کالم

پیدائشی ولی حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی ؒ

عامر نصیر راجپوت

حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی ولادت رمضان 470 ہجری بمطابق 1078عیسوی شمالی فارس کے بحیرہ خزر (کیسپین) کے جنوبی ساحل کے گیلان نامی زرخیز صوبہ کی بستی نیف میں ہوئی۔ آپ کے والد گرامی کا نام شیخ ابو صالح جنگی دوست موسیٰؒ اور والدہ محترمہ کا نام سیدہ ام الخیر امتہ الجبار سید عبدالله صومعی ہے، آپ سلسلہ نسب کے لحاظ سے والد کی جانب سےحسنی سید اور والدہ کی جانب سے حسینی سید تھے۔ آپ کے والدین زہد و تقویٰ کے بے مثال نمونہ تھے، آپ اپنے والدین سے قرآن پاک حفظ کرنے اور ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعدمکتب میں داخل ہو گئے۔ آپ بچپن سے ہی کھیل کود سے دور رہتے تھے، آپ فرمایا کرتے تھے کہ ہم کھیل کود میں وقت ضائع کرنے کے
لئے نہیں پیدا کئیے گئے، جب آپ دس سال کے تھے تو آپ کے والد گرامی کا سایہ سر سے اٹھ گیا پھر 17 سال کی عمر تک اپنی عظیم المرتبت والدہ کے زیر سایہ دینی تعلیم حاصل کرتے رہے۔ آپ نے تحصیل علم کے لئے سفر بغداد 488 ہجری بمطابق 1095 عیسوی میں اٹھارہ سال کی عمر میں کیا۔ جب آپ حصول علم کے لئے سفر بغداد پر جانے لگے تو آپ کی والدہ نے زاد راہ 40 دینار آپ کے کرتے یعنی قمیض کے اندر سلائی کر دئیے اور جاتے ہوئے ایک نصیحت کی کہ بیٹا نماز کی پابندی کرنا اور ہمیشہ سچ بولنا جھوٹ نہیں بولنا۔ سفر بغداد کے دوران راستے میں ڈاکوؤں کا قافلے کو لوٹنا، ایک ڈاکو کا آپ کے پاس آنا، آپ کا چالیس دینار کے بارے میں سچ بولنا، ڈاکوؤں کا آپ کو اپنے سردار کے پاس لے جانا اور ڈاکوؤں کے سردار کا آپ کی سچائی اور والدہ کے حکم کی تابعداری سے متاثر ہو کر اپنے ساتھیوں سمیت اسلام قبول کرلینا۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کو دنیا غوث اعظم کے نام سے جانتی ہے آپ نہ صرف بہت بڑے عالم دین تھے بلکہ بہت عظیم المرتبت اللہ کے ولی گزرے ہیں۔ تمام علماء اور اولیاء اس بات پر متفق ہیں کہ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ مادر زاد ولی یعنی پیدائشی ولی ہیں۔ آپ کی ویسے تو بہت سی کرامات ہیں سب کا تذکرہ کرنا ممکن نہیں ہے آپ کی ایک کرامت یہ کہ آپ جب پیدا ہوئےتو ماہ رمضان میں طلوع فجر سے غروب آفتاب تک کبھی ماں کا دودھ نہیں پیتے تھے گویا سارا دن روزے سے رہتے تھے۔ دوسری کرامت یہ کہ آپ نے ساری زندگی دین کی تبلیغ و اشاعت میں گزاری۔ آپ کا دین کی تبلیغ و اشاعت کے سلسلہ میں دور تقریباً 40 سالوں پر مشتمل ہے آپ نے ہزاروں غیر مسلموں کو اسلام کی دولت سے فیض یاب کیا۔ آپ سلسلہ قادریہ کے بانی ہیں آپ کے مریدین دنیا کےہر کونے میں رہتے ہیں۔ شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا انتقال ہفتہ کی شب 8 ربیع الاخر 561 ہجری بمطابق 1122 عیسوی نواسی سال کی عمر میں ہوا۔ آپ کی تدفین بغداد میں آپ کے مدرسہ قادریہ کے احاطہ میں کی گئی اور اسی جگہ پر آپ کا مزار پر انوار ہے۔ پاکستان کے لئے یہ اعزاز اور سعادت کی بات ہے کہ آپ کے مزار مبارک پر جو جالی لگی ہے وہ چاندی کی بنی ہے اور وہ 1987 میں پاکستان کی طرف سے عطیہ کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: