کالم

جنسی ہراسگی ۔ایک معاشرتی ناسور

جویریہ انور۔یونیورسٹی آف سنٹرل پنجاب

کس قدر بڑا المیہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں جو چیز بہت تیزی سے پھیل رہی ہے اور اسے نظر انداز کیا جا رہا ہے وہ بے راہ روی اور جنسی ہراسگی ہے ۔ اسی جنسی ہراسگی کی وجہ سے کئے مسکراتے پھول اپنی مسکراہٹ کھو بیٹھتے ہیںاور ان کی زندگی میں زہر پھیل جاتا ہے ۔اگر ہم حقیقت کے تناظر میں دیکھیں تو یہ مرض معاشرے میں تیزی کے ساتھ پھیلتا جا رہا ہے ۔ اسی جنسی ہراسگی کی لپیٹ میں آکر کئی خاندان تباہ ہو چکے ہیں۔ویسے تو اس جنسی ہراسگی کے لاتعداد واقعات ہیں لیکن کچھ عرصہ قبل موٹر وے پر ہونے والے سانحہ نے پوری قوم کو ہلاکر رکھ دیا تھا۔اس سانحہ میں عورت بے چاری کا صرف اتنا قصور تھا کہ وہ اپنے دو معصوم بچوں کے ہمراہ موٹروے پر سفر کر رہی تھی۔اس اطمینان کے ساتھ کہ وہ ایک اسلامی ری پبلک آف پاکستان میں ہے اوربالکل محفوظ ہے ۔ اس قسمت کی ماری عورت کو کیا معلوم تھا کہ سڑک کے کنارے دو درندے اس کی طاق میں بیٹھے ہیں جو معصوم بچوں کی معصومیت کو روندتے ہوئے وہ کچھ کر جائیں گے جو پوری عمر ان کے لیے گہرے صدمے کا باعث بن جائے گا۔المیہ یہ ہے کہ آج اتنی مدت گزرنے کے باوجود بھی اس متاثرہ خاندان کو انصاف نہیں ملا ۔ اسی طرح ایک اور دلخراش واقعہ سوات میں پیش آیا جہاں ایک لیڈی ہیلتھ ورکر شہناز کو مسلسل چار سال تک ہراساں کیا گیا۔ شوہر کے انتقال کے بعد ان کے لیے اپنے گھر کا چولہا جلتا رکھنے کے لیے اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا کہ وہ کوئی ملازمت کریں۔ان کے شوہر ٹیکسی ڈرائیور تھے اور اپنی محنت کے معاوضے سے گھر کا خرچہ پورا کرتے تھے۔ لیکن جب ان کا دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا تو شہناز کے پاس کوئی ملازمت تلاش کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا تھا۔ وہ کہتی ہیں:
’’مجھے کئی اعلیٰ افسروں کی منت سماجت اور سفارشوں کے بعد ایک بنیادی مرکز صحت میں ہیلتھ ورکر کی نوکری مل گئی۔ میں روزانہ دفتر جاتی تو راستے میں بھی مجھے حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ لوگ نامناسب جملے کستے۔ مجھے ذہنی تکلیف ہوتی۔ مجھے دفتر میں بھی کئی ساتھی کارکنوں اور افسران کی جانب سے ہراساں کیاجاتا تھا۔‘‘۔شہناز نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے ساتھی کارکنوں میں سے کئی ملازمین انہیں موبائل فون پر غیر اخلاقی پیغامات بھیجتے اور کئی بار گفتگو میں بھی براہ راست طرح طرح کی پیشکشیں کی جاتیں۔ ’’میں تقریباً چار سال تک اس عذاب میں مبتلا رہی۔ پھر ایک دن میں نے ہمت کی اور اپنے دفتر کے کارکنوں کا سامنا کیا۔ میں نے غصے میں انہیں گالیاں بھی دیں، جس کے بعد میرے لیے وہاں کے حالات کچھ بہتر بھی ہو گئے تھے۔‘‘ ۔
قارئین کرام !ان دو واقعات سے آپ کو اندازہ ہو گیا ہوگا کہ وطن عزیزمیں جنسی ہراسمنٹ کس قدر سنگین صورت اختیار کر چکی ہے ۔جنسی ہراسمنٹ کے سنگین واقعات روزانہ دفتروں،کام کاج کی جگہوں اور تعلیمی اداروں میں رونما ہوتے ہیں جو ہمارے معاشرے کے چہرے پر ایک بدنما داغ کی مانند ہیں۔ یہ بات بالکل ناقابل برداشت ہے کہ اسلامی ملک میں رہتے ہوئے اسلامی قوانین کے باوجود آج بھی ایسے درندے پھر رہے ہیں جو موقع کی تلاش میں رہتے ہیں اور موقع ملتے ہی لوگوں کی زندگیوں کو جہنم بنا کر رکھ دیتے ہیں۔میری ان سطور کے توسط سے ارباب اقتدار سے گزارش ہے کہ خدارا ایسے درندہ صفت انسانوں سخت سے سخت سزائیں دی جائیں اوران کو کیفر کردار تک پہنچایاجائے تاکہ ہمار ا چمن خاردار جھاڑیوں سے پاک رہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: