تازہ ترینکالم

ولی کون ہے؟کشف المحجوب کا ایک باب !

رانامحمد شفیق خاں پسروری

حضرت ابو الحسن علی بن عثمان ہجویری ؒروشن اسلامی تاریخ کا سنہرا باب، اولیائے کرام اور علم و دانش کے آسمان پر درخشاں ستارے ہیں۔ جب برصغیر میں مسلمان سپہ سالاروں نے قدم رکھا تو مثالی عملی زندگی سے یہاں مسلمان صوفیائے کرام اور اولیاء نے اسلام کی تبلیغ کی۔ انہوں نے بتایا کہ مشکل زندگی کس طرح آسان اور فلاحی بنانا ممکن ہے۔ اس ضمن میں انہوں نے اسلام کے فلسفہ ء حیات کی تعبیر و تفسیر مقامی زبان اور اندازسے کی اور زندگیاں بدل کر بھی رکھ دیں۔ حضرت علی ہجویری داتا گنج بخش اولیاء اور صوفیا میں سر فہرست اور برصغیر کے سب سے بڑے صوفی شاعر اور مبلغِ اسلام مانے جاتے ہیں۔ افغانستان کے ایک چھوٹے مگر بلنداور گرما میں ٹھنڈے شہر غزنی میں آپ کی ولادت ہوئی جو غزنوی عہد کی عظمت کی علامت اور دارالخلافہ ہونے کے ساتھ ساتھ ہڑپہ اور سندھ کا عم عصر اور خراسان و سندھ کی تجارتی مارکیٹ کا بھی مرکز تھا۔
اس شہر کے دو محلے’’ہجویر‘‘ اور ’’جلاب‘‘ کے نام سے اپنی خاص شہرت رکھتے تھے۔ ہجویر کے ساتھ جلاب محلے کی مناسبت سے آپ کو جلابی بھی کہا جاتا ہے لیکن اصل شہرت ہجویری ہی ہے۔حضرت ابو الحسن علی بن عثمان ہجویری ؒ کی کتاب’’ کشف المحجوب‘‘ کے مطابق آپ کا معززو متمول دیندار خاندان بھی انہی میں سے ایک محلے ہجویر میں آباد تھا۔ کئی کتابوں میں آپ کی ولادت کا سال 400ہجری اور 1000ء ہے لیکن بعض مورخین کے مطابق1002ء ہے۔ آپ حسنی سید تھے اور آپ کا سلسلہ نسب حضرت علیؑ سے جاملتا ہے۔ یہ وہ خاندان ہے جو واقعہ کربلا میں شہید نہیں ہوا تھا اور ہجرت کر گیا تھا۔ واقعہ کربلا کے بعد اس مقدس خاندان کا منقسم ہونا اور ہجرت کرنا تسلیم شدہ ہے۔حضرت ابو الحسن علی بن عثمان ہجویری ؒ کے اباؤ اجداد علمی و مالی طور پر متمول،اور تقویٰ، پرہیزگاری اور اسلام سے گہری عقیدت و لگاؤ رکھنے والے تھے۔ خاندان کے زیادہ تر افراد ایرانی تھے جس کی وجہ سے آپ کی شادی بھی ایرانی خاتون سے ہوئی غالباً آپ کی والدہ بھی ایرانی تھیں ۔
آپ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب’’کشف المحجوب‘‘ بھی عربی کے بجائے فارسی میں ہی لکھی۔ والدین نے آپ کا نام ابو الحسن علی رکھا لیکن تعلیم، تدریس ،تبلیغ ،عمل اور سخاوت نے آپ کو عظیم صوفی سے حضرات داتا گنج بخش(خزانہ بخشنے والا)بنادیا اور اسی نام سے آپ کی بچے بوڑھے عام انسان تک پہچان ہے۔ کشف المحجوب میں آپ نے اپنے نام علی بن عثمان بن علی ال جلابی الغزنوی الہجویری لکھا ہے۔ گنج بخش کا نام آپ کو حضرت غریب نواز معین الدین چشتی نے دیا ۔انہوں نے آپ کے مزار پر چالیس روز تک چلہ کاٹا اور آپ کے لئے لکھا:
گنج بخش فیضِ عالم مظہر نورِ خدا
ناقصاں راہ پیر کامل، کاملاں راہ رہنما
یہ لکھے جانے کے بعد آپ گنج بخش کے نام سے مشہور ہوئے۔ یہ شعر آج بھی مزار پر سنگ مرمر سے کندہ ہے۔ حضرت داتا گنج بخش قرآن فہمی، روایات، تاریخ،فقہ اور منطق کے علوم کے ماہر تھے اور آپ کا اصل مشن لوگوں کو اسلام کا حقیقی چہرہ دکھانا، مذہب سکھانا اور قرآن پاک کے بتائے ہوئے راستے سے روشناس کرانا تھا۔ آپ کی کتاب کشف المحجوب میں آپ نے اس کا احاطہ بھی کیا ہے۔ آپ نے کشف المحجوب کے علاوہ کشف الاسرار، منہاج الدین( یہ کتاب اصحابِ صفہؓ کے مناقب پر تھی) الرعایتہ الحقوق،کتاب الفناد،اسرار الحزاق المؤنات، سحر القلوب اور کتاب البیان لاہل لعیان بھی لکھیں۔ آپ کمال کے شاعر بھی تھے جس کا ذکر آپ نے خود اپنی کتاب کشف المحجوب میں بھی کیا ہے۔
آپ نے تعلیم اور رشدوہدایت کے لئے ثمر قند، ازربائیجان، تبریز،مصر، بغداد اصفہان، ہرات،کرمان،دمشق،فرغانہ اور بلخ سمیت کئی مقامات کا سفر کیا۔ حضرت نظام الدین اولیاؒ کی کتاب کے مطابق جب آپ کے مرشد حضرت ال حطالی نے آپ کو لاہور پہنچنے کا حکم دیا تو اس وقت آپ ؒ سے پہلے آپ کے پیر بھائی حضرت حسین زنجانیؒ یہاں اسلام کی خدمت پر مامور تھے۔آپ نے استاد محترم سے سوال کیا کہ وہاں حسین زنجانیؒ موجود ہیں، میری کیا ضرورت ہے؟ لیکن شیخ نے فرمایا، نہیں تم کوئی سوال کئے بغیر جاؤ۔ فرماتے ہیں کہ میں رات کے وقت پہنچا اور صبح کو حسین زنجانیؒ کا جنازہ شہر سے باہر لایا گیا۔ آپ نے ان کا جنازہ پڑھا۔ تب آپ کو ہر سوال کا جواب مل گیا کہ مرشد نے حکم کیوں دیا تھا؟ یہاں اسلام کے لئے کرنے والا بہت کام تھا۔ مورخین میں یہ اختلاف رائے کہ آپ 1034،1035میں لاہور آئے لیکن جب آپ لاہور آئے تو اس وقت شیخ حسین زنجانیؒ کی وفات ہوئی جو 1034ہے اور آپ کا مزار لاہور کے علاقے چاہ میراں میں ہے۔ دوسرے بزرگ شاہ اسماعیلؒ کی وفات1048میں ہوئی اور آپ کا مزار لاہور کے ہال روڈ پر ہے۔سید محمد لطیف اور تحقیقات چشتی کے مطابق لاہور میں سب سے پہلے حضرت علی ہجویریؒ کے ہاتھوں اسلام قبول کرنے والے لاہور کے نائب حاکم رائے راجو کو شیخ ہندی کا نام دیا اور پھر ان جیسے با اثر افراد بعد میں مسلمان ہوئے تو انہوں نے بھاٹی دروازے کا نام ہجو یر گیٹ رکھ دیا تو اس پر اعتراضات اور بحث چھڑ گئی۔ ہندو لیڈر یہ معاملہ داتا صاحب کے پاس لے آئے، آپ نے فیصلہ کیا کہ اس کا نام جنے سنگھ یا ہجویر گیٹ کے بجائے پرانا نام بھاٹی گیٹ ہی رہنے دیا جائے۔
آپ کے فیوض و برکات کے ساتھ شہرت بڑھتی گئی اور قطب الاقطاب کے طور پر معروف ہوگئے۔ اس دوران روحانی تعلیم حاصل کرنے والے شاگردوں کی تعداد بھی مسلسل بڑھتی رہی ،آپ کی زندگی میں ایک خانقاہ اور مسجد موجود تھی۔یہ مسجد1279میں دوبارہ تعمیر کی گئی تھی اورپھر 1960ء کے زلزلے نے بری طرح متاثر کی تو اس کی تعمیر نو کی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ جب مسجدتعمیر ہوئی تو کچھ لوگوں نے خیال ظاہر کیا کہ اس کا قبلہ درست رخ پر نہیں ہے۔ اس میں مغرب کے بجائے شمالی کی طرف جھکاؤ ہے۔ ایک روز حضرت داتا صاحب نے خودنماز کی امامت کرائی اور قبلہ رخ درست ہوگیا۔ جب اس کی پیمائش کی گئی تو وہ بالکل قبلے کی سمت میں تھا ،اس کرامت سے اعتراضات ختم اور یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہوگیا۔ آپ کی کتاب’’کشف المحجوب‘‘ صوفی ازم پر فارسی میں لکھی جانے والی کتاب ہے۔ اگرچہ آپ عربی کے بہت بڑے سکالر تھے لیکن پڑھنے والوں کی آسانی کے لئے آپ نے فارسی کا انتخاب کیا۔کیمبرج یونیورسٹی کے عربی و فارسی کے استادپروفیسر آراےنولسن نے اس کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔اس کا پہلا ایڈیشن1911دوسرا1936اورپھر1959میں تیسرا ایڈیشن شائع ہوا۔ اس کتاب میں حضرت داتا گنج بخش کے تعارفی حصے میں لکھا گیا ہے کہ یہ کتاب اس میں حضرت ابو سعید کی طرف سے اٹھائے جانے والے بعض معاملات کے جواب شامل کئے گئے ہیں۔ اس میں تصوف اور صوفی ازم اور خدا کے بتائے ہوئے راستے کا علم ہے اور یہ ایک جامع کتاب ہے جو اللہ کی طرف اس کے بندے کی لولگاتی ہے۔
حضرت داتا گنج بخش جب لاہور تشریف لائے تو تب خانقاہ موجود تھی۔ مقامی لوگوں(عقید تمندوں) کی مدد دے آپ نے یہاں مسجد بھی تعمیر کرلی جسے کشتی مسجد کہا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ مسجد محمود غزنوی کے بیٹے مسعود غزنوی کے بعد سلطان ابراہیم نے بنائی۔ ستر کی دہائی میں بھٹو دور میں ایرانی حکومت کے تعاون سے ایک گولڈن گیٹ بنایا گیا۔ مزار کے پاؤں رخ اور عمارت کے شمال میں یہ سونے والے گیٹ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دورِ حاضر میں نواز شریف حکومت نے داتا دربار کمپلیکس تعمیر کیا۔ تین منزلہ کمپلیکس میں مسافر خانہ، لائبریری ، قرآن محل پارکنگ، سماع ہال،اور لنگر خانے کو وسعت دی گئی ہے۔ جس طرح حضرت داتا گنج بخش کا مزار مرجع خلائق ہے اسی طرح عقیدت مندوں نے اپنے تئیں عمارت بھی خوبصورت ترین بنانے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ بد قسمتی سے یہ مزار بھی دہشت گردی کا نشانہ بنا لیکن اس سے عقیدت مندوں اور زائرین کی تعداد پر فرق نہیں پڑا بلکہ اعداوشمار بتاتے ہیں کہ آنے والوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ دہشت گردی کے افسوس ناک واقعے کے بعد یہاں تمام راستوں سیکیورٹی گیٹ لگا دیئے گئے ہیں۔ زائرین کی تعداد بہت زیادہ ہونے کے باوجود سیکیورٹی اہلکاروں اور زائرین نے تلاشی کے عمل پر شکوہ نہیں کیا بلکہ سیکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ یہی حقیقی عقیدت ہے اس طرح کی تلاشی کا پر امن عمل کسی اور مقام پر ممکن نہیں ہوسکا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: