کالم

ایمپلی فائر ایکٹ

محمد اصغر بھٹی

ایف آئی آر کے لغوی معنی ہیں فرسٹ انفارمیشن رپورٹ۔کوئی بھی ایسا جرم جو قابل دست اندازی پولیس ہو۔اُسے قریبی تھانہ میں رجسٹر کرایا جا سکتا ہے۔تھانہ میں موجود ڈیوٹی افسر مجاز ہے کہ وہ قابلِ دست اندازی پولیس کسی بھی جرم پر درخواست موصول ہونے کے بعد ایف آئی آر کا اندراج کرے۔یہ ڈیوٹی افسر اے ایس آئی یا ہیڈ کانسٹیبل رینک کا افسر ہو سکتا ہے۔تھانہ میں آپ کو سب سے پہلے جس شخصیت سے واسطہ پڑتا ہے وہ ڈیوٹی محرر ہی ہوتا ہے۔اگرچہ اُس کا ’’رینک ‘‘بہت چھوٹا ہوتا ہے لیکن ایس ایچ او کے بعد سب سے زیادہ اختیار وہی رکھتا ہے۔اُس کے پاس دفعات کے حوالے سے معلومات کا بے بہا خزانہ ہوتا ہے،کس جرم پر کیا دفعہ لگنی ہے، اُسے سب معلوم ہوتا ہے۔اگر کسی ایسے وقوعہ پر مبنی درخواست آجائے کہ جس کے متعلق اُسے خود بھی معلوم نہ ہو کہ اِس جرم کے سرزد ہونے پر کیا دفعہ لگنی ہے تو وہ اپنے سینئرز سے رابطہ کرتا ہے۔مزید معلوم نہ ہونے کی صورت میں پولیس کالیگل ڈیپارٹمنٹ اُس کی مدد کو آجاتا ہے۔یوں وہ اُن کی مدد اور راہنمائی سے پرچے کا اندراج کر لیتا ہے۔
ایف آئی آر کے اندراج کی یہ ساری کارروائی فوجداری دفعات کے سیکشن 154 ت پ کے تحت عمل میں آتی ہے۔ایف آئی آر درج کرنے کا یہ بہت بڑا اختیار ہے جو قانون کسی بھی ڈیوٹی محرر کو دیتا ہے۔آپ سوچئے یہ کتنا بڑا اختیار ہے جس کی شنوائی لوئر کورٹس سے لے کر ملک کی سب سے بڑی عدالت یعنی سپریم کورٹ تک ہوتی ہے۔دونوں اطراف کے وکلاء درج کی گئی ایف آئی آر کے ایک ایک جملے اور ایک ایک لفظ پر بحث کرتے ہیں۔دلائل دیتے ہیں جس کی ایف آئی آر کمزور اور سقم زدہ ہوتی ہے وہ انصاف سے محروم رہتا ہے۔اکثر لوگ بے بنیاد اور بوگس واقعات کا سہارا لے کر بھی ایف آئی آر کا اندراج کراتے ہیں اور اکثر یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ جس ایف آئی آر کا اندراج کرانے جا رہے ہیں،عدالت میں اُسے ثابت بھی کرنا ہوتا ہے۔اکثر آٖپ نے دیکھا ہو گا کہ لوگ قتل اور ڈکیتی جیسے سنگین مقدمات میں بھی عدالتوں سے شک کا فائدہ اٹھا کر بری ہو جاتے ہیں۔وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایف آئی آر کا اندراج چونکہ کمزور بنیادوں پر ہوتا ہے جس کا فائدہ ہمیشہ دوسرا فریق عدالتوں میں اٹھاتا ہے۔
آج ہم ایمپلی فائر ایکٹ پر بات کریں گے۔بظاہر یہ کوئی جرم تصور نہیں ہوتا لیکن قانون نے اِسے جرم قرار دیا ہے۔اس کے لیے سزا بھی مقرر ہے۔ایمپلی فائر ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے کو نا صرف مستوجب سزا گردانا گیا ہے بلکہ یورپین معاشروں میں تو اس ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے والے کو نہایت مطعون سمجھا جاتا ہے۔ایمپلی فائر ایکٹ ہے کیا؟لائوڈ سپیکر کے غیر ضروری اور بے جا استعمال کو ایمپلی فائر ایکٹ کے تحت قابل سزا جرم قرار دیا گیا ہے۔حتیٰ کہ مساجد کے لیے بھی پابندی ہے کہ اُس کی چھت پر صرف ایک لائوڈ سپیکر نصب ہو،جو صرف اذان کے وقت ہی استعمال کیا جا سکتا ہے،اس کے علاوہ سپیکر کے استعمال کی اجازت نہیں۔البتہ انتقال وغیرہ کے اعلانات نشر کئے جا سکتے ہیں۔خلاف ورزی کرنے والے کو ایک لاکھ روپیہ تک جرمانہ اور چھ ماہ قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ایمپلی فائر ایکٹ کی خلاف ورزی پر ڈیرہ اسماعیل خان سمیت کئی شہروں میں بہت سی مساجد کے منتظمین کے خلاف قانونی کارروائی ہو چکی ہے۔انہیں جرمانے بھی ہوئے ہیں اور گرفتاریاں بھی عمل میں آئی ہیں۔
پی ٹی آئی کے چیئرمین سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف ایمپلی فائر ایکٹ کے تحت اسلام آباد کے آب پارہ تھانہ میں مقدمہ درج کیا گیا جس میں انہوں نے مقامی سیشن کورٹ سے اپنی ضمانت قبل از گرفتاری بھی کرائی۔ایمپلی فائر ایکٹ کی خلاف ورزی پر بہت سی مساجد کے خطیب بھی اس کی زد میں آئے اور انہیں قانونی موشگافیوں سے گزرنا پڑا۔ہمارے ہاں اکثر شادی بیاہ کے موقع پر اونچی آواز میں گانے لگائے جاتے ہیں جو ایک سنگین جرم ہے۔گھروں یا گاڑیوں میں بھی اونچی آواز سے گانے وغیرہ لگانا قانون کی نظر میں سنگین جرم مانا گیا ہے۔اونچی آواز میں گانے وغیرہ لگانے اور اونچی آواز میں بولنے سے اعصاب پر نہایت بُرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔اس سے انسانوں میں چڑ چڑا پن پیدا ہو جاتا ہے حتیٰ کہ تیز آواز سے ہارن بجانے کو بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ہسپتالوں کے پاس تو تیز ہارن بجانے کی قطعی اجازت نہیں لیکن ہمارے ہاں لوگوں کی اکثریت اس کو خلاف ورزی ہی نہیں سمجھتی۔جس سے اعصاب پر نہایت گہرے اور بُرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔بیرون ممالک میں تو لائوڈ ازم کو نہایت بُرا تصور کیا جاتا ہے۔وہاں ایسا رواج نہیں کہ کوئی تیز آواز میں گانے سنے یا ایسی کوئی حرکات و سکنات کرے۔آپ کی ہمسائیگی میں بھی اگر کوئی اس ایکٹ کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو آپ ون فائیو پر یا پھر علاقہ پولیس کو اس امر کی اطلاع دے سکتے ہیں اور پولیس مجاز ہے کہ آپ کی شکایت پر فوری کارروائی عمل میں لائے۔
بدقسمتی سے ہمارے ہاں سکولوں،کالجوں اور یونیورسٹیز کی سطح پر نصابی کتابوں کے پلندے تو موجود ہیں جو پڑھائے بھی جاتے ہیں لیکن روز مرہ ایکٹ کی بابت ایسے ایشو نصابی کتابوں کا حصّہ نہیں جن سے ہمیں آگہی اور شعور ملے۔ہمیں نچلی سطح پر اپنے بچوں کو بہت کچھ پڑھانے اور بتانے کی ضرورت ہے کہ شور یا لائوڈ ازم سے اعصاب کس قدر متاثر ہوتے ہیں۔ماہرین نفسیات سے پوچھا جائے تو آپ کو بتائیں گے کہ شور یا حد سے زیادہ لائوڈ ازم اعصاب پر کس قدر بھاری گزرتا ہے اور وہ اس سارے عمل کے بعد کس قدر تنائو کا شکار ہو جاتا ہے۔اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم گھر میں ہوں،گاڑی یا کسی پبلک مقام پر۔اپنی حد تک محدود رہیں۔کسی بھی چیز سے تجاوز کرنا انسانی معاشرے کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ہمیں اس سے گریز کرنا چاہیے۔جہاں آپ دیکھیں کہ آپ کی استدعا کو درخور اعتنا سمجھا جا رہا ہے اور کھلم کھلا ایمپلی فائر ایکٹ کی خلاف ورزی ہو رہی ہے آپ کو پورا اختیار ہے اور آپ پر لازم بھی ہے کہ متعلقہ شخص کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائیں اور پولیس کا بھی فرض ہے کہ وہ اس حوالے سے آپ کی پوری مدد کرے۔ہم سب قانون پر عمل کریں گے اور اس کا احترام کرنا سیکھیں گے تو معاشرے کو ایک بہترین معاشرہ بنا سکیں گے۔یقین مانیں قانون پر عملدر آمد میں ہی بھلائی ہے اور ہمیں بھلائی کے ان کاموں میں کسی طرح بھی پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: