاخیر اب آئینی و قانونی طور پر ممکن ہی نہیں ہے اس لئے نئے آرمی چیف کے تقرر کا اعلان ہوا ہی چاہتا ہے بس تھوڑا سا صبر کر لیجئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: