شوبز

انڈسٹری کی بحالی کیلئے میگا بجٹ پنجابی فلموں کی ضرورت (الطاف حسین)

لاہور(اےآرگل) فلم انڈسٹری کے سینئرہدایتکار الطاف حسین نے کہا ہے کہ شان شاہد کی ڈائریکشن میں آنے والی فلم ’’ضرار ‘‘سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں،امید ہے کہ شان شاہد نے اپنی ناکام فلموں میں ہونے والی غلطیوں سے سبق سیکھ کر ’’ضرار ‘‘کو ہر خامی سے پاک کرلیا ہوگا،دعا ہے کہ فلم کامیاب ثابت ہو۔’’اومیگا نیوز ‘‘سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ فلم انڈسٹری اس وقت بحال ہوگی جب یہاں 2سے3کروڑ بجٹ کی کوئی پنجابی فلم کامیاب ہوگی ،بلال لاشاری کی ’’دی لیجنڈ آف مولاجٹ ‘‘فلم کی کامیابی سے انڈسٹری کو صرف یہ فائدہ ہواہے کہ پنجابی زبان دنیا بھر میں متعارف ہوگئی ہے ورنہ نہیں سمجھتا کہ35سے40کروڑ لگاکر کسی پرانی فلم کا ری میک بنایا جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ یونس ملک کی پرانی مولاجٹ ہر لحاظ سے بہتر فلم تھی اسی طرح ناصرادیب نے بھی پرانی فلم کی کہانی کے کردار اور مکالمے مضبوط لکھے تھے،تاہم نئی فلم میں جدید ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کیا گیا ہے۔میری پنجابی فلم ’’چار خون دے پیاسے ’’میں سلطان راہی کو کاسٹ کرنے کا پروگرام تھا جو پہلے میری ’’دیس میرا جی داراں دا ‘‘میں ولن کردار کرچکے تھے اوریہ فلم غرناطہ کے مقابلہ میں 37 ہفتہ تک زیر نمائش رہی،جب سلطان راہی سے بات نہ بنی تو مصطفی قریشی کو پہلی بارپنجابی فلم میں سائن کیااور وہ فلم ’’شکار ‘‘میں کام کے بعد فارغ تھے انہیں 10ہزار میں سائن کیا اور پنجابی لب ولہجہ بھی سکھایا۔فلم کے اختتام پر مصطفی قریشی کا مکالمہ ’’میں نئیں مراں گا ‘‘بہت مقبول ہواتھا۔اب بھی کئی فلموں کی آفرز ہیں لیکن کسی ایسی فلم کی ڈائریکشن نہیں دے سکتا جس سے میرا سابقہ کیریئر متاثر ہونے کا اندیشہ ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
%d bloggers like this: