کالم

20نومبر،ہربچہ ہماری ذمہ داری

علی جان

بچے ہی ہمارامستقبل ہیں اسی حوالے سے20 نومبر بچوں کے حقوق کے لئے اقوام متحدہ کے تحت بننے والی دو اہم دستاویزات کی یاد دلاتاہے ۔ (۱) ڈیکلیریشن آف دی رائٹس آف چائلڈ1959 (۲) کنونشن آن دی رائٹس آف دی چائلڈ1989۔ اور دنیا کے تقریبا 180 سے زائد ممالک اس کی توثیق کر چکے ہیں۔اس وجہ سے یہ دن بہت ہی اہمیت کاحامل ہے پہلی مرتبہ عالمی یوم اطفال 1953ءکو انٹر نیشنل یونین فار چلڈرن ویلفیئر کے تحت منایا گیاجسے بعد میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی اپنا لیا۔ پہلی بار جنرل اسمبلی کی طرف سے 1954ءکو یہ دن منایا گیا۔یہ دن ہر سال 20 نومبر کا منایا جاتا ہے۔اس دن کو منانے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ بچوں کے لئے ایسے اقدامات کئے جائیں جو ان کی بہتر نشوونما، اور فلاح بہبود کے لئے ضروری ہیں اور انہیں تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضروریات پہنچانے کا انتظام کیا جائے تاکہ وہ مستقبل میں ملک و ملت اور انسانیت کے لئے اپنا کردار ادا کر سکیںیوم اطفال تھا یعنی اس بات کا عزم کئے ہوئے کہ بچوں کی فلاح کے لئے سب مل کر اقدام کریں گے۔آج کے دن ہم والدین اوراولاد کی قربت اوردوری کی بات کریں گے کیونکہ اولاد کی تربیتہماری زندگی کا اہم ترین معاملہ ہے کیونکہ اولاد اپنے والدین کا عکس ہوتی ہیں اولاد کی شخصیت سے والدین کی تربیت جھلکتی ہےچھوٹی عمرمیں ہم بچوں کوجوسکھاتے ہیں یو بچے اپنے والدین سے جو کچھ سیکھتے ہیںاآگے زندگی میں وہی تربیت کے اصول باشعور ہونے کے بعد اولاد کے لئے اپنی زندگی کی راہیں متعین کرنے میں راہنمائی کرتے ہیں اولاد کی بہترین تربیت کے لئےوالدین کی بھرپور محبت و
شفقت اور توجہ ہےبہترین تربیت کی بنیاد بنتی ہے۔ تمام والدین اپنی اولاد سے یکساں محبت کرتے اور بھرپور توجہ دیتے ہیں لیکن بدقسمتی اگرہم اپنے قریبی دووستوں یارشتہ داروں پرتوجہ کریں توچند ایک گھرانوں کے مشاہدے سے یہ تلخ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ بہت سے والدین وجوہات کوئی بھی ہوں اپنی اولاد کی درست سمت میں تربیت نہیں کر پاتے۔چونکہ ہر بچے کی پرورش اپنے ماحول کے مطابق ہوتی ہے لیکن بچے سب سے پہلے اور سب سے زیادہ جس ماحول کا اثر لیتے ہیں وہ ان کے اپنے گھر کا ماحول ہے اور یہی ماحول بچے کی تربیت کی بنیاد بنتا ہے اگر گھر کا ماحول خوشگوار اور پرسکون ہے تو بچے کی تربیت بھی اچھے طریقے سے کرنا ممکن ہے اور اگر گھر کا ماحول کسی بھی وجہ سے ناخوشگوار ہے تو بچے کی ذہنی و جسمانی نشوونما پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ چونکہ شخصیت کی تعمیر و تشکیل کا انحصار بہت حد تک خاندانی پس منظر، زندگی میں درپیش آنے والے حالات و واقعات اور ارد گرد کے ماحول پر مبنی ہے اسی لئے مختلف گھرانوں، خاندانوں، ممالک اور خطوں کے تضاد کے باعث وہاں کے باشندوں کے مزاج اور عادات و اطوار میں اسی بنا پر ایک دوسرے سے اختلاف پایا جاتا ہے ہمارے گھریلوجھگڑوں کی وجہ سے بچوں میں ضد اور ہٹ دھرمی کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے۔ والدین کی بات کو نہ ماننا ایک روّیہ بن گیا ہے۔ عموماًبچے والدین کے باربار منع کرنے پر بھی شرارتیں کرنے، دوسرے بچوں کو تنگ کرنے ،مہمانوں کے سامنے بدتمیزی کرنے سے باز نہیں آتے۔بچے بلاوجہ رونے لگیں، منہ پھیر کر لیٹ جائیں، جگہ چھوڑ کر چلیں جائیں یا منہ بسور کر بیٹھ جائیںتو فوراًپتا چل جاتا ہے کہ وہ غصے میں ہیں اور ان میں موجود غصہ والدین کی نا فرمانی کی وجہ بنتا ہے۔ان حالات میں والدین کو طیش میںآّنے کی بجائے ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہیے کہ آخر بچہ ایسے کیوں کررہا ہے۔ صرف اس صورت میں بچوں کی نافرمانی کی اصل وجہ کا پتہ چل سکتا ہے ورنہ نافرمانی کا جواب غصے سے دینا حالات کو پیچیدہ بناتا ہے۔محترم قارئین آپکوکچھ وجوہات بتاتاچلوں جس سے بچوں میں نافرمانی اور ضدکارجحان بڑھتاجارہاہے ۔معاشرے میں جاری مسلسل تبدیلیاں اور عمومی طرز زندگی میں بدلاؤ ہے۔ والدین کے پاس بچوں کو دینے کے لئے معیاری وقت کی کمی ہے جس کی وجہ سے والدین اور بچوں کے درمیان بہترین تعلق اور اعتماد کا رشتہ قائم نہیں ہوپاتا رفتہ رفتہ ضد نافرمانی کی عادت پختہ ہوتی چلی جاتی ہے۔بیرونی اثرات بچے کی صحبت ایک بڑی وجہ ہے۔ اکثروالدین یہ تک نہیں جانتے کہ ان کے بچوں کے ساتھی کس ماحول سے تعلق رکھتے ہیں۔ کم فیس زیادہ فیس والے بچوں کی وجہ سے بچے والدین سے جھگڑتے ہیں کیونکہ کوئی بچہ خود کو دوسرے سے کم ترنہیں دیکھناچاہتاجس وجہ سے والدین کیلئے مسائل پیداہوتے ہیں اورنافرمانی کی وجوہات جنم لیتی ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا جس میں ٹک ٹاک فیس بک کازیادہ استعمال بچوں کی ضد اورنافرمانی کاسبب ہے۔ نا سازگار خاندانی حالات بھی بچے کے رویےّ کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔ اکثرخاندانوں میں دیکھاجاتاہے کہ بڑوں کے جھگڑوں کے بعدبچوں کوروک دیاجاتاہے کہ اپنے حقیقی چاچو،مامو،پھپھا،کزن وغیرہ سے تعلق نہ رکھے بچے کے گِردوپیش کے معاشرتی حالات ، اس کا درونِ خانہ افراد سے تعلق میں بگاڑ۔ اس کی وجہ بنتے ہیں اگر بچے کے گھر گلی مدرسے کے اکثر لوگ لڑائی جھگڑوں اور فساد وغیرہ میں الجھے رہتے ہوں تو اس میں سرکشی کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ہم انسان ہیں اورمسلمان ہیں ہمیں اپنی پیدائش کا مقصدپتاہوناچاہیے جب پنی پیدائش کا مقصد معلوم ہوگیا تو کبھی بھی اپنے مقصد سے غافل اور بے نیاز نہیں ہونا چاہیے؛ کیوں کہ اس دنیا میں جن لوگوں نے اپنے مقصد کو پیش نظر رکھا وہ یہاں سے کامیاب و سرخرو ہوکر گئے اور یقیناً آخرت میں بھی وہ خوش انجام ہوں گے۔ اور جن لوگوں نے اپنی پیدائش کا کوئی مقصد ہی نہیں جانا فضول وعبث کاموں میں لگ کر عمر برباد کرچلے، دنیا میں ممکن ہے انھیں کچھ جاہ وشہرت مل گئی ہو مگر ایسے لوگوں کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔اس لیے اپنے بچوں کودنیاوی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم لازمی دلوائیں اوربچوں کوبتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کے لیے ایک نمونہ اور آئیڈیل بناکر بھیجا ہے؛ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جنھوں نے ان کے نقش قدم کی پیروی کی وہ زندگی کے ہر محاذ پر شادکام ہوتے ہوئے اپنے مالک ومولا سے جا ملے؛ لہٰذا آؤ ہم بھی اپنے نبی کی بتائی ہوئی سنت اور اُن کی لائی ہوئی شریعت پر عمل پیرا ہونے کا عہد کریں تاکہ دونوں جہاں کی کامیابیوں میں سے ہمیں بھی کچھ حصہ مل جائے؛ کیوں کہ کامیابی کی ہر خیرا ت مصطفیٰ کی دہلیزہی سے تقسیم ہوتی ہے۔ہمیں بچوں کوسمجھاناچاہیے کہ وہ زندگی کے جس موڑپر کھڑے ہو وہ بڑا ہی نازک موڑ ہے، عادتیں وہیں سے بنتی اوربگڑتی ہیں۔ لہٰذا اخلاقی تربیت نہایت ضروری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: