کالم

ایف آئی آر

ستار چوہدری

یہ واقعہ ٹیکساس کی ایک قصباتی کورٹ کا ہے۔ملزم ایک 15 سالہ میکسیکن نژاد لڑکا تھا، ایک سٹور سے چوری کرتا ہوا پکڑا گیا پکڑے جانے پر گارڈ کی گرفت سے بھاگنے کی کوشش کی ،مزاحمت کے دوران سٹور کا ایک شیلف بھی ٹوٹاتھا۔
جج نے فرد جرم سنی اور لڑکے سے پوچھا!
تم نے واقعی کچھ چرایا تھا؟
بریڈ اور پنیر کا پیکٹ چرایا تھا،لڑکے نے اعتراف جرم کرلیا۔
کیوں؟
ضرورت تھی،لڑکے نے مختصر جواب دیا۔
خرید لیتے !
پیسے نہیں تھے ۔
گھر والوں سے لے لیتے !
گھر میں صرف ماں ہے،وہ بیمار اور بے روزگار ہے،بریڈ اور پنیر اسی کے لئے چرائی تھی۔
تم کچھ کام نہیں کرتے ؟
کرتا تھا،ایک کار واش میں۔
ماں کی دیکھ بھال کے لئے ایک دن کی چھٹی کی تو نکال دیا گیا۔
تم کسی سے مدد مانگ لیتے !
صبح سے مانگ رہا تھا،کسی نے مدد نہیںکی۔
جرح ختم ہوئی اور جج نے فیصلہ سنانا شروع کردیا۔
یہ فیصلہ کیا ہوا بعد میں بتاتا ہوں۔پہلے آتے ہیں پاکستان کے سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جن پر3نومبر کو وزیرآباد میں قاتلانہ حملہ ہوا۔آج16 روز ہوگئے ہیں ابھی تک ان کی مرضی کےمطابق ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔قانونی ماہرین کے مطابق اگر ایک واقعہ ایسا ہوا ہو جس کے ابتدائی شواہد بھی پولیس کے پاس موجود ہوں اور پولیس کو پتہ ہو کہ ایسا واقع ہوا ہے تو پولیس پابند ہے کہ وہ سب سے پہلے اس واقعے کی ایف آئی آر درج کرے۔ قانونی طور پر پولیس مقدمہ درج کرنے سے کسی صورت بھی انکار نہیں کر سکتی۔ سب سے پہلے پولیس نے مقدمہ درج کرنا ہوتا ہے، اس کے بعد وہ باقی کارروائی کا آغاز کرتی ہے۔پولیس اس بات پر بھی اعتراض نہیں کر سکتی کہ درخواست گزار نے مقدمے کے لیے دی جانے والی درخواست میں کسی شخص کو ملزم نامزد کیا ہے تو وہ غلط ہے ،اس کا نام نکالا جائے۔ ایف آئی آر درج کرنے کی سطح پر پولیس انکوائری یا تحقیقات نہیں کر سکتی۔ پہلے پولیس کو ایف آئی آر درج کرنا ہو گی، اس کے بعد وہ انکوائری یا تحقیقات کر سکتی ہے۔تحقیقات کے بعد اگر پولیس اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ درخواست گزار نے کسی فریق کا نام غلط درخواست میں دیا ہے اور وہ اس میں ملوث نہیں ہے تو پولیس عدالت میں اس حوالے سے الگ نوٹ جمع کروا سکتی ہے یا منسوخی کے لیے عدالت کو کہہ سکتی ہے ،تاہم ہر صورت میں پولیس نے ایف آئی آر ضرور درج کرنا ہوتی ہے۔
اب چلتے ہیں ٹیکساس کی قصباتی عدالت میں،جج نے فیصلہ سناتے ہوئے کہاچوری اور خصوصاً بریڈ کی چوری بہت ہولناک جرم ہے اور جرم کے ذمہ دار ہم سب ہیں،عدالت میںموجود ہر شخص مجھ سمیت،اس چوری کا مجرم ہے۔میں یہاں موجود ہر فرد اور خود پر 10 ڈالر جرمانہ عائد کرتا ہوں۔ دس ڈالر ادا کئے بغیر کوئی شخص کورٹ سے باہر نہیں جاسکتا۔یہ کہہ کر جج نے اپنی جیب سے 10 ڈالر نکال کر میز پر رکھ دیئے ۔اور کہا کہ میں سٹور انتظامیہ پر 1000 ڈالر جرمانہ کرتا ہوںکہ اس نے ایک بھوکے بچے سے غیر انسانی سلوک کرتے ہوئے، اسے پولیس کے حوالے کیا ۔اگر 24 گھنٹے میں جرمانہ جمع نہ کرایا گیا تو کورٹ سٹور سیل کرنے کا حکم دے گی۔فیصلے کے آخری ریمارکس یہ تھے ۔سٹور انتظامیہ اور حاضرین پر جرمانے کی رقم لڑکے کو ادا کرتے ہوئے، عدالت اس سے معافی طلب کرتی ہے۔ناظرین کا کہنا تھا کہ فیصلہ سننے کے بعد حاضرین تو اشک بار تھے ہی اس لڑکے کی تو گویا ہچکیاں بندھ گئی تھیں اور وہ بار بار جج کو گاڈ، گاڈ کہہ کر پکار رہا تھا۔یہ کفر کے معاشرے ایسے ہی نہیں پھل پھول رہے اپنے شہریوں کو انصاف ہی نہیں عدل بھی فراہم کرتے ہیں جس کے باعث وہ آج بھی قائم ہیں اور ہم ’’مومنوں‘‘ کے معاشرے دن بدن زوال پزیر ہورہے ہیں۔وجہ صرف ایک ہی ہے،انصاف کی عدم فراہمی۔ایک سابق وزیراعظم اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی پارٹی کے چیئرمین جن کی پنجاب،پختونخوا ،گلگت بلتستان اورآزاد کشمیر میں حکومت بھی ہو وہ ایف آئی آر درج نہیں کراسکے،عام آدمی کا کیا حال ہوگا؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: