کالم

’’قعرِ مذلت‘‘

غلام شبیر عاصم

ملک کے دگرگوں حالات کو چشمِ بیناسے دیکھیں تو چشمِ پُرآب کی بھی ’’آنکھیں کْھل جائیں گی‘‘،اطراف میں ایسے ایسے مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں کہ انسان انہیں محسوس کرکے دکھ و آلام اور مایوسی کی کیفیت میں اْترکر گویا موت کے قریب تر ہوجاتا ہے۔طبیعت گھٹن اور افسردگی تلے جیسے دب کر رہ جاتی ہے۔یہی کیفیت انسان کو’’ہارٹ اٹیک‘‘اور خودکشی جیسے منحوس ارادے کا شکار بنا دیتی ہے۔ہمارے قرب و جوار میں چہار سمت کرب اور مایوسیوں کے ایسے جان لیوا سائے’’تلخیوں کی دھوپ‘‘بن کر ٹھہر چکے ہیں کہ زندگی کسی باگھ کی تاک میں مغموم آہُو سی بنی سہمی ہوئی ہے۔کرب کی اِس کڑک دھوپ کو اِس نظم’’دُھپ‘‘میں ہم بخوبی محسوس کر سکتے ہیں۔
دُھپ ای دُھپ اے ،چار چوفیرے
سُکھ دی کِدھرے ،چھاں نئیں رہی
بندہ بندہ نِمْو جھانا ،سِر تے جیویں
ماں نئیں رہی
روز ای اینے ،قتل نیں ہُندے
قبراں لئی وی ،تھاں نئیں رہی
اس ساری صورت حال کے باوجود لوگوں پر حکومت کی طرف سے پے درپے مسائل کے تِیر برسائے جارہے ہیں۔حالانکہ عوام کو مسائل سے باہر نکالنا حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہے۔لیکن حالت یہ ہے کہ حکومت خود ہی بجائے وسائل کے مسائل کی موجب و موجد ٹھہرتی ہے۔ اب تو غم سہنے کی بھی لوگوں میں سکت نہیں رہی۔میڈیا کی خبریں دِلوں اور ذہنوں پربُرا اثر ڈال رہی ہیں۔قوتِ برداشت کا فقدان خودکشیوں کی شرح میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔اخبارات میں بعض خبریں بظاہر سِنگل یا بمشکل ڈبل کالم کی حیثیت رکھتی ہیں،مگر وہ اپنے اثرات کے حساب سے کسی خطرناک وائرس سے کم نہیں ہوتیں۔علاج معالجہ کی شکل میں مریض اور ورثاء کے لئے پریشانیوں کا مزید ایک نیا دروازہ کُھل جاتا ہے۔آج اخبارات میں سِنگل اور ڈبل کالم کی خبر ہے کہ روٹی 14،نان 22روپے کا ہوگیا،باسمتی چاول 20 روپے کلو مہنگے ہوگئے ہیں۔بظاہر یہ چھوٹی سی خبر ہے مگر عوام پر کتنا بُرا اثر ڈالے گی حکومت شاید اندازہ نہیں کرسکتی۔یہ خبر مسائل زدہ غریب عوام کے اعصاب پر تازیانے کی طرح کام کرجائیگی۔دل و دماغ پر پہلے ہی سے’’پھن بکھیر کر‘‘بیٹھے ہوئے دکھ کے اژدھا کو مزید وحشی اور زہریلاکردے گی۔ بھوکوں مرنے والے لوگوں کی بھوک روٹی کھانے سے بھی اتنی جلدی نہیں اترتی،ایسی خبریں سُننے پڑھنے سے جتنی جلدی مرجاتی ہے۔یہاں یہ بات بڑی موزوں بیٹھتی ہے کہ’’روٹی بندہ کھا جاندی اے‘‘۔روٹی اور اس کے لوازمات جب مہنگے ہوتے ہیں تو لوگوں میں پریشانی بڑھ جاتی ہے،گھریلو جھگڑے،چوریاں، سٹریٹ کرائم،قتل و غارت،راہزنی اور خودکشی کی شرح بہت اوپر چلی جاتی ہے۔غربت اور بھوک،عزت و آبرو کے معانی و مفاہیم بدل کر رکھ دیتی ہے جیسا کہ
ہر کوئی ایتھے، عزت چاہندا اے
بھاویں عزت آپ،چڑھاوے،چڑھ جاوے
عزت و شہرت اور روٹی کی بھوک انسان کو موت تک پہنچنے پر بھی مجبور کردیتی ہے۔پیٹ کی بھوک کے ہاتھوں تنگ آکر کئی گھروں اور قبیلوں کی ’’عزتیں‘‘اپنی عزتوں کو مجبوری کی بھینٹ چڑھا دیتی ہیں۔جب پیٹ میں بھوک ناچتی ہو تو ایسے حالات میں روٹی حاصل کرنے کے لئے ’’عزت کی قربانی‘‘دے دینا تکلیف دہ عمل محسوس نہیں ہوتا۔ بلکہ حلق سے پیٹ تک اترتی ہوئی روٹی کا مزہ سب لذتوں سے بڑھ کر وقتی طور پر تمام ملامتوں ، کراہتوں اور قباحتوں کا گلا گھونٹ دیتا ہے۔حکمران نان روٹی اور آٹے کی قیمت میں اضافہ کرتے وقت شاید اپنے اس اقدام کے گھمبیر نتائج پر غور نہیں کرتے کہ بظاہر ایک نان،روٹی یا مْشت بھر آٹا کا مسئلہ کئی لوگوں کی ناحق موت اور عصمت دری کا سبب بن سکتا ہے۔امیروں کے لئے سو روپے والی شے دو سو کی بھی ہوجائے تو کوئی قیامت نہیں آئے گی۔مگر اس کے برعکس غریبوں کے لئے پانچ روپے والی شے دس روپے کی ہوجائے تو اسے خریدنا غریب کے لئے جوئے شیرکھودنے کے مترادف ہوتا ہے۔
حکمرانوں کو اپنی رعایا کے مسائل اور دکھوں سے گہری واقفیت ہونی چاہئے،نظامِ حکومت کی بنیاد رعایا کے حقوق کے تحفظ اور مسائل کو جانچنے ،پرکھنے اور انہیں حل کرنے پر ہوتی ہے۔ملک کے عوام کے مسائل حل کرکے انہیں لوازمات زندگی میں آسانی اور ان کا جمہوری مقام دے کر حکومت کو خود کو ’’کارِ خیر‘‘کا مصداق ٹھہراناچاہئے نہ کہ مسائل کے حل میں کوتاہی کرکے عوام اور اپنے آپ کو کسی’’ قعر مذلت‘‘ یعنی ذلت کے گڑھے میں گرا دینا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: