پاکستانتازہ ترین

کسی نے سلیکٹڈ کا لقب دیا تو کسی نے امپورٹڈ کا، یہ غلط ہے. آرمی چیف

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے ہار اور جیت سیاست کا حصہ ہوتی ہے،کسی نے سلیکٹڈ کا لقب دیا تو کسی نے امپورٹڈ کا، یہ غلط ہے،پاکستان کی سلامتی کیلئے شہداء نے بےپناہ قربانیاں دی ہیں، مادروطن کی سالمیت کی حفاظت ہمارااولین فرض ہےاوررہےگا۔29 نومبر کو میں ریٹائر ہو جاؤں گا، یوم شہدا پر بطور آرمی چیف آج آخری خطاب کر رہا ہوں۔شہدا کے لواحقین کو کبھی تنہا نہیں چھوڑیں گے،مجھےفخر ہےکہ 6سال عظیم فوج کاسربراہ رہا،ہمارے جوان ہر وقت اپنے وطن کے دفاع کیلئےتیار رہتےہیں۔
یوم دفاع اور یوم شہدا کی تقریب سےخطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کئی حلقوں کی جانب سےفوج پرشدید تنقید کے ساتھ غیر شائستہ زبان کا استعمال کیا گیا، کیا یہ ممکن ہے کہ بیرونی سازش ہو اور فوج خاموشی سے بیٹھی رہے، یہ گناہ کبیرہ ہے۔ایک جعلی اورجھوٹا بیانیہ بنا کر ملک میں ہیجان کی کیفیت پیدا کی گئی،سب کو ذہن نشین کرلینا چاہیے کہ صبر کی بھی ایک حد ہے، امید ہے سیاسی جماعتیں اپنے رویئے پر نظرثانی کریں گی۔وثوق سے کہہ سکتا ہے ہوں کہ پاکستان سنگین معاشی مشکلات کا شکار ہے، کوئی بھی ایک سیاسی جماعت ملک کو اس مشکل سے نہیں نکال سکتی،سیاست میں سلیکٹڈاور امپورٹڈ کے القابات کو ختم کرنا ہوگا۔
آرمی چیف نے کہا کہ فوج کا سب سے پہلا کام اپنی سرحدوں کا دفاع کرنا ہے،پاک فوج نےاپنے مینڈیٹ سےبڑھ کر قوم کی خدمت کی ہے۔مشرقی پاکستان کاعلیحدہ ہونا فوجی نہیں سیاسی ناکامی تھی۔ پاک فوج نے اپنے مینڈیٹ سےبڑھ کر قوم کی خدمت کی ہے،فوج کی سیاست میں مداخلت غیرآئینی ہے، ہم نےعزم کیاکہ فوج سیاست سےدوررہےگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: